Homeخبریںجبهہ مبارزین مردمی نے زاہدان اور نیک شہر حملوں کی ذمہ داری...

جبهہ مبارزین مردمی نے زاہدان اور نیک شہر حملوں کی ذمہ داری قبول کر لی

زاہدان(ہمگام نیوز) جبهہ مبارزین مردمی نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے زاہدان کے علاقے نصرت آباد اور نیکشہر-چابہار شاہراہ پر فائرنگ کے دو علیحدہ واقعات کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ تنظیم کا دعویٰ ہے کہ ان حملوں میں ایرانی فورسز کے یگان تکاوری (رینجرز فورسز) اور فاطمیون بریگیڈ سے وابستہ گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

جمعرات، 8 اکتوبر 2026ء کو جاری کردہ بیان کے مطابق، مسلح تنظیم نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ 12 گھنٹوں کے دوران ان کے کارندوں نے دو مختلف کارروائیاں کیں۔ پہلی کارروائی جمعرات کی صبح نصرت آباد (ضلع زاہدان) کے علاقے میں کی گئی، جہاں یگان تکاوری کی ایک گاڑی پر فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں گاڑی میں سوار تمام افراد گولیوں کا نشانہ بنے۔

تنظیم کا مزید کہنا تھا کہ دوسری کارروائی جمعرات کی دوپہر نیکشہر سے چابہار جانے والی شاہراہ پر “کریں دوک” کے قریب انجام دی گئی۔ اس حملے میں ایک وین اور ایک ہائی لکس گاڑی کو نشانہ بنایا گیا، جن کے بارے میں تنظیم کا دعویٰ ہے کہ وہ فاطمیون فورسز اور سرکاری اہلکاروں کے مشترکہ ہیڈکوارٹر میں داخل ہو رہی تھیں۔ بیان کے مطابق ان دونوں گاڑیوں کے تمام سوار ہلاک یا زخمی ہو گئے۔

متضاد اطلاعات اور سرکاری موقف:

انڈیپنڈنٹ رپورٹنگ ادارہ ‘حالوش’ اس سے قبل نصرت آباد واقعے کے حوالے سے بتا چکا ہے کہ لخشک کے مقام پر لا انفورسمنٹ فورسز کی گاڑی پر مسلح افراد نے فائرنگ کی تھی۔

سرکاری میڈیا نے بھی اس حملے کی تصدیق کرتے ہوئے پولیس اہلکار تھرڈ لیفٹیننٹ “وحید عنایت” کی ہلاکت کی خبر دی ہے۔ تاہم، حادثے میں دیگر ممکنہ ہلاکتوں یا زخمیوں کی حتمی اور آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

دوسری جانب، نیکشہر حملے کے بارے میں ذرائع نے پہلے رپورٹ کیا تھا کہ کرین دوک کے علاقے میں ایک ٹویوٹا ہائی لکس اور سویلین لباس میں ملبوس اہلکاروں کو لے جانے والی ایک منی بس پر فائرنگ کی گئی، جس میں مقامی ذرائع نے متعدد افراد کے ہلاک اور زخمی ہونے کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔

تاہم، سرکاری موقف کے مطابق یہ حملہ آرمی کی 88ویں آرمرڈ ڈویژن کے اہلکاروں کو لے جانے والی منی بس پر ہوا، جس میں ایک اہلکار کے ہلاک اور تین کے زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔ مسلح افراد کی شناخت اور حملے میں ہونے والے کل جانی نقصان کے آزادانہ ذرائع سے حقائق سامنے آنا ابھ

ی باقی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز