واشنگٹن (ہمگام نیوز) امریکہ وزیر خارجہ جان کیری نے سنیٹ میں خارجہ امور کے کمیٹی کے سامنے آج خبردار کرتے ہوے کہا ہے کہ سوریا میں اگر جنگ مزید جاری رہا تو اسے متحد رکھنا بہت مشکل ہوگا ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ گوکہ روسی پشت پناہی میں سوریا کی فورسز نے حلب پردوبارہ قبضہ کرلیا ہے لیکن اس کے باوجود اس ملک کو متحد رکھنا بہت مشکل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بہت ‘‘جلد دیکھنا‘‘ ہے کہ اس جنگ میں متعلقہ فریق ممالک سوریا میں جنگ بندی کی معائدہ کے بارے میں سنجیدہ ہیں یا نہیں۔ اس حوالے ان کا مزید کہنا تھا کہ کئی ایسے اپشن موجود ہیں جن پر عمل درآمد کیا جا سکتاہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے کہ جب سوریا کی حکومت نے روس اور امریکہ کے درمیان طے پانے والے جنگ بندی کے معائدے کی تمام شرائط کو قبول کرلیا ہے۔ اس معائدے کے مطابق حکومت معتدل اپوزیشن کے خلاف مسلح کاروائیوں کو روکھ دیگی لیکن داعش، القائدہ اور دوسرے مزھبی انتہا پسندوں کے خلاف اپنی کاروائیوں کو جاری رکھے گی۔ یاد رہے کہ مزکورہ معائدہ امریکہ اور روس کے درمیان طے پایا تھا جس میں داعش اور القائدہ کو مشترکہ دشمن کے خانے میں رکھا گیا ہے۔ بیان میں معائدے کی مزید تفصیل بتاتے ہوئے کہ کیری نے کہا کہ سوریا کی حکومت اس بات پر راضی ہے کہ وہ 27 فروری کو جنگ بندی پر عمل درآمد کریگی جس میں روسی تعاون کے ساتھ اس بات کا تعین کریگا کہ کون کون سے مسلح گروہ اور علاقے اس جنگ بندی کے احاطے میں آئینگے۔ یہ بات کہا گیا ہے کہ اگر اپوزیشن گروپس کے طرف سے حملہ کیا گیا تو مسلح فورسز اپنا دفاعی حق رکھتے ہیں۔
زمینی حقائق کے روشنی میں تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ متواتر بدلتی ہوئی محاذ کی صورتحال اور بغاوت کاروں کی پیچیدہ تشکیل سے ایسا لگتا ہے کہ یہ جنگ پہلے ہی ناکامیاب ہوتی ہوئی نظر آرہی ہے۔
خاص کر شمالی سوریا میں کئی ایسے غیرعسکری گروہ ہیں جنکے تعلقات سوریا کے القائدہ شاخ النصرہ سے قائم ہیں ۔
بشکریہ رویٹر


