Homeخبریںایرانشہر میں قابض ایرانی فورسز کی فائرنگ سے بلوچ نوجوان شہید، ایک...

ایرانشہر میں قابض ایرانی فورسز کی فائرنگ سے بلوچ نوجوان شہید، ایک زخمی؛ مقتول کا رشتہ دار اسپتال سے گرفتار

ایرانشہر (ہمگام نیوز) ایرانی مقبوضہ بلوچستان کے شہر ایرانشہر میں قابض فوج اور سیکیورٹی اہلکاروں نے ایک چلتی گاڑی پر فائرنگ کردی، جس کے نتیجے میں ایک بلوچ شہری شہید اور دوسرا زخمی ہوگیا۔ واقعے کے بعد شہید ہونے والے شہری کے ایک رشتہ دار کو اسپتال سے گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق یہ واقعہ بدھ، 4 نومبر 2026 کی شب ایرانشہر کے علاقے خیرآباد کے سہ راہے پر پیش آیا، جہاں قابض فوج اور سیکیورٹی اہلکاروں نے گزرنے والی ایک گاڑی کو نشانہ بنایا۔

رپورٹ کے مطابق فائرنگ کے نتیجے میں شہید ہونے والے شہری کی شناخت 29 سالہ فرہاد عزیزی ولد اسلم کے نام سے ہوئی ہے، جو سرباز کے علاقے سربوگ کے گاؤں کند کا رہائشی تھا، جبکہ زخمی شہری کی شناخت قیوم رییسی ولد لال بخش کے نام سے ہوئی ہے، جو کسرکند کے گاؤں بانشیپ کا رہائشی ہے۔

ذرائع کے مطابق تاحال قیوم رییسی کی صحت کے حوالے سے کوئی مصدقہ معلومات سامنے نہیں آسکی ہیں اور یہ بھی واضح نہیں کہ آیا وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ چکے ہیں یا اسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔

اس واقعے کے بعد گرفتار کیے جانے والے شہری کی شناخت احسان عزیزی کے نام سے ہوئی ہے، جو اپنے رشتہ داروں کی خیریت معلوم کرنے کے لیے اسپتال پہنچا تھا۔

 ذرائع کے مطابق فرہاد عزیزی اور قیوم رییسی اپنی گاڑی میں ایرانشہر کے علاقے خیرآباد کے سہ راہے سے گزر رہے تھے کہ قابض ایرانی فوج اور سیکیورٹی اہلکاروں نے بغیر کسی پیشگی وارننگ یا گاڑی روکنے کی ہدایت کے ان پر فائرنگ کردی۔

ذرائع نے بتایا کہ گولیاں لگنے سے دونوں شہری زخمی ہوگئے، جنہیں ایرانشہر کے خاتم الانبیاء اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم فرہاد عزیزی زخموں کی شدت کے باعث جانبر نہ ہوسکے۔

رپورٹ کے مطابق دونوں زخمیوں کو اسپتال منتقل کیے جانے کے بعد فرہاد عزیزی کے والد اور خاندان کے ایک دوسرے قریبی رشتہ دار نے ان کی خیریت معلوم کرنے کے لیے کسرکند سے ایرانشہر کا سفر کیا۔ اس دوران سیکیورٹی اہلکاروں نے احسان عزیزی کو کسی عدالتی وارنٹ کے بغیر گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ واقعے کے بعد قابض ایرانی فوج اور سیکیورٹی اہلکاروں کی بڑی تعداد خاتم الانبیاء اسپتال کے مرکزی دروازے کے سامنے تعینات کردی گئی تھی، جہاں آنے جانے والے افراد کی نگرانی اور نقل و حرکت کو کنٹرول کیا جارہا تھا۔ اہلکاروں نے زخمیوں کو اسپتال منتقل کیے جانے کے بعد وہاں موجود رہتے ہوئے بعض افراد کو طبی مرکز میں داخل ہونے سے بھی روک دیا۔

فرہاد عزیزی کا سابقہ گرفتاری کا ریکارڈ

رپورٹ کے مطابق فرہاد عزیزی کو اس سے قبل 10 دسمبر 2018 کو اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ مزدوری کے لیے زاہدان سے شیراز جانے کا ارادہ رکھتے تھے۔ انہیں زاہدان کے مسافر بس ٹرمینل سے قابض ایرانی آرمی پاسدارانِ انقلاب کی انٹیلی جنس کے اہلکاروں نے حراست میں لیا تھا۔

کچھ عرصہ زیرِ حراست رہنے کے بعد انہیں 4 مارچ 2019 کو ضمانت پر رہا کردیا گیا تھا۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ 2018 میں فرہاد عزیزی کے علاوہ کم از کم 12 دیگر شہریوں کو بھی گرفتار کیا گیا تھا۔ یہ گرفتاریاں چابہار میں پولیس کمانڈ کے دفتر پر ہونے والے بم دھماکے کے بعد عمل میں آئی تھیں۔

ہمگام نیوز کو سوشل میڈیا پر فالو کریں

https://www.facebook.com/share/1WPfdJerfL/

News, Articles, Future Reports, Editorial, Interviews

& Opinions On Baloch Politics, Current Situations Of Occupied Balochistan And International Politics.

https://t.me/HumgaamNews

Follow the ہمگام نیوز / Humgaam News channel on WhatsApp: https://whatsapp.com/ch

annel/0029VbE0fVk7IUYTc1uHyW2L

یہ بھی پڑھیں

فیچرز