ہمگام رپورٹ
انسانی حقوق کی تنظیم ہہنگاو کے مطابق ستمبر 2026 کے دوران اسلامی جمہوریہ ایران کی مختلف جیلوں میں کم از کم 68 قیدیوں کی سزائے موت پر عمل درآمد کیا گیا، جن میں 4 سیاسی قیدی بھی شامل ہیں۔
ہہنگاو نے 2 اکتوبر 2026 کو جاری کردہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ ستمبر میں پھانسی دیے جانے والے قیدیوں کی تعداد اگست کے مقابلے میں کم از کم 21 کیسز، یعنی تقریباً 23.6 فیصد کم رہی۔ اگست 2026 میں ایران کی مختلف جیلوں میں 89 قیدیوں کو پھانسی دی گئی تھی۔
ہہنگاو کے مرکز برائے شماریات کے مطابق ستمبر میں ہونے والی پھانسیوں کو شامل کرنے کے بعد 2026 کے آغاز سے اب تک ایران میں سزائے موت پانے والے قیدیوں کی تعداد 604 ہو گئی ہے۔
تنظیم کے مطابق ستمبر 2026 میں ایران کی مختلف جیلوں میں کم از کم 68 قیدیوں کی سزائے موت پر عمل درآمد کیا گیا۔ ان میں سے 64 قیدیوں کی مکمل شناخت ہہنگاو نے تصدیق کی ہے، جبکہ مزید 4 قیدیوں کی شناخت کی تحقیقات جاری ہیں۔
چار خواتین کو بھی پھانسی دی گئی
رپورٹ کے مطابق ستمبر کے دوران ایران کی جیلوں میں کم از کم 4 خواتین کی سزائے موت پر عمل درآمد کیا گیا۔
فاطمہ جہانگرد کو مشہد جبکہ ماہروخ میرزایی کو خمینی شہر سے متعلق قتل عمد کے مقدمات میں بالترتیب مشہد اور اصفہان کی جیلوں میں پھانسی دی گئی۔
اسی طرح رضوان اصغرزادہ اور زینب رجبی، دونوں کا تعلق اصفہان سے بتایا گیا ہے، کو منشیات سے متعلق مقدمات میں اسی شہر کی دستگرد جیل میں پھانسی دی گئی۔
ہہنگاو کے مطابق ستمبر میں ایران کی جیلوں میں ایسے کسی کم عمر مجرم کو پھانسی نہیں دی گئی جس نے جرم 18 سال سے کم عمر میں کیا ہو۔
بیشتر پھانسیاں سرکاری طور پر ظاہر نہیں کی گئیں
ہہنگاو کے مطابق ستمبر میں پھانسی دیے گئے 68 قیدیوں میں سے صرف 8 کیسز، یعنی تقریباً 12 فیصد، کی اطلاع ایران کے سرکاری ذرائع یا عدلیہ سے وابستہ ویب سائٹس نے دی۔
رپورٹ کے مطابق 10 قیدیوں کو خفیہ طور پر پھانسی دی گئی، جبکہ ان کے اہل خانہ کو آخری ملاقات کا حق یا پیشگی اطلاع بھی نہیں دی گئی۔
اس کے علاوہ دو قیدیوں کی سزائے موت سرعام نافذ کی گئی۔
چار سیاسی قیدیوں کو پھانسی
ہہنگاو کے مطابق ستمبر 2026 میں کم از کم 4 سیاسی قیدیوں کو بھی پھانسی دی گئی۔ ان میں بعض ایسے افراد شامل تھے جنہیں دسمبر 2025 کے احتجاجی مظاہروں کے دوران گرفتار کیا گیا تھا اور ان پر محاربہ، جاسوسی اور دیگر الزامات عائد کیے گئے تھے۔
ان کی تفصیل درج ذیل ہے:
1. حسین پدران، 41 سالہ، اصفہان کے رہائشی، کو اسرائیل کے لیے جاسوسی کے الزام میں 19 ستمبر 2026 کو اصفہان کی مرکزی جیل میں پھانسی دی گئی۔
2. تورات محمدی، 43 سالہ افغان شہری، کو جاسوسی کے الزام میں 23 ستمبر 2026 کو کرج کی قزل حصار جیل میں پھانسی دی گئی۔
3. علی ہمت سیستانی، مشہد میں دسمبر 2025 کے احتجاج کے دوران گرفتار کیے گئے افراد میں شامل تھے۔ انہیں 30 ستمبر 2026 کو مشہد کی مرکزی جیل میں پھانسی دی گئی۔
4. مجید نیکاندیش، 25 سالہ اور قوچان کے رہائشی، مشہد میں دسمبر 2025 کے احتجاج کے دوران گرفتار کیے گئے افراد میں شامل تھے۔ انہیں 30 ستمبر 2026 کو مشہد کی مرکزی جیل میں پھانسی دی گئی۔
الزامات کے لحاظ سے پھانسیوں کی تفصیل
ہہنگاو کے اعداد و شمار کے مطابق ستمبر میں سب سے زیادہ پھانسیاں قتل عمد سے متعلق مقدمات میں دی گئیں۔
– قتل عمد: 32 کیسز
– منشیات سے متعلق الزامات: 31 کیسز
– سیاسی الزامات اور جاسوسی: 4 کیسز
– زیادتی کے الزام: 1 کیس
نسلی و قومی شناخت کے لحاظ سے پھانسیاں
رپورٹ کے مطابق ستمبر 2026 میں کم از کم 19 فارسی قیدیوں کو پھانسی دی گئی، جو مجموعی تعداد کا تقریباً 28 فیصد بنتا ہے۔
اسی دوران 11 بلوچ اور 6 ترک قیدیوں کی سزائے موت پر بھی عمل درآمد کیا گیا۔
نسلی شناخت کے لحاظ سے تفصیل:
– بلوچ قیدی: 11
– ترک قیدی: 6
– کرد قیدی: 5
– عرب قیدی: 5
– لر قیدی: 3
– گیلک اور مازندرانی قیدی: 3
– ترکمن قیدی: 1
– فارسی قیدی: 19
– افغان شہری: 5
– ہہنگاو کے مطابق 10 قیدیوں کی نسلی شناخت کی تصدیق نہیں ہوسکی۔
صوبوں کی جیلوں کے لحاظ سے پھانسیوں کی تفصیل
ہہنگاو کے مطابق ستمبر 2026 میں سب سے زیادہ پھانسیوں کے کیسز اصفہان صوبے کی جیلوں میں ریکارڈ کیے گئے، جہاں کم از کم 13 قیدیوں کو پھانسی دی گئی۔
مجموعی طور پر ایران کے 16 صوبوں میں سزائے موت پر عمل درآمد کے کیسز رپورٹ ہوئے۔
صوبوں کے لحاظ سے تفصیل:
– اصفہان کی جیلیں: 13 کیسز
– البرز کی جیلیں: 11 کیسز
– خراسان رضوی کی جیلیں: 9 کیسز
– سیستان و بلوچستان کی جیلیں: 7 کیسز
– کرمان کی جیلیں: 6 کیسز
– خوزستان کی جیلیں: 6 کیسز
– فارس کی جیلیں: 3 کیسز
– زنجان کی جیلیں: 3 کیسز
– مشرقی آذربائیجان کی جیلیں: 2 کیسز
– مازندران کی جیلیں: 2 کیسز
– ایلام کی جیلیں: 1 کیس
– کرمانشاہ کی جیلیں: 1 کیس
– گلستان کی جیلیں: 1 کیس
– سمنان کی جیلیں: 1 کیس
– مرکزی صوبے کی جیلیں: 1 کیس
– اردبیل کی جیلیں: 1 کیس
ہہنگاو کے مطابق یہ اعداد و شمار اس تنظیم کے مرکز برائے شماریات و دستاویزات میں درج کیسز پر مبنی ہیں۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ بعض کیسز میں مکمل شناخت کی تصدیق ہوچکی ہے جبکہ کچھ کیسز کی شناخت کی تحقیقات جاری ہیں۔


