Homeخبریںزاہدان میں پولیس اور مبینہ قابض ایرانی سیکیورٹی اہلکاروں کا بلوچ خاندان...

زاہدان میں پولیس اور مبینہ قابض ایرانی سیکیورٹی اہلکاروں کا بلوچ خاندان پر وحشیانہ تشدد، کمسن بچے کو پانچویں منزل سے پھینکنے کا الزام

زاہدان (ہمگام نیوز) ایرانی مقبوضہ بلوچستان کے شہر زاہدان کے علاقے مہِرشہر میں پولیس اہلکاروں اور مبینہ طور پر قابض ایرانی فوجی و سیکیورٹی اداروں سے وابستہ افراد نے ایک بلوچ شہری اور اس کے اہلخانہ کو تشدد کا نشانہ بنایا، جبکہ واقعے کے بعد متاثرہ خاندان کو خاموش رہنے کی دھمکیاں دی گئیں۔

تفصیلات کے مطابق یہ واقعہ گزشتہ روز منگل، 3 نومبر 2026 کی شام پیش آیا، جہاں مکان کی پیشگی رقم (زرِ ضمانت) کی واپسی اور گھریلو سامان کی حوالگی کے تنازع پر کلانتری مہِرشہر کے پولیس اہلکاروں اور مبینہ طور پر فوجی و سیکیورٹی اداروں سے وابستہ افراد نے خاندان پر تشدد کیا۔

رپورٹ کے مطابق متاثرہ شہری کی شناخت 35 سالہ امید نوری ولد محمد کے نام سے ہوئی ہے، جو شادی شدہ اور سات بچوں کا والد ہے۔

ذرائع کے مطابق امید نوری اور ان کا خاندان کچھ عرصے سے زاہدان کے علاقے مہِرشہر میں ایک مکان میں کرائے پر مقیم تھا۔ مکان خالی کرنے کا فیصلہ کرنے کے بعد خاندان نے اپنی مکمل پیشگی رقم واپس کرنے اور ذاتی گھریلو سامان حوالے کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مکان کا کرایہ نامہ ہادی امیری مقدم کے نام پر تھا، جو مبینہ طور پر انٹیلی جنس ادارے سے وابستہ ایک اہلکار کا بیٹا ہے۔

رپورٹ کے مطابق خاندان کے مطالبے کے باوجود انہیں پیشگی رقم کا صرف ایک حصہ واپس کیا گیا، جبکہ باقی رقم کی ادائیگی اور تمام گھریلو سامان کی حوالگی سے انکار کیا گیا۔ تنازع شدت اختیار کرنے کے بعد کلانتری مہِرشہر کے متعدد پولیس اہلکار، جن میں حسین علی سید نیا اور طاہری نامی اہلکار شامل تھے، دیگر افراد کے ہمراہ موقع پر پہنچے اور امید نوری، ان کی اہلیہ اور بچوں کو تشدد کا نشانہ بنایا۔

ذرائع کے مطابق اس دوران امید نوری کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ان کے ہاتھ، پاؤں اور گردن پر زخم آئے اور ہڈیاں ٹوٹ گئیں۔ اسی دوران وہاں موجود ایک فوجی اہلکار نے ان کی اہلیہ کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا، جس پر خاتون نے شدید احتجاج کیا۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ واقعے کے دوران مبینہ طور پر اہلکاروں نے خاندان کے ایک کمسن بچے کو عمارت کی پانچویں منزل سے سیڑھیوں کی جانب پھینک دیا۔ بچہ سیڑھیوں کی ریلنگ سے ٹکرا کر رک گیا، جس کے باعث وہ نیچے گرنے اور ممکنہ طور پر جان لیوا حادثے سے محفوظ رہا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ واقعے کے بعد امید نوری کو ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی انٹیلی جنس کے اہلکاروں کی جانب سے دھمکیاں دی گئیں اور انہیں اس واقعے کے بارے میں خاموش رہنے کا کہا گیا۔

ہمگام کو سوشل میڈیا پر فالو کریں

https://www.facebook.com/share/1WPfdJerfL/

News, Articles, Future Reports, Editorial, Interviews

& Opinions On Baloch Politics, Current Situations Of Occupied Balochistan And International Politics.

https://t.me/HumgaamNews

Follow the ہمگام نیوز / Humgaam News channel on WhatsApp: https://whatsapp.com/channel/

0029VbE0fVk7IUYTc1uHyW2L

یہ بھی پڑھیں

فیچرز