زاہدان(ہمگام نیوز ) جبهه مبارزین مردمی، جسے عوامی مزاحمتی محاذ کہا جاتا ہے، نے جمعہ 2 اکتوبر اور ہفتہ 3 اکتوبر 2026 کو جاری کیے گئے تین الگ الگ بیانات میں ایرانی مقبوضہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں مسلح جھڑپوں اور اپنے ارکان سمیت ایرانی حکومت سے وابستہ فورسز کی ہلاکتوں کی اطلاعات دی ہیں۔
پہلے بیان میں اس گروپ نے کہا کہ جمعرات 1 اکتوبر 2026 کو زاہدان کے علاقے منزل آب میں اس کے ایک ٹھکانے کو قابض ایرانی فوج اور سکیورٹی فورسز نے نشانہ بنایا۔
بیان کے مطابق سرکاری فورسز نے درجنوں فوجی گاڑیوں، توپ خانے اور ڈرونز کے ذریعے ٹھکانے پر حملہ کیا، جس کے دوران عوامی مزاحمتی محاذ کے چار ارکان مارے گئے ۔
دوسرے بیان میں، جو جمعہ 2 اکتوبر 2026 کی صبح جاری کیا گیا، گروپ نے دعویٰ کیا کہ اس کے جنگجوؤں نے زاہدان کے علاقے رودماہی میں فاطمیون ڈویژن کے ارکان کی ایک گشتی گاڑی کو بارودی سرنگ کے ذریعے نشانہ بنایا۔
گروپ کے مطابق حملے میں گاڑی میں سوار پانچ افراد ہلاک ہوئے۔ بیان میں بلوچستان میں فاطمیون فورسز کی موجودگی پر بھی تنقید کی گئی ہے۔
تیسرے بیان میں عوامی مزاحمتی محاذ نے دعویٰ کیا کہ جمعہ 2 اکتوبر 2026 کو ایرانی فوج نے راسک، سرباز، کسرکند اور نیکشہر کے علاقوں سے سیکڑوں اہلکاروں، حملہ آور اور نگرانی کرنے والے ڈرونز اور بھاری توپ خانے کی مدد سے راسک کے پارود علاقے میں واقع اس کے ایک پہاڑی ٹھکانے پر حملہ کیا۔
تنظیم کے بیان کے مطابق اس کے ارکان نے حملے کے خلاف مزاحمت کی، جس کے بعد سرکاری فورسز کو مبینہ نقصانات اٹھانے کے بعد پسپائی اختیار کرنا پڑی۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ جھڑپ ختم ہونے کے بعد ٹھکانے میں موجود 15 ارکان وہاں سے نکل گئے اور پہاڑی علاقے کے مزید اندرونی حصوں میں منتقل ہوگئے۔
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب گزشتہ چند روز کے دوران ایرانی مقبوضہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں متعدد مسلح جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ ایرانی سرکاری ذرائع ابلاغ نے بھی منزل آباد اور راسک کے علاقوں میں قابض ایرانی فوج و سکیورٹی کارروائیوں، مسلح افراد کے ساتھ جھڑپوں اور سپاہ پاسداران کی ایک گاڑی پر حملے کی اطلاعات دی ہیں۔


