Homeخبریںزاہدان: مقبوضہ بلوچستان میں فاطمیون اور زینبیون کی تعیناتی میں اضافہ، بلوچ...

زاہدان: مقبوضہ بلوچستان میں فاطمیون اور زینبیون کی تعیناتی میں اضافہ، بلوچ علاقوں میں گشت اور شہریوں سے پوچھ گچھ کی اطلاعات

زاہدان(ہمگام نیوز )حالوش نیوز کے مطابق، آج جمعہ 18 ستمبر 2026 کو موصول ہونے والی نئی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ مقبوضہ بلوچستان میں فاطمیون اور زینبیون سے وابستہ شبه نظامی اہلکاروں کی موجودگی میں اضافہ ہوا ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ اہلکار صرف فوجی اڈوں تک محدود نہیں رہے بلکہ بعض بلوچ آبادیوں اور دیہی علاقوں میں گشت، شہریوں کو روکنے اور ان سے پوچھ گچھ بھی کر رہے ہیں۔

نئی اطلاعات کے مطابق مقامی آبادی کو مبینہ طور پر ہراساں کیے جانے کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔ سمسور کے علاقے میں فاطمیون کے اہلکاروں کی جانب سے مقامی لوگوں سے عارضی شادی، یعنی صیغہ، کے طریقہ کار سے متعلق پوچھ گچھ کیے جانے کی اطلاع ہے۔

موصولہ معلومات کے مطابق فاطمیون کے سیکڑوں اہلکار زاہدان، میرجاوہ، راسک، گشت، سراوان، زابل، سیب و سوران، چابہار، کنرک، زرآباد اور ایرانشہر کے مختلف علاقوں میں تعینات کیے گئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق مقبوضہ بلوچستان کے شمالی علاقوں میں فاطمیون کے اہلکار میرجاوہ کے لادیز، گزو ڈیم کے اطراف اور جون آباد کے دیہات میں تعینات ہیں۔ زاہدان کے پدگ، بخش لار، کورین کے بعض علاقوں اور حصاروئیہ کے رودماہی کے علاقے بھی ان کی مبینہ تعیناتی کے مقامات میں شامل ہیں۔

بلوچستان کے وسطی اور جنوبی علاقوں میں بھی ایرانشہر کے شہرِدراز اور ایرانشہر، چابہار، کنرک اور زرآباد کے اطراف فاطمیون کے اہلکاروں کی تعیناتی کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

پچھلی اطلاعات میں زیادہ تر ان اہلکاروں کی فوجی اڈوں میں موجودگی کا ذکر کیا گیا تھا، تاہم نئی معلومات میں ان کے دیہی علاقوں اور بلوچ آبادیوں میں براہِ راست گشت کرنے کی بات سامنے آئی ہے۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق ان گشتوں کے دوران فاطمیون کے اہلکار بعض مقامی شہریوں کو روک کر ان سے پوچھ گچھ اور مبینہ طور پر انہیں ہراساں کر رہے ہیں۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان علاقوں کے سماجی اور ثقافتی ماحول سے ناواقف غیرمقامی اہلکاروں کی موجودگی نے مقامی آبادی میں تشویش پیدا کی ہے۔

رپورٹ کیے گئے ایک واقعے میں فاطمیون کے اہلکاروں نے سمسور کے علاقے میں مقامی لوگوں سے عارضی شادی کے طریقہ کار کے بارے میں سوالات کیے، جس پر شہریوں کی جانب سے مبینہ طور پر منفی ردعمل اور تشویش کا اظہار کیا گیا۔

فاطمیون اور زینبیون کے اہلکاروں کو بعض مقامی بسیج اڈوں کی حوالگی سے متعلق سابقہ اطلاعات بھی مقامی ذرائع کی جانب سے برقرار ہیں۔ ان اطلاعات کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے بعض علاقوں میں وہ اڈے، جو پہلے مقامی فورسز کے پاس تھے، فاطمیون کے اہلکاروں کے حوالے کیے ہیں۔

اس اقدام پر بعض مقامی بسیجیوں اور مقامی سکیورٹی اہلکاروں میں بھی مبینہ طور پر ناراضی اور تشویش پائی جاتی ہے، خصوصاً اس لیے کہ ان غیر ایرانی اہلکاروں کی موجودگی اب اڈوں تک محدود نہیں رہی بلکہ مقامی آبادیوں میں گشت اور شہریوں کے ساتھ براہِ راست رابطے تک پہنچ گئی ہے۔

چند روز قبل پاسدارانِ انقلاب نے زاہدان کے تفریحی مقام بامِ زاہدان میں زاہدان اور کورین کے بعض قبائلی عمائدین کے ساتھ ایک اجلاس بھی کیا تھا۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق اس اجلاس میں ان اہلکاروں کی موجودگی کو ’’بلوچ عوام کی سلامتی یقینی بنانے‘‘ کے مقصد کے تحت پیش کیا گیا۔

یہ مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب نئی اطلاعات میں بعض دیہات میں ان فورسز کی گشت، شہریوں سے پوچھ گچھ اور مبینہ ہراسانی کی بات کی گئی ہے۔ اس صورتحال نے ان فورسز کے کردار اور سرگرمیوں کے مقاصد کے حوالے سے مقامی سطح پر تشویش میں اضافہ کیا ہے۔

اس سے قبل بھی جنوبی بلوچستان کے بعض علاقوں میں زینبیون بریگیڈ سے وابستہ اہلکاروں، جن میں زیادہ تر پاکستانی شیعہ شامل ہیں، کی تعیناتی کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔ فاطمیون کی تعیناتی کے مقامات میں اضافے کے ساتھ دونوں گروہوں کی بیک وقت موجودگی نے بلوچستان کے سکیورٹی ڈھانچے میں غیر ایرانی شبه نظامی گروہوں کے کردار کے بارے میں بھی خدشات پیدا کیے ہیں۔

فاطمیون اور زینبیون ایران کی حمایت یافتہ شبه نظامی تنظیمیں ہیں، جن کے ارکان بنیادی طور پر افغانستان اور پاکستان سے تعلق رکھنے والے شیعہ افراد پر مشتمل ہیں۔ ان گروہوں کے ارکان نے شام میں بھی فوجی کارروائیوں میں حصہ لیا ہے۔

بلوچ آبادی والے دیہی اور شہری علاقوں میں ان فورسز کی بڑھتی ہوئی موجودگی، خصوصاً گشت، شہریوں سے پوچھ گچھ اور مبینہ ہراسانی کی اطلاعات کے تناظر میں، بعض حلقوں میں یہ خدشات پیدا ہوئے ہیں کہ مستقبل میں ممکنہ احتجاجی تحریکوں یا بدامنی سے نمٹنے کے لیے ان اہلکاروں کو استعمال کیا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز