بہت اعلیٰ مقام حاصل کرتے ہیں وہ لوگ جو اپنی سرزمین پر مر مٹتے ہیں. اپنے مقصد کے لیے جان نچھاور کرتے ہیں۔ ہنجیرہ زہری بلوچ سرزمین کا ایک گمنام ٹکڑا،  یہاں آپ کو دو قسم کے لوگ ملیں گے تیسری قسم ڈھونڈنے سے بھی ناپید ہو گا۔ ایک وہ جو سرزمین سے غداری کرتے ہیں، وہ جو دشمن کے کاسہ لیس ہیں، پنجابی کے تھالی چٹ ہیں، غیروں کے فرمانبردار ہیں، اپنوں کے دشمن کہلاتے ہیں. اُن کا کام دلالی ہے. اُن کا پیشہ قتل و غارت گری ہے، وہ جو لالچی ہیں اور ہوس کے پجاری ہیں۔ اور دوسرے وہ لوگ جو انہی غداروں کے ستائے ہوئے ہیں. یہیں سے ایک لکیر کھینچی گئی ہے. یہ وہی لکیر ہے جو خون سے سینچی گئی ہے. یہیں سے راہیں جدا ہو جاتی ہیں. یہی ہے وہ نقطہ آغاز جہاں سے گزر کر مر مٹ کر ہمیشہ کے لیے امر ہوا جاتا ہے۔ ایک وہ لوگ جو وطن پر جان نثار کرتے ہیں. ایک وہ ہیں جو وطن پر مر مٹنے کو تیار رہتے ہیں. ایک وہ ہیں جو وطن کی خاطر اپنا سب کچھ لُٹانے کو تیار ہیں ایک وہ ہیں جنہیں اپنا مقصد زندگی سے بھی زیادہ عزیز ہے اور دوسرا وہ جو کچھ مراعات کے لیے وطن کا سودا کرتے ہیں. وطن کی مٹی سے غداری کرتے ہیں. وطن کا سودا کرتے ہیں۔ اسی ہنجیرہ کی مٹی سے جنم لینے والے صدام، مقبول، خالد، یاسین، زکریا ہیں جو وطن پر قربان ہوئے اور اسی مٹی نے زیب سکندر کو بھی جنا ہے لیکن زمین آسمان کا فرق ہے. تاریخ میں دونوں کا نام درج ہو گا لیکن صدام پر قوم فخر کرے گی اور زیب فضل مجاہد پر لعنت بھیجے گی. یاسین کو یاد کرکے آنے والی نسلیں آزاد بلوچستان میں خوشی کے گیت گا کر اپنے شھید کو یاد کریں گے وہیں گاؤں کے دوسرے کونے پر سردار باغ میں دفن زیب، سکندر کو مٹی کا بوجھ سمجھیں گے. وہ دور تعلیم کا دور ہوگا، وہ دور خوشحالی کا دور ہو گا، آزادی کا دور ہو گا، امن شانتی کا دور ہو گا، نہ کوئی کسی کی دشمنی کرے گا نہ کسی کو قتل، یہ وہ دور ہوگا جب اسی خون سے سینچی گئی لکیر کو شہدا اپنے خون سے مزید مضبوط بنا چکے ہونگے جہاں مخبر، غدار، دلال کینسر زدہ حصے کی طرح بلوچ اپنے جسم سے کاٹ کر پھینک چکے ہوں گے. اس آزادی کی بنیاد آج سے بلوچ ورنا انہی غداروں کے خلاف جنگ کر کے رکھ رہے ہیں. آئے روز قربان ہو رہے ہیں لیکن اپنے مقصد سے پیچھے نہیں ہٹ رہے ہیں. آئے روز بلوچستان کے طول و عرض میں نوجوان شھید ہو رہے ہیں انہی میں ہنجیرہ زہری کے نوجوان سر فہرست ہیں. شھید زکریا ،شھید یاسین، شھید شفیع، شھید غفار، شھید ابراہیم، شھید سرفراز، شھید نثار، شھید صدام، شھید مقبول، شھید صاحب خان اور دیگر بزرگ و معصوم بچوں کا خون انہی غداروں کا راستہ روکنے میں گل زمین کی تہہ میں جزب ہو گیا. یہ وہی قربانیاں ہیں جو آنے والے کل کے لئے ہیں. جو آنے والے نسلوں کے لئے ہیں. جو آزاد بلوچستان کے لیے ہیں. ہنجیرہ زہری کے شہداء میں ایک اہم نام شھید صدام کا ہے. میں زاتی طور پر شھید کی بطور ایک جہد کار کی زندگی سے واقف نہیں تھا. جب دو دن قبل سوشل میڈیا میں بلوچ لبریشن آرمی کا ایک بیان دیکھا جس میں کہا گیا تھا کہ شھید صدام ایک گروپ کمانڈر کی حیثیت سے ساروان جھالاوان کے مختلف علاقوں میں اپنے فرائض انجام دیتے ہوئے گزشتہ ماہ اپنے دو دیگر ساتھیوں کے ساتھ کسی خاص مشن کو حاصل کرنے کے لیے جاتے ہوئے بے ضمیر مخبر کی نظر میں آ گئے تھے جن کا راستہ دشمن نے روکنا چاہا تو خود کو دشمن کے حوالے کرنے کی بجائے ہزاروں راز سینے میں دفن کر کے فدائین حملہ کا فیصلہ کیا اور دشمن کے سپاہیوں کے پاس پہنچ کر خود کو بارودی مواد سے اڑا دیا. ایک تاریخی فیصلہ جس سے دشمن کے ہوش اڑ گئے. ایک تاریخ ساز عمل جس نے دو دشمنوں کے درمیان فاصلے کو مزید مضبوط کیا. ایک تاریخی حقیقت جس نے ایک کمانڈر کی قابلیت سے دوست دشمن سب کو روشناس کرایا. موقعے پر ایک اہم فیصلہ جس نے بلوچ لبریشن آرمی کے ایک بلوچ جہد کار کی فہم و فراست سے سب کو آگاہ کیا. یہی وہ چیز ہے جو عرفان صدام کو دوستوں کے درمیان ایک ممتاز مقام مہیا کرتا ہے. عرفان کے دوستوں سے معلوم ہوا کہ شھید کی ایک بیٹی ہے جس نے اپنے ابا جان کو نہیں دیکھا اور ابا جان نے بھی اپنی بیٹی کو نہیں دیکھا تھا. شہید صدام آزادی جیسی نعمت کے حصول کے لیے نکلنے سے پہلے یہ ضرور سوچا ہو گا کہ شاید اس خطرناک میدان میں وہ جان کی بازی ہار بھی جائے لیکن کیا فرق پڑتا ہے ہماری قربانی ہی سے تو آزادی ممکن ہوگی. ہم رہیں یا نہ رہیں درین تو ایک آزاد انسان کی زندگی ضرور جیئے گی. درین اپنی سہیلیوں کے سامنے فخر سے اپنے بابا کی بہادری کی داستان سنا سکے گی. درین اس آزادی کی قدر قیمت پہچان سکے گی جس کے حصول میں جس کی خواہش میں درین کے بابا نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا تھا. درین وہ خوش نصیب لڑکی ہو گی جسے اپنی پیاری ماں سے یہ پوچھتے ہوئے کبھی دقت پیش نہیں آئے گی کہ امی میرا بابا کہاں ہے. درین شاید ہم سب ملکر تمھیں تمھارے بہادر بابا جان کا پیار نہ دے سکیں تم سے ان کی کمی کا احساس کم نہ کر سکیں لیکن تمھیں خوش دیکھ کر ہم ضرور حوصلہ پا سکیں گے. تمھیں ہنستی مسکراتی دیکھ کر ہم میں ضرور جینے کی امنگ پیدا ہوگی. ہم تم ملکر تمھارے بابا کا خواب شرمندہ تعبیر کریں گے. وہ خواب جو تمھارے بابا نے تمھارے مستقبل کے لئے اپنی آنکھوں میں بُنا تھا. وہ خواب جو ہر شہید کا ایمان ہے. وہ خواب جو ہماری آزادی کا ضامن ہے. درین جب تم بڑی ہو جاؤ گی، دنیا کو اپنی آنکھوں سے دیکھ کر اسے سمجھنے لگو گی، ایمان، غیرت، بہادری، حوصلہ، جذبہ، بے غرض و بے لوث جدو جہد، ایثار، قربانی، حب الوطنی، مادر وطن سے سچی لگن کے فلسفے سے جب واقف ہو جاؤ گی تو ضرور آپ کا بابا ایک رات اوپر آسمان سے کسی پہر چھپکے سے ستارے کی طرح چمکتے ہوئے نمودار ہوگا اور تم سے ڈھیر ساری باتیں کرے گا تمہیں بہت پیار کرے گا اور تمہیں ایک آزاد انسان کی زندگی جیتے ہوئے دل ہی دل میں محظوظ ہوگا۔ میں آج ایک بار پھر اپنے زہری کے لوگوں کو گوش گزار کرنا چاہتا ہوں کہ اصل زندگی اور اصل موت یہی ہے جو یہ بہادر نوجوان حاصل کر رہے ہیں. خود کو لُٹا کر ہمیں جتوا رہے ہیں. خود کو بے چین کرکے ہم کو سکون فراہم کر رہے ہیں. خود کو قربان کر کے ہمیں زندگی دے رہے ہیں. خود کی پرواہ کئے بغیر ہماری چنتا کر رہے. خود سے بیگانہ ہو کر ہمیں جینے کی آس دے رہے ہیں. خود کو گمنام کر کے ہمیں مقام دے رہے ہیں. ان کی قدر کرو، انہیں سمجھو، ان کی دشمنی کا حصہ نہ بنو، ان کے راستے صاف کرو، ان کا کمک بنو. اصل عزت ،عہدہ اور رتبے کے حقدار یہی لوگ ہیں۔