Homeخبریںکیچ قابض فورسز ہاتھوں جبری لاپتہ نوجوان کی گولیوں سے چھلنی نعش...

کیچ قابض فورسز ہاتھوں جبری لاپتہ نوجوان کی گولیوں سے چھلنی نعش برآمد ،بی وائی سی کی تحقیقات کا مطالبہ

کیچ ( ہمگام نیوز ) مقبوضہ بلوچستان کے علاقے بلیدہ کے رہائشی 24 سالہ چنگیز ولد محمد ابراہیم کو 4 ستمبر 2026 کو رات 11 بجے تربت کے علاقے آپسر سے قابض پاکستانی نیم فوجی ادارہ ایف سی اہلکاروں نے حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کردیا تھا ،گزشتہ دن ان کی گولیوں سے چھلنی نعش ملی ۔

سیاسی سماجی حلقوں نے واقعہ کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے اور کہاہے کہ پاکستانی فورسز انسانی حقوق کی دھجیاں اڑا رہے ہیں ،مگر دوسری جانب عالمی انسانی حقوق کے ادارے خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں ۔

واضح رہے گزشتہ روز مکران سے جبری لاپتہ دیگر 3 افراد کی بھی نعشیں ملی تھیں جنھیں فورسز نے قتل کرکے پھینک دیا تھا ۔

مزکورہ واقع کیخلاف بلوچ یکجہتی کمیٹی نے جاری بیان میں تفصیلات جاری کرتے ہوئے واقعہ کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ 24 سالہ طاہر بلوچ ولد طارق، جو کیچ کے علاقے تمپ کا رہائشی اور ملازم تھا، 12 ستمبر 2026 کو ڈیتھ اسکواڈز اور ریاستی فائرنگ سے کیے گئے حملے میں نشانہ بنا کر قتل کیا گیا، جبکہ اس کے والد طارق بھی زخمی ہوئے۔

کمیٹی کا کہنا ہے کہ ایک نوجوان کی ہلاکت اور اس کے والد کا زخمی ہونا صرف ایک خاندان کو متاثر کرنے والا واقعہ نہیں بلکہ انسانی حقوق سے متعلق سنگین خدشات کو جنم دیتا ہے۔ بیان میں مطالبہ کیا گیا کہ واقعے کی تحقیقات کرکے ذمہ داروں کا تعین اور انہیں قانون کے مطابق جواب دہ بنایا جائے۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے گوادر کے علاقے پانوان کے رہائشی 20 سالہ طالب علم نادل بلوچ ولد محمد نسیم کے معاملے کا بھی ذکر کیا۔ کمیٹی کے مطابق نادل کو 19 اپریل 2026 کو رات تقریباً ڈیڑھ بجے ایف سی اور ایم آئی کے اہلکاروں نے گھر سے جبری طور پر لاپتہ کیا۔ پانچ ماہ تک لاپتہ رہنے کے بعد 17 ستمبر 2026 کو اس کی لاش گوادر کے علاقے کلدان میں پھینکی ہوئی ملی۔

اسی طرح کمیٹی کے مطابق جیونی کے کے رہائشی 29 سالہ احسان بلوچ ولد محمد حسن، جو یونیورسٹی آف تربت کے شعبہ سائنس سے فارغ التحصیل تھے، کو 22 جنوری 2026 کو رات تقریباً ایک بجے ایم آئی اور سی ٹی ڈی اہلکاروں نے گھر سے جبری طور پر لاپتہ کیا۔ آٹھ ماہ بعد 17 ستمبر کو احسن کی لاش گوادر کے علاقے کلدان میں ملی، جس پر تشدد کے شدید نشانات موجود تھے۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی نے کہا کہ جبری گمشدگی، تشدد اور ماورائے عدالت ہلاکتیں قانون کی حکمرانی اور قانونی تقاضوں کا متبادل نہیں بن سکتیں۔ کمیٹی نے قومی و بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں اور انسانی حقوق کے کارکنوں سے مطالبہ کیا کہ وہ بلوچستان میں پیش آنے والے ایسے واقعات کا نوٹس لیں اور متاثرہ خاندانوں کی صورتحال کا جائزہ لیں۔

بیان میں مطالبہ کیا گیا کہ طاہر بلوچ، نادل بلوچ اور احسن بلوچ کے واقعات سمیت بلوچستان میں ہونے والی ہلاکتوں اور ریاست سے منسلک تشدد کے فوری، آزادانہ، غیر جانب دارانہ اور شفاف تحقیقات کی جائیں، جبکہ ذمہ دار افراد کا تعین کرکے انہیں قانون کے مطابق جواب دہ بنایا جائے۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز