امریکی صدر ابرائیم لنکن نے کہا کہ اگر کوئی مکان اپنے اپ منقسم ہے تو وہ پاوُں کے بل سیدھا کھڑا نہیں ہوسکتا ہےتو ایک کمزور غلام قوم منتشر ہوکر الگ الگ پالیسیوں سے کیسے اپنے منزل مقصود تک پنچ سکتا ہےایک جرمن کہاوت ہے کہ حق آسائش اور ،مجبوری لوگوں کو متحد کرتا ہےردیارڈ کفلن نے اتحاد کے حوالے بہت ہی عمدہ چیز کہا ہے کہ بھیڑیا پیک کا سہارابھیڑیا ہے اوربھیڑیا کا سہارا بھی بھیڑیا پیک ہے ،اتحاد اور یکجتہی ہی ایک منزل اور ایک ہی پروگرام پر گامزن لوگوں کے لئے ناگزیر اور عین فطرت کے مطابق ہے گاندھی نے کہا کہ سچائی اور حقیقت پر مبنی اتحاد کئی ایک کشیدگی ،تناوُ اور کھچاوُ میں منتشر ہونے کے بجائے قائم ودائم رہتا ہے آج کے بلوچ مشکل حالات میں حیربیار مری نے بھی حقیقی اور حقیقت پر مبنی اتحاد کے لیے نیک نیتی سے اپنے دو پوئینٹ دے ہیں اگر بلوچ باقی پارٹیاں ان پر سنجیدگی سے غور کریں تو بلوچ قومی مشکلات کا حل نکل سکتا ہے ،حیربیار مری نے گاندھی کی طرح ایسے اتحاد کے لئے زور دیا جو آگئے کسی بھی تناوُ ،کشیدگی میں بی این ایف اور چار جماعتی اتحاد کی طرح منتشر ہوکر قوم کو بھی مایوس نہ کرے اس لئے اس نے مستقبل کے مشکلات سے نکلنے کے لئے بہتریں دو پوئینٹ دے ہیں اور آج کے بلوچستان کے حالات بھی اسیے ہیں کہ قوم کو اتحاد اور یکجہتی کی بے حد ضروت ہے اور کوئی بھی آدمی اتحاد اور یکجہتی سے انکار نہیں کرسکتا ہے ۔ اتحاد اور یکجہتی اصولوں اور مطبوط ڈسپلین کے بغیر صرف ماضی کی طرح دھوکہ ہی ہوگا بقول جون ٹریف حقیقت اور سچائی کے بغیر اتحاد گٹھ جوڑ،سازبازاور ایک مجرمانہ اتحاد کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔بلوچستان میں جتنے بھی اتحاد حقیقت کے برعکس جزبات اور دباوُ کے تحت ہوئے سب کے سب ناکامیاب ہوئے آب اتحاد سے پہلے خٖفیہ طور پر سب لوگ ملکر قومی تحریک کو درپیش تمام مسلے مسائل پر کھل کر بحث مباحثہ کرتے ہوئے سچائی اور حقیقت پر مبنی قومی اتحاد بنائیں تاکہ بلوچ قوم آپنی پوری طاقت دشمن پر لگائے ۔میری آپنی ذاتی رائے ہے کہ اس وقت بلوچ قومی جہد میں ایک طرف حیربیارمری کے ساتھ سیاسی، فکری اور علمی ، پر بصیرت اوردوربینی حوالے سے پختہ کار اور میچیور لوگوں کی بڈی تعداد موجود ہے تو دوسری طرف بی این ایم اور بی ایل ایف میں بھی سیاسی ،ادبی،اور فکری حوالے سے لوگ بھی ہیں لیکن یہاں پر یہ لوگ بدقسمتی سے چند ناعاقبت لوگوں کے ہاتھوں یرغمال ہیں یہ لوگ اپنی کمنٹمنٹ اور خلوص سے قربانی بھی دے رے ہیں مگر دوراندیشی اور دوربینی کی بہت زیادہ کمی ہے اگر یہ دونوں ایک ساتھ ہوجائیں اور اپنی علمی ،سیاسی بصیرت اور جوہر مشترکہ طور پر ایمانداری اور نیک نیتی سےمشترکہ دشمن کے خلاف لگائیں تو اس سے قومی جہد کو بہت زیادہ فائدہ پنچ سکتا ہےکیونکہ بقول سوزی قاسم اصولوں اور سچائی پر مبنی اتحاد خود ایک درندہ جانور ہے جب بھیڑیا دو کمسن بچوں کوایک ساتھ دیکھیں اور ایک مظبوط آدمی کو الگ توبھیڑیا کمسن بچوں کے بجائے مظبوط آدمی کو الگ ہونے کی وجہ سے شکار کرے گا۔اصولوں اور سچائی پر مبنی اتحاد اور فطح مترادف اور ہم معنی ہیں۔اس لئے قومی جہد کی کامیابی کے لئے حیربیار مری کے دو پوئینٹ سچائی اور حقیقت پر مبنی ہیں اور مسقبل کی جہد کو نئی رخ اور عوامی حمایت دینے کے لئے بھی اہم ہیں اور باقی پارٹیان نوشتہ دیوار پڈھ کر اس اتحاد کے لئے نیت نیتی سے کام کرکے آگئے آجائیں اور اس عمل کو منطقی انجام تک پنچاکر آپنی انرجی ،وسائل ،صلاحیت،،طاقت،قوت،دشمن پر لگاکر قومی جہد کو کامیاب کروالیں















