شال(ہمگام نیوز) مقبوضہ بلوچستان کے علاقے واشک اور مشکے سمیت دیگر علاقوں میں قابض پاکستانی فورسز کی زیر حراست لاپتہ افراد کے قتل اور لاشیں پھینکے جانے کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ مختلف واقعات میں فورسز کی جانب سے تشدد، مکانات کی مسماری اور متعدد افراد کے قتل کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق، واشک کے علاقے بیسیمہ میں شاہ زیب بلوچ ولد حاتم کو پاکستانی فورسز نے دورانِ حراست قتل کرکے ان کی لاش لواحقین کے حوالے کر دی ہے۔ شاہ زیب بلوچ کو 6 اگست 2026ء کو موٹر سائیکل پر جاتے ہوئے فائرنگ کرکے زخمی حالت میں حراست میں لیا گیا تھا، جس کے بعد سے وہ لاپتہ تھے۔
علاوہ ازیں، واشک کے علاقے پتک میں فورسز نے ایک کارروائی کے دوران مقامی آبادی کو گھروں میں محصور کرکے شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔ اس دوران چاکر نامی ایک شہری کے گھر کو بلڈوزر کی مدد سے مسمار کر دیا گیا، جبکہ مسمار کیے گئے مکانات سے پانچ افراد کی لاشیں پھینکے جانے کی اطلاعات ہیں۔ ان لاشوں میں سے ایک کی شناخت شکر اللہ ولد عبدالنبی (رہائشی کپر) کے نام سے ہوئی ہے، جنہیں 10 روز قبل حراست میں لے کر لاپتہ کیا گیا تھا، جبکہ دیگر چار لاشوں کی شناخت نہیں ہو سکی۔
دریں اثنا، مشکے کے رہائشی سبزل بلوچ ولد کریم داد کی لاش پیراندر کے گاؤں گزی سے ملی ہے۔ انہیں گزشتہ رات گولی مار کر قتل کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ یاد رہے کہ سبزل بلوچ کو چند ماہ قبل ان کے گھر سے پاکستانی فورسز نے حراست میں لے کر لاپتہ کر دیا تھا۔
واضح رہے کہ گزشتہ تین دنوں کے دوران واشک، آواران، پنجگور اور جیونی سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں سے 10 سے زائد لاپتہ افراد کی لاشیں برآمد ہونے کی اطلاعات ہیں، جس پر انسانی حقوق کی تنظیموں اور مقامی حلقوں میں شدید تشویش پائی ج
اتی ہے۔


