کوئٹہ (ہمگام نیوز)بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان گہرام بلوچ نے خاران میں ڈپٹی کمشنر کی رہائش گاہ پر بم حملہ اور فائرنگ کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ 7مارچ کو سرمچاروں نے خاران میں ڈی سی ہاؤس پر بم نصب کیا جو دھماکے سے پھٹ گیا۔جس سے عمارت کو نقصان پہنچااور اندرونی گیٹ تباہ ہوا۔ وہاں موجود لیویز کی فائرنگ کے جواب میں جوابی فائرنگ کی گئی۔یہ ڈی سی خاران کے بلوچ دشمن پالیسیوں کو روکنے کیلئے ایک وارننگ ہے۔مزکورہ ڈپٹی کمشنر بلوچ تاجروں و دکانداروں کو تنگ کرنے ، بلاوجہ جرمانہ کرنے اور انہیں ایف سی کے ہاتھوں تشدد کروانے سمیت دیگر کارروائیوں میں ملوث ہے۔اس کے علاوہ اس نے ایف سی اسکول کا افتتاح کروانے میں مدد کی ہے، جو کہ ریاستی مشینری کو براہ راست سپورٹ کرنے اور بلوچ عوام پر جبر میں برابر شراکت داری ہے۔ایف سی نے ماڈل اسکول کے ہاسٹل پر قبضہ کرکے اسے ایف سی اسکول بنا یا ہے۔ترجمان نے نامعلوم مقام سے سیٹلائٹ فون کے ذریعے کہا کہ فوج و ایف سی کے ہاتھ بلوچ کے خون سے رنگے ہیں اور وہ اپنی بلوچ کش پالیسیوں کو وسعت دینے کیلئے اسکول و ہسپتالوں کے نام پر بلوچ قوم میں انتشار پھیلانے میں مصروف ہیں۔ایسے کسی بھی عمل کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ڈی سی ہاؤس پر حملے کے دوران لیویز اہلکاروں کی فائرنگ کے جواب میں انہیں نقصان دے سکتے تھے، لیکن بلوچ ہونے کے ناطے انہیں ایک دفعہ پھر نشانہ نہیں بنایا، مگر لیویز اور پولیس کو آخری وارننگ دیتے ہیں کہ ایف سی،ریاستی بلوچ نسل کشی کی کسی بھی عمل میں معاونت سے دور رہیں، بصورت دیگر ان کے ساتھ بھی پاکستانی فوج جیسا برتاؤ کیا جائے گا۔23 مارچ کی جشن کی تیاریوں میں مصروف بلوچستان کے ڈی سیز، محکمہ تعلیم کے افسراں،دیگر اداروں اور ان کے کاسہ لیسوں کو خبردار کرتے ہیں کہ بلوچ سرزمین پر ہزاروں شہدا کی خون اور ہزاروں لاپتہ بلوچ فرزندوں کے پاکستانی زندانوں میں ٹارچر جیسے بد ترین خونی دور میں پاکستان کی جانب سے منعقدہ کسی بھی جشن و تقریب کی اجازت نہیں۔ بلوچ عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ 23 مارچ کی جشن و تقریبات سے دور رہیں، سرمچار ان پر کسی بھی وقت حملہ کر سکتے ہیں۔


