خاش (ہمگام نیوز) ایرانی مقبوضہ بلوچستان میں 4 نومبر 2022 کو خاش میں احتجاج کرنے والے نہتے بلوچ شہریوں پر قابض ایرانی فوج کی براہ راست فائرنگ کو چار سال گزر چکے ہیں، ایک ایسا واقعہ جس میں دو بچوں سمیت کم از کم 18 بلوچ شہری شہید اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔ چار سال بعد بھی اس قتلِ عام کے مرتکب افراد اور اکسانے والوں کے احتساب، شناخت اور مقدمے کا مطالبہ بدستور جاری ہے۔
ایرانی مذھبی رجعت پسند حکومت کے سرکاری کیلنڈر میں 4 نومبر کو یومِ طلبہ کے نام سے منسوب کیا گیا ہے اور اس موقع پر ہر سال اسکولوں اور تعلیمی مراکز میں تقریبات منعقد کی جاتی ہیں۔ لیکن بلوچستان میں اور بلوچ طلبا کو یہ تاریخ خاش میں احتجاج کرنے والے شہریوں کے قتل کی یاد دلاتی ہے اور اسے “خونی جمعہ” کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
نومبر 4 سال 2022 کو خاش میں بلوچ شہریوں نے اسی سال 30 ستمبر 2022 کو زاہدان میں مظاہرین کے قتل، جسے “زاہدان کا خونی جمعہ” کہا جاتا ہے، اس کے خلاف لاش میں احتجاجی ریلی نکالی گئی اور مجرموں اور کمانڈروں کے مقدمے اور سزا کا مطالبہ کیا۔ ان مظاہروں کو کچلنے کے دوران قابض ایرانی فوج نے احتجاج کرنے والے شہریوں پر براہِ راست فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں متعدد افراد شہید اور زخمی ہوئے۔
اس قتلِ عام کے دوران دو بچوں سمیت کم از کم 18 بلوچ شہری شہید اور درجنوں زخمی ہوئے۔ اطلاعات کے مطابق بعض شہید افراد کی لاشوں کو خاش شہر کے اطراف منتقل کر کے لاوارث چھوڑ دیا گیا تھا۔ اس عمل نے مظاہرین کے خلاف تشدد کی شدت کو مزید واضح کر دیا۔
خاش میں احتجاج کرنے والے شہریوں پر فائرنگ بلوچستان میں عوامی احتجاج کو خونیں انداز میں دبانے کا تسلسل تھا، جس کے نتیجے میں زاہدان کے خونی جمعہ کے دوران بھی متعدد شہری شہید اور زخمی ہوئے تھے۔ ان واقعات میں شہریوں کے حقوق کی خلاف ورزیوں پر جوابدہی اور انصاف تک رسائی کے مطالبات کا جواب آتشیں اسلحے اور مہلک تشدد سے دیا گیا۔
خونی جمعہ کو چار سال گزرنے کے باوجود نہ صرف اس قتلِ عام کے متاثرین کی یادیں بلوچستان کے عوام کے ذہنوں سے محو نہیں ہوئیں بلکہ حقیقت کو سامنے لانے، حکام کے احتساب اور اس واقعے کے ذمہ داروں اور کمانڈروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ بھی جاری ہے۔


