چابہار(ہمگام نیوز ) رپورٹ کے مطابق، اتوار 27 ستمبر 2026 کی علی الصبح پسابندر کے علاقے میں ایک کشتی قابض ایرانی میرین بارڈر گارڈ کے گلف طرز کے گشتی جہازوں کی مبینہ تعاقب اور ٹکر کے بعد سمندر میں ڈوب گئی۔
ذرائع کے مطابق، تقریباً صبح 5:30 بجے پسابندر میرین بارڈر گارڈ کے اہلکاروں نے گشتی کشتیوں کے ذریعے ایک کشتی کا تعاقب کیا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ تعاقب کے دوران ایک گشتی جہاز نے کشتی کو ٹکر ماری، جس کے نتیجے میں وہ سمندر میں ڈوب گئی۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ حادثے کے وقت کشتی میں مختلف سامان اور کپڑے موجود تھے، جن میں خواتین کے کپڑے اور بچوں کے ملبوسات بھی شامل تھے، جو کشتی کے ساتھ سمندر میں ڈوب گئے۔
ذرائع کے مطابق کشتی کا ناخدا کشتی کو ساحل کی جانب لے جانے کی کوشش کر رہا تھا، تاہم قابض ایرانی میرین بارڈر گارڈ کے اہلکاروں نے اسے ساحل تک پہنچنے سے روک دیا، جس کے بعد کشتی سمندر میں ڈوب گئی۔
رپورٹ کے مطابق کشتی ڈوبنے کے بعد میرین بارڈر گارڈ کے اہلکار ناخدا کو اپنے ساتھ پسابندر کی جیٹی لے گئے اور کچھ دیر بعد اسے رہا کر دیا۔
ذرائع کا مزید دعویٰ ہے کہ رہائی کے وقت ناخدا کو مبینہ طور پر دھمکی دی گئی کہ وہ یہ بیان دے کہ کشتی خود بخود ڈوبی تھی اور میرین بارڈر گارڈ کے اہلکاروں نے اسے اور کشتی میں موجود افراد کو بچایا تھا۔
رپورٹ کی تیاری تک واقعے کے حوالے سے ایرانی حکام یا میرین بارڈر گارڈ کا باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا تھا۔


