نوشکی (ہمگام نیوز) بلوچستان کے شہر نوشکی میں مقامی شہریوں نے شکایت کی ہے کہ دو روز قبل ڈی سی ہاؤس کے قریب بائی پاس روڈ پر فائرنگ کے واقعے کے بعد پاکستانی فورسز نے کلی فقیران سے متعدد افراد کو شک کی بنیاد پر حراست میں لیا، جنہیں تفتیش کے بعد رہا کر دیا گیا۔
حراست میں لیے جانے والے نوشکی کے مقامی شہریوں نے آئی جی ایف سی بلوچستان اور کور کمانڈر بلوچستان کو شکایت کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ فورسز کے اہلکاروں نے گھروں میں داخل ہو کر معزز شہریوں کے ساتھ انتہائی نامناسب رویہ اختیار کیا۔ ان کے مطابق، اہلکاروں نے گالم گلوچ کی اور تمام مردوں کو گھروں سے باہر نکال کر ایک جگہ جمع کیا۔ اس دوران اہلکاروں نے تمام افراد کے موبائل فون، پرس اور جیبوں میں موجود نقدی اپنی تحویل میں لے لی۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی جیبوں میں موجود نقد رقم گن کر ایف سی اہلکاروں کے حوالے کی۔
شہریوں کے مطابق، بعد ازاں فورسز کے اہلکاروں نے تمام افراد کی قمیصوں کے دامن ایک دوسرے کے ساتھ باندھ دیے اور انہیں زبردستی نعرے لگواتے ہوئے ایف سی ہیڈ کوارٹر منتقل کیا۔
متاثرین کا کہنا ہے کہ رہائی کے وقت انہیں ان کے موبائل فون اور خالی پرس واپس کیے گئے۔ جب انہوں نے اپنے پرس چیک کیے تو ان میں ایک روپیہ بھی موجود نہیں تھا۔ رقم کی واپسی سے متعلق سوال کرنے پر، بقول متاثرین، انہیں جواب دیا گیا کہ ’’پیسوں کا معاملہ اللہ پر چھوڑیں۔‘‘
متاثرہ شہریوں نے کور کمانڈر بلوچستان، آئی جی ایف سی اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ایف سی نوشکی کے اہلکاروں کے توہین آمیز رویے، گھروں میں بلاجواز توڑ پھوڑ اور زیرِ حراست افراد کی ہزاروں روپے کی رقم واپس نہ کیے جانے کا نوٹس لیا جائے، جبکہ ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف قانونی اور محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے۔
متاثرین نے کہا کہ نوشکی میں امن و امان کی خراب صورتِ حال کے دوران فورسز کی جانب سے عام شہریوں کے ساتھ غیر قانونی اور غیر انسانی سلوک جلتی پر تیل ڈالنے کے مترادف ہے۔
واضح رہے کہ بلوچستان میں مقامی شہری ماضی میں بھی قابض پاکستانی فورسز کے مبینہ ناروا سلوک سے متعلق شکایات کرتے رہے ہیں۔ شہریوں کے مطابق، کسی بھی ناخوش گوار واقعے کے بعد بعض اوقات پورے علاقے کے لوگوں کو اجتماعی سزا کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور گھروں کی چادر و چار دیواری کے تقدس کو پامال ک
یا جاتا ہے۔


