جمیس میکس جون نے لیڈرشپ کے دو اسلوب اور طرز بیان کئے ہیں ایک لین دین والا لیڈر دوسرا تغیرکے قابل لیڈر ،لین دین والا لیڈر کاروباری لیڈر ہوتا ہے جو دوکاندار ہوتا ہے جسکی سیاست کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر قائم و دائم ہوتا ہے جہان نظریہ اصول ،کمنٹمنٹ ،مقصد صرف مفادات کے گرد گھومتا ہے جیسے کہ پارلیمانی جماعتین محمد علی رند ،اسد سدوزئی ،احسان شاہ ،کریم نوشروانی ،اختر مینگل،مالک کی سیاست ہے اس میں بدقسمتی سے آزادی تبدیلی کے نام پر جو کاروباری جہدکار اور لیڈر ہیں وہ بھی ایسی لین دین والی لیڈرشپ کے زمرے میں آتے ہیں جہاں اصولوں کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی ہے جبکہ تغیر کے قابل لیڈر قوم کی تقدیر اپنے سخت اصولوں ڈسپلین اور کمنٹمنٹ سے بدلتے ہیں جیسے کہ فٹبال کا کوچ بھی ایک لیڈر ہوتا ہےجو سیکھانے اور تربیت دینے میں خدادا صلاحیت رکھتا ہے بلکل اسی لیڈر بھی ہوتا ہے جو اپنے کاز کی خاطر سیکھانے اور تربیت دینے کا کام کرتا ہے کسی نے لیڈرشپ کے کچھ اور اقسام بھی بیان کئے ہیں جیسے کہ ٓامریت پسند لیڈر شپ ۲بیروکریسی انداز کے لیڈرشپ4کوچنگ اسٹائل لیڈرشپ5کراس کلچرل لیڈرشپ 6ناگہانی اور ہنگامی لیڈرشپ7عدم مداخلتی لیڈرشپ8مواقعاتی لیڈرشپ9حکمت عملی کے حامل لیڈرشپ10ٹیم لیڈرشپ11سہولت پیداکرنے والی لیڈرشپ12صاحب اثر لیڈر13ولولہ انگیز اور کرشماتی لیڈرشپ جب سمندر میں ٹھہراواور سکوں ہے تو ہر کوئی پتوار کو پکڑ سکتا ہے لیکن طوفان میں پتوار کو پکڑنا کمال ہوتا ہے بلکل ایسی طرح مشکل حالات میں صیح طریقہ سے قوموں کی رہنمائی بھی لیڈرشپ کو ظاہر کرتا ہے اور صاحب اثر لیڈر ہی قوموں کی ڈبتی ہوئی کشتی کو طوفان سے نکال سکتے ہیں بلوچ قوم بھی قابض کے زیر عتاب ہے جس نے بلوچ سرڈگار کو قبضہ کرتے ہوئے ظلم جبر کا بازار گرم کیا ہوا ہے جہان روزانہ کی بنیاد پر معصوم بلوچوں کو قتل کیا جاتا ہے ،قابض بلوچ جہدکار کرتے ہوئے سب کو یکسان طریقہ سے ماررہا ہے وہ یہ تمیز نہیں کرتا ہے کہ یہ بی ارپی ،بی این ایم ،بی ایل اے ،بی ایل ایف بی ار اے کا ہے وہ بلوچ اور قومی جہدکار کرکے سب کو نقصان دے رہا ہے اور پھر بلوچ قوم کی آواز کو بھی ایک ہونے نہیں دے رہا ہے بلکہ قوم کو گروہوں اور دھڑوں میں بانٹا ہوا ہے اور بلوچ قوم اپنی طاقت و قوت ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرے ہیں ،اس بات میں کوئی بھی دورائے نہیں ہے کہ قابض نے تمام پارٹیوں میں اپنے چند لوگ پلانٹیڈ کئے ہوئے ہیں جو قابض کے پروگرام کو آگئے لے جارے ہیں اگر تمام پارٹیاں ایک ہوئیں تو قابض کے لئے پریشانیاں ہو سکتی ہیں کیونکہ اس کے ایک بہت ہی مثبت اثر بلوچ تحریک پر کرد تحریک کی طرح بین الوامی حوالے بھی پڑ سکتا ہے اور لوگوں میں توڈی مایوسی تھی وہ بھی دور ہو سکتا ہے اس تناظر میں حیربیار مری کا بیان بلکل لوگوں کی احساسات اور گرونڈ میں موجود کمزوریوں کی عکاس ہے اور حیربیار مری کے بیانات اور انٹرویو سے ظاہر ہے اور جہاں تک معلومات ملی ہیں وہ تنظیمی ڈسپلین کے حوالے بہت سخت اور اصولوں کی پاسداری کرنے والے بلوچ قومی لیڈر ہے اور جس نے اس جہد کی بنیاد ہی بہتریں انداز میں ڈال کر 9 سال تک گمنامی میں قیادت کرتے رے اور تب منظر نامہ میں اٗے جب لندن میں گرفتار ہوئے اسکی تنظیم میں بھی ڈسپلین بہت سخت ہے اور اب اس نے مدبرانہ انداز میں قومی نااتفاقی کا احساس اور بلوچ وجود کو دو قزاقوں اور راہزنوں سے خطرے کو محسوس کرتے ہوئے تمام باقی تنظیموں سے اتحاد اور یکجہتی کے لئے پیش رفت کی ہے جس نے کسی بھی تنظیم کا نام لئے بغیر کہا کہ قومی طاقت قوم کے خلاف استعمال کرنے اور بلوچ چھوٹی سی طاقت کو سماجی مسلے مسائل میں الجھانے کے بجائے دونوں طاقتور قابض پر لگایا جائے کیونکہ دنیا جہاں میں بھی اگر قومی جہد کے دوران طاقت سماجی مسلے پر لگا وہاں بے انتہا نقصان ہوا ہے اور قومی جہد دوران جدوجہد اپنے اصل ہدف سے موڑ چکے ہیں جس مین کئی مثالیں دی جا سکتی ہیں ۔سماجی مسلوں کو قومی جہد سے مسلک کرنے کا رجہاں سوشلسٹ جہد کو نیشنلزم کی جہد سے گڈمڈ کرنے کی وجہ سے ہوا ہے لیکن صرف نیشنلزم کی قومی جہد میں کئی بھی دوراں جدجہد سماجی مسلے کو قومی جہد کے دوراں نہیں چھڑا گیا ،اور دوسری طرف حیر بیار مری نے جو طاقت کے غلط استعمال پر بات کی ہے اس میں بی ایل ایف بی ار اے بی این ایل ایف اور یو بی اے نے لوگوں کو تسلی بخش جواب نہیں دے ہیں ،کسی حد تک لوگ جن تنظیموں کو نگران اور نگبہان سمجتھے تھے وہ انتہائی غیر زمدار نکلے تمام تنطیمیں اسی نہیں ہیں لیکن ڈسپلین کی کمی کی وجہ سے ان میں چند لوگ ہیں جو پوری تنظیموں کی بدنامی کا سبب بن رے ہیں اب ان کو لگام دے بغیر قومی اتحاد مشکل ہے کہ اگئے جاسکے ہاں اب بی ایل ایف اپنی کافی حد تک اصلاح کرچکا ہے لیکن پھر بھی کچھ لوگ اب بھی ہیں جو اپنی من مانی کرنا چاہتے ہیں وہاں اصلاح کار اور اسٹیٹس کو کو برقرار رکھنے والوں کے درمیان بھی ایک بحث شروع ہوچکا ہے جو قومی تحریک کے لئے مثبت عمل ہے دوسرا اب اگر یہ اتحاد ہو تو اس بات کو یقینی بنانے کی ضروت ہے کہ یہ اتحاد باقی اتحادوں کی طرح پھر نہ ہوجائے اس میں نیک نیتی سے کام کی اشد ضرورت ہے ،حیربیار مری جو حکمت عملی کے تحت اثر کرنے والی قومی لیڈر ہے اس نے وقت و حالات کی نزاکت کا پیمائش کرتے ہوئے یکجیہتی کے لئے اپنے دو پوئنٹ دے جو کہ قوم سے مسلک تھے جس سے جہد کو اگئے فائدہ پنچ سکتا ہے اب باقی تنظیموں کو بھی قوم دوستی کا ثبوت دینا ہوگا ورنہ پھر سخت حالات کا مقابلہ کوئی بھی فریق الگ سے نہیں کرسکتا ہے سب سے کمزور بھی مظبوط ہو سکتے ہیں جب وہ متحد ہوں اتحاد اور یکجہتی اصولوں اور ڈسپلین کے تحت قومی آزادی کے کاروں کو منزل تک لے جانے کا نسخہ اور قابل قبول اصول ہے اسی ہی نسخہ اور اصول کے تحت بہت سے اقوام نے قبضہ گریت کے چنگل سے خود کو آزاد اور خود مختار کیا ،جزباتی اور لفاطیت کے تحت سوئزرلینڈ والے ہاتھوں کی مچی والے اتحاد دیرپا نہیں ہو سکتے ہیں بلکہ حیربیار مری کی پویئنٹ کے تحت اصولی اتحاد ہی بلوچ قومی جہد کو منزل تک لے جانے کا نسخہ ، فارمولااور کلیہ ہے ،اس کلیہ کے تحت اتحاد دیرپا ہوسکتا ہے اب باقی پارٹیان بھی زمینی سچائی کو سمجھتے ہوئے قومی اتحاد کے لئے تیار ہوجائیں کیونکہ اسی میں بلوچ قوم کی نجات ہے















