پسنی ( ہمگام نیوز ) مقبوضہ بلوچستان پسنی کے علاقے سردشت اور کلانچ میں قابض پاکستانی فوجی بربریت جاری، ہزاروں افراد کی خوف کے سائے میں بڑے پیمانے پر نقل مکانی،لوگ اپنی زرعی زمینیں،گھر مال مویشیاں چھوڑ کر بے گھر ہونے پر مجبور ہوگئے ہیں۔
اطلاع کے مطابق پسنی کے علاقے سردشت اور کلانچ سے ہزاروں کی تعداد میں مقامی لوگ اپنے آبائی علاقے چھوڑ کر پسنی، گوادر اور تربت کی طرف ہجرت کر گئے ہیں جس نے خطے میں ایک سنگین انسانی بحران کو جنم دیا ہے تاہم نقل مکانی کی وجوہات تاحال سامنے نہیں آسکیں۔
زرائع کے مطابق قابض فورسز خفیہ اداروں مقامی ڈیتھ اسکوائڈ بھتہ مافیا سے تنگ اور خوف کے شکار ہوکر مقامی لوگ کلانچ کے علاقے ڈنڈو کلانچ، تولگو اور سردشت کا پورا گاؤں خالی کردیا ہے ۔یہ پہلا موقع نہیں کہ لوگوں نے بڑے پیمانے پر نقل مکانی کی ہے اس سے قبل پسنی کے علاقے شادی کور سے بھی لوگوں نے اپنی قیمتی زرعی اراضیات چھوڑ کر دوسرے علاقوں کا رخ کیا ہے۔
واضح رہے کہ سردشت کے علاقے کو ٹینکروں کے ذریعے پانی فراہم کرنے کے لیے حالیہ دنوں محکمہ پبلک ہیلتھ گوادر کی جانب سے ایک کروڑ 52 لاکھ روپے کا ٹینڈر بھی جاری کیا گیا تھا جس سے ٹینکروں کے زریعے علاقے میں پانی فراہم کرنا تھا۔
دوسری جانب مقامی انتظامیہ بڑی تعداد میں لوگوں کی نقل مکانی کی وجوہات بتانے سے گریزاں ہے جبکہ نقل مکانی کرنے والے لوگ بھی خوف کے باعث وحشی فورسز بارے میڈیا کو صحیح صورت حال سے آگاہ کرنے سے کترا رہے ہیں۔
علاقائی ذرائع کے مطابق نقل مکانی کرنے والوں کی ایک بڑی تعداد تربت کے علاقے کوہ مراد میں جاکر پناہ لی ہے، جبکہ زیادہ تر لوگوں نے پسنی شہر کا رخ کیا ہے۔
دریں اثنا پسنی پولیس نے پسنی کے مقامی لوگوں کو تنبیہہ جاری کی ہے کہ وہ سردشت، کلانچ اور گرد و نواح سے نقل مکانی کرنے والے لوگوں کو اپنے محلے اور گھروں میں ٹھہرانے کی صورت میں پولیس تھانہ آکر ان کے مکمل کوائف جمع کرائیں۔
سیاسی سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ سردشت اور کلانچ سے اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کی نقل مکانی نے گھمبیر صورت حال جنم دیا ہے لوگ اپنی قیمتی زرعی اراضیات، گھر اور مال مویشی چھوڑ کر بے سروسامانی کے عالم میں دوسرے شہروں میں پناہ لینے پر سرگردان پھرنے پر مجبور کیے جارہے ہیں۔
مقامی حلقوں کا مطالبہ ہے کہ انتظامیہ فوری طور پر نقل مکانی کی اصل وجوہات سامنے لائے اور متاثرہ خاندانوں کی بحالی و امداد کے لیے ٹھوس اقدامات کرے۔


