کوئٹہ(ہمگام نیوز)بلوچ ریپبلکن پارٹی کے سربراہ براہمدغ بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں فوری طور پر اقوام متحدہ کی نگرانی میں عام انتخابات کرائے جائیں دنیا کو معلوم ہوجائے گا کہ بلوچستان کے عوام کس کواپنا لیڈر منتخب کرتے ہیں اسوقت بلوچستان میں پنجاب کی حکومت ہے یعنی پنجاب کے نامزدافرادکو منتخب کیا جاتا ہے میرے پاکستان آنے کا فی الحال کوئی ارادہ ہے اور نہ ہی کسی نے مجھ سے کوئی رابطہ قائم کیا ہے۔ یہ بات انہوں نے اتوار کی شب ایک نجی ٹی وی سے انٹرویو میں کہی۔انہوں نے کہا کہ بلوچ رہنماوں سے ’’را‘‘ کا کبھی بھی کوئی رابطہ قائم نہیں ہوا ہے اور نہ ہی کسی نے ہمیں فنڈنگ کی پیشکش کی ہے الزام تراشی ہمارے خلاف کی جارہی ہے بلوچستان میں کوئی منتخب حکومت نہیں وہاں پر کور کمانڈر اور آئی ایس آئی کی حکومت ہے جو وہ چلارہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ جس طرح کشمیر میں ووٹ ڈالے جاتے ہیں اور بعد میں کٹھ پتلی وزیراعلیٰ بنادیا جاتا ہے اسی طرح عراق ا ور لیبیا میں بھی یہی طریقہ کار رہا ہے اور بلوچستان میں بھی یہی طریقہ کار ہے ۔انہوں نے کہا کہ مکران ،ڈیرہ بگٹی،مری ،نصیرآبادجاکر حالات کا جائزہ لیں اور معلوم کریں کہ انتخابات ہوئے بھی ہیں یا نہیں ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’را‘‘ کے جس ایجنٹ کے بارے میں یہ کہا جارہا ہے کہ اسکو بلوچستان سے پکڑا گیا ہے میری معلومات کے مطابق اسکو بلوچستان کی دو سرحدوں افغانستان یا ایران سے پکڑا گیا ہے بلوچستان میں حالات خراب کرنے میں ہمیشہ فوج کا ہاتھ رہا ہے کیونکہ اس نے آپریشن کیا ہے اور اب بھی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں آپریشن کیا جارہا ہے ۔انہو ں نے کہا کہ پہاڑوں میں رہنے والوں کا کسی بھی طرح ’’را‘‘ سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے ہتھیار پھینکے ہیں ان میں صرف چند آدمی ہمارے ہیں باقی 400،پانچ سو اور 600جو بتائے جاتے ہیں کہ انہوں نے ہتھیارپھینکے ہیں ان سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے۔ براہمدغ بگٹی نے کہا کہ میرے دادا نواب اکبر خان بگٹی شہید جب بلوچستان کے وزیراعلیٰ تھے تو انہوں نے وفاقی حکومت سے مختلف معاہدے کئے تھے جس میں بلو چستان کے عوام کے حقوق دینے سمیت دیگر معاملات بھی طے ہوئے تھے مگر وفاقی حکومت نے اس پر کوئی بھی عملدرآمد نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں ایف سی اورفوج نے ایک فورسز بنائی ہوئی ہے جس کو امن فورس کا نام دیا جاتا ہے جس کے ذریعے وہ لوگوں کو وہاں سے اٹھاتے ہیں اورآپریشن کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس وقت بلوچستان میں کوئی بھی منتخب حکومت نہیں ہے پنجاب کی نامزد کردہ حکومت ہے اور ہم ابھی بھی اس موقف پر قائم ہیں کہ بلوچستان میں بلوچوں کی حکومت نہیں ہے اگر واقعی بلوچستان میں حکومت بلوچوں کی قائم کرنی ہے تو فوری طور پر اقوام متحدہ کی نگرانی میں انتخابات کرائے جائیں دنیا کو معلوم ہوجائے گا کہ بلوچستان کے عوام کن کو منتخب کرتے ہیں وہاں پر نہ ہماری حکومت ہے اور نہ ہی ہم اس حکومت کو تسلیم کرتے ہیں جہاں تک رابطوں کا سلسلہ ہے ہم سے کوئی رابطے نہیں ہوئے چند رابطے ہوئے تھے بعد میں وہ ختم ہوگئے۔براہمدغ بگٹی نے کہا کہ اچھے سردار جن کو آرمی کی حمایت حاصل ہے جن میں ذوالفقار مگسی ،ثناء اللہ زہری شامل ہیں وہ حکومت کے ساتھ ہیں بقول آپ کے خراب سردار باہر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں تمام اختیارات اسٹیبلشمنٹ کے پاس ہیں اور وہ بتائے کہ وہ کیا کرنا چاہتی ہے ہم غلام بننے کیلئے کسی صورت تیار نہیں ہیں میں نے بی بی سی کو انٹرویو کے دوران یہ کہا تھا کہ اگر بلوچستان کے عوام خود آزادی سے دستبردار ہوجائیں تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ہوگامگر بلوچستان میں جو حالات ہیں بنگلہ دیش کی طرح ہیں اگر اسی طرح جاری رہا تو پاکستان ٹوٹ سکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ نواب اکبر بگٹی کیس کی پیروی میرے چچا جمیل بگٹی کررہے ہیں مجھے پاکستانی عدالتوں پر نہ اعتماد ہے اور نہ ہی ہمیں امید ہے کہ ہمیں انصاف ملے گاجب مشرف یہ کہتا ہے کہ جو میں نے بلوچستان میں آپریشن کیا ہے اس پر میں قائم ہوں تو پھر اسکو معافی دینے کی کیا بات ہے ہمارااس سلسلے میں اس سے یا اسکا ہم سے کوئی رابطہ نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ میری چوہدری نثار اورڈاکٹر مالک سے لندن میں کوئی ملاقات نہیں ہوئی میری صرف سوئٹزر لینڈ میں ڈاکٹر مالک سے بات ہوئی تھی اسکے بعد جو کچھ ہوا وہ آپ سب کے سامنے ہے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا اور بلوچستان کے سیاستدانوں کو بلوچستان کی صورتحال کے بارے میں اپنا موقف سب کو بتانا چاہئے تاکہ معلوم ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں جب مشرف نے آپریشن شروع کیا نہتے بلوچوں کو مارا مسخ شدہ لاشیں ملیں تو پھر بلوچستان کے حالات خراب ہوئے ۔انہوں نے کہا کہ یہ تاثر دینا کہ چودہ اگست بلوچستان میں بڑے جوش و جذبے سے منایاجاتا ہے یہ ایک ڈرامہ ہے بلوچستان کے عوام کسی صورت میں چودہ اگست کی جوش و جذبے سے نہیں مناتے کیونکہ انہیں مارا جارہا ہے وہ کس طرح اس طرح چودہ اگست منائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے کبھی بھی مذاکرات سے انکارنہیں کیا مگر ہم غلامانہ زندگی گزارنے کیلئے تیار نہیں ہیں ہم برابری کی بنیاد پر رہنا چاہتے ہیں اگر کوئی ہمیں حقوق دینا چاہتا ہے تو ہم اس سے بات چیت کیلئے تیار ہیں اگر کوئی یہ سمجھے کہ ہمیں غلامانہ زندگی دیکر ساتھ رکھنا چاہے گا تو ہم کسی صورت اس لئے تیار نہیں ہیں ہمارے حقوق ہمیں د یئے جائیں ۔انہوں نے کہا کہ ہمیں معلوم ہے کہ پنجاب کے لوگوں کو بلوچستان کے عوام سے کتنی ہمدردی ہے یہ صرف دکھاوے کی بات ہے ۔انہوں نے کہا کہ جب گوادر پورٹ بن رہا تھا تو بلوچستان نیشنل پارٹی(مینگل) ،جمہوری وطن پارٹی ،بالاچ مری نے کہا تھا کہ ہم بلوچستان کی ترقی چاہتے ہیں مگر ہمارے حقوق کو تحفظ دیا جائے جس کے جواب میں ہمیں دھمکیاں ملی تھیں کہ آپ لوگوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ قومی اقتصادی راہداری منصوبے کا مقصد بلوچوں کو غلام بنانا ہے جسے ہم کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے نہ پہلے مذاکرات سے انکارکیا ہے اور نہ آئندہ کریں گے ہم سیاسی لوگ ہیں مگراس کیلئے غلام بن کر نہیں رہیں گے انہوں نے کہا کہ پاکستان فوجی نے چند انتہاء پسندوں اور بلوچوں کو ملاکر ہمارے خلاف کاروائیاں کر رہے ہیں مسخ شدہ لاشیں ہمیں دی جارہی ہیں اس وقت جو حالات بلوچستان میں ہیں وہ بہت خطرناک ہیں ہم پہلے بھی کہتے رہے ہیں کہ ہمیں نہ کوئی بیرونی امداد ملی ہے ہمیں مارا جارہا ہے ہم نے انڈیا سے مدد کی اپیل کی تھی اس کے علاوہ ہم دو باتیں واضح کرنا چاہتے ہیں کہ جب قائداعظم اور گاندھی کے درمیان مذاکرات ہوسکتے ہیں ہم بھی مذاکرات کرنے کیلئے تیار ہیں مگر کسی کی ڈکٹیٹر شپ کو قبول نہیں کرینگے کیونکہ ہم بلوچستان کے بارے میں فیصلہ کرنے کا اختیار خود رکھتے ہیں۔


