میناب(همگام نیوز ) ٹریفک پولیس اہلکار کے قتل کے الزام میں سزائے موت پانے والے 39 سالہ بلوچ شہری کو پھانسی دے دی گئی ۔
تفصیلات کے مطابق میناب کی جیل میں ایک بلوچ قیدی ابوالحسن رنجبر کی سزائے موت پر عمل درآمد کر دیا گیا۔ انہیں میناب کے ایک ٹریفک پولیس اہلکار کے قتل کے الزام میں قصاص کی سزا سنائی گئی تھی۔
ذرائع کے مطابق، منگل، 13 اکتوبر 2026 کو میناب جیل میں ابوالحسن رنجبر کو پھانسی دی گئی۔
رپورٹ کے مطابق، 39 سالہ ابوالحسن رنجبر کا تعلق میناب سے تھا۔ انہیں دسمبر 2023 میں گرفتار کیا گیا تھا۔ بعد ازاں فوجداری عدالت نے ٹریفک پولیس کے اہلکار، سیکنڈ لیفٹیننٹ جاسم حسینیان کے قتل کے الزام میں انہیں قصاص کے تحت سزائے موت سنائی تھی۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق، ابوالحسن رنجبر اپنی بہن کے ساتھ درزی کی دکان سے گھر واپس جا رہے تھے کہ جاشک سے میناب جانے والی شاہراہ پر واقع گوردو ٹریفک پولیس چوکی پر ان کی گاڑی روک لی گئی۔
ایک باخبر ذریعے کے مطابق، ایک پولیس اہلکار نے گاڑی کی کھڑکی سے رنجبر کو ضرب لگائی اور انہیں پکڑ لیا۔ بتایا گیا ہے کہ رنجبر کی خود کو چھڑانے کی کوشش کے دوران پیش آنے والے تصادم میں پولیس اہلکار کی موت واقع ہوئی۔
تاہم، اس واقعے کے بارے میں ایرانی حکام کے بیانات میں بھی یکسانیت نہیں پائی جاتی۔ میناب کے گورنر نے گاڑی کے کاغذات طلب کرنے اور رجسٹریشن نمبر کی جانچ پڑتال کا ذکر کیا، جبکہ پولیس کمانڈ نے دعویٰ کیا کہ ڈرائیور نے گاڑی روکنے کے حکم پر عمل نہیں کیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق، ایرانی عدلیہ سے وابستہ خبر رساں ادارے میزان نے 13 اکتوبر 2026 کو قصاص کی سزا پر عمل درآمد کی خبر جاری کی تھی، تاہم اس خبر میں قیدی کا نام اور پھانسی کی تاریخ واضح نہی
ں کی گئی تھی۔


