ریاست ایک خاص جغرافیائی حدود و آبادی اور سیاسی ،معاشی اور دفاعی اداروں پر مشتمل ایک سیاسی اکائی کا نام ہے ہر ریاست اپنی سیاسی و آبادی کی ساخت اور دوسرے مختلف عوامل کی وجہ سے ایک دوسرے سے مختلف ہوتا ہے اس بنا پر ریاست کی بھی شناخت مختلف اقسام کے ساتھ کیا گیا ہے قومی ر یاست وہ ریاستیں جن میں ایک ثقافتی گروہ یا ایک قوم رہتی ہے جسکی زبان سے لیکر دوسری تمام ثقافتی اور سماجی اقدار ایک ہوں۔ جاپان جرمنی اور ناروے اسکی مثالیں ہیں۔ کثیر القومی ریاست یہ وہ ریاستیں ہیں جن میں ایک سے زیادہ اقوام آباد ہیں جن میں ایران پاکستان اور افغانستان شامل ہیں پارٹ نیشن سٹیٹس: ایک ثقافتی گروہ جسکی زبان سماجی ثقافتی اقدار و نفسیات ایک ہونے کے باوجود بہت سارے ممالک یا ریاستوں میں تقسیم ہو لیکن آ زاد ہوں اور ریاست پر انکی اپنی حکمرانی ہو ۔ بلوچ اور کرد اس زمرے میں نہیں آتے ہیں وہ مختلف ریاستوں میں تقسیم ضرور ہیں لیکن وہ ریاستیں نہ انکی اپنی ہیں بلکہ وہ وہاں مقبوضہ حثیت رکھتے ہیں۔ عرب جو کہ ایک زبان ثقافت اور دوسرے سماجی اقدار کے مشترک ہونے کے باوجود مختلف ریاستوں سعوی عربیہ مصر شام اور خلیجی ریاستوں میں بھکرے ہوے ہیں لیکن آزاد ہیں ریاستوں کی مالک خود ہیں۔ کورین جو کہ شمالی اور جنوبی کوریا میں ہیں اسکی دوسری مثال ہے۔ ماضی میں جرمنی اور یمن بھی اسی زمرے میں آتے تھے۔ اسکے علاوہ Shape کے حوالے سے بھی اسٹیٹس کی اقسام بیان کی جاچکی ہیں ۔ جو کہ میں مندر جہ ذیل ہیں۔ compact جسکی مثال پولینڈ ہے جسکو آیڈیل تصور کیا جاتا ہے کیونکہ یہ لگ بگ گول دایرے جیسی رقبہ ہوتا ہے اور دارولحکومت مرکز میں واقع ہوتا ہے وہ ریا ست کی ساری علاقوں سے تقریبا ایک ہی فاصلے پر ہوتا ہے جس سے ریاست کو اپنی عوام اور عوام کو ریاست سے جوڈنا نسباتاََ آسان ہوتا ہے۔ تا ہم جدید ٹیکنولوجی کی دریافت سے اب اس عنصر کی اتنی اہمیت نہ ہو۔ جبکہ دوسری ریاست محاصرہ کیا ہوا ریاست ہے جیسے Prorupted ریاست کہا جاتا ہے جسکی مثال تھای لینڈ ہے Perforated۔ ریاست کی ایسی Shape جسنے دوسرے ریاست کو چاروں اطراف گھیراہ ہوا ہو۔ جس طرح جنوبی افریقہ نے لوسوتھو نامی ریاست کو چاروں طرف سے گھیرہ ہوا ہے۔ اب ایسی صورتحال میں گھیرے ہوے ریاست کو آمدورفت کیلے چاہے وہ زمینی ہو یا فضای اسی ریاست سے ہوکر گزرنا پڈتا ہے ۔ دونوں ریاستوں کی تعلقات کی خرابی کی باعث گھیرے ہوے ریاست کو مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ Fragmented۔ یا کہ پارہ پارہ کردہ ریاست ایسی ریاست کو کہتے ہیں جسکے ٹکڈے سمندر کی وجہ سے ایک دوسرے سے علیحدہ ہوں انڈونیشیا اسکی ایک واضح مشال ہے۔عموماَ۔ حکومت کو ایسی ریاستوں کو کنٹرول کرنا مشکل ہوتا ہے Elongated۔ یا کہ کھنچ کر لمبا کرنے والی ریاست کی شکل ہوتا ہے جسکی مثال چلی ہے۔ جو لمبا اور چوڈای نہ ہونے کے برابر ہے۔ Exclaveَ ۔ ریاست کی ایک ایسا حصہ جو اسکی زمین سے نہ جوڈہ ہو دونوں حصوں کے بیچ ایک اور ملک ہو۔ بنگلہ دیش جب پاکستان کی حصہ تھا اور مشرقی پاکستان کہلاتا تھا اسکی ایک مثال تھی۔ قدیم زمانوں میں انسان چھوٹے گروہ میں رہا کرتا تھا پر وہ پھیلتے اور آپس میں ملتے گئے اور ایسی طرح قبایل کا ظہور ہوا۔ پھر انھوں نے اپنی مشترکہ مفادات کو مدنطر رکھتے ہوے جہاں انکی آبادی کی پھیلاو تھا ایک انتظامی ڈھانچہ بنایا جو قدیم ریاست کے قیام بتا ئی جاتی ہے یا ریا ست کی ابتدای شکل اسے کہتے ہیں ۔ جسکو والینٹیر تھویری کہتے ہیں۔ بعض ماہرین جنگوں کو بھی ریاست کی تشکیل کی ایک اہم عنصر گردانتے ہیں۔ کیونکہ جنگوں کی وجہ سے بڈی سلطنتیں وجود میں آئی اور ٹوٹ کے بکھر ے جس سے الگ ریاستوں کا قیام ہوا۔ یورپ میں جنگ عظیم اول میں آسٹریا ہنگری شکست کی وجہ سے ٹوٹ گیے اور انسے الگ ملک چیکو سلواکیہ وغیرہ وجود میں آگیے اور اسی طرح سلطنت عثمانیہ کی ٹوٹنے کے سبب عرب ممالک کو آزادی ملی اور اسی طرح دوسری جنگ عظیم جیتنے کے باوجود سلطنت برطانیہ کا شیرازہ بکھر گیا اور اسکی بہت سی نوآبادیوں کو آزادی ملی جسمیں ہندوستان بھی شامل تھا ۔ اسی طرح وسط ایشائی اور مشرقی یورپ کی ریاستیں بھی سرد جنگ کے نتیجے سے وجود میں آے۔ جو قومیں منظم اور مظبوط حکمت عملی نہ رکھتے تھے وہ ایک ریاست کی چنگل سے نکل کر دوسری ریاست کی قبضے میں چلے گیے بلوچستان کی قلات ریاست برطانیہ سے آزادی کے بعد پاکستان کے قبضے میں چلا گیا اور اسی طرح کردوں کی ماھاباد ریپبلک جو مختصر آزادی کے بعد ایران کے زیر تسلط میں چلا گیا۔ یہ ریپبلک ایران پر اتحادیوں کے حملے کی وجہ سے وجود میں آیا تھا لیکن انھیں پشت پناہی سویت یونین سے ملی۔ ۱۹۳۹ نازی جرمنی اور سویت یونین کے درمیان ایک نون اگریشن پکٹ کے تحت جرمنی نے مغرب جبکہ سویت یونین نے مشرق کے جانب سے پولینڈ پر حملہ کیا اور اسکے آدھے حصوں پر دونوں طاقتیں قابض ہو گیی اور جب جرمنی نے روس پر حملہ کیا تو پورے پولینڈ پر قابض ہوگیا جب روس نے جرمنی کی حملے کو پسپا کیا تو وہ دوبارہ پولینڈ پر پوری طرح لگ بگ نصف صدی کے عرصے تک قابض رہا۔ بلوچستان بھی پولینڈ کی طرح انگریز قابض سے نجات ملنے کے بعد پاکستانی چنگل میں چلا گیا اور قابض نے بلوچ سرڈگار میں روپ بدلا گورے کی جگہ کالے لوگوں نے لیکر بلوچوں کو غلام بنایا اور بلوچ سرزمین پر سے وائی غلامی کی سیاہ رات ابھی تک ختم نہیں ہوا ہے اور بلوچ قوم انگریز کے دور سے لیکر اب تک نیشنلزم کے نظریہ کے تحت اپنی قومی ریاست کی بحالی کی خاطر جدوجہد کررے ہیں کیونکہ ریاست کی تشکیل میں نظریہ کو ماہرین سیاست نے بہت اہمیت دی ہے ۔ ہر ثقافتی یا نسلی گروہ نے بلوچوں کی طرح قوم بننے اور اپنی ریاست کی قیام کیلیے ایک نظریہ ضرور اپنایا۔ جیسے کے پاکستان کی قیام کیلیے دو قومی نظریہ اور اسراییل کی قیام کیلیے زوینزم کو اپنایا گیا جسکا مقصد دوبارہ یہودی ریاست کا قیام عمل میں لانا تھا جزیرہ نما کوریا کے دو حصوں میں منقسم ہو کر شمالی و جنوبی کوریا کا وجود سرمایاداری اور کمیونسٹ اور سوشلسٹ نظریات کی اپنانے کی وجہ ہے۔ چاہے ان نظریات میں منطق ہو یا نہ کو ئی ان سے اتفاق رکھے یا نہ رکھے لیکن ریاست کی قیام اور اسکی وجود کو جواز دینے کیلیے ایک نظریہ ضرور اپنایا جاتا ہے۔ اسکی تشہیر و پروپگنڈا کی جاتی تاکہ یہ عوام کی ذہنوں میں بٹھائی جاے اور وہ اسکی تکمیل کیلے اپنے سب کچھ داوہ پر لگا دیں ۔ اور اسی نظرے کی عالمی مقبولیت اور حمایت اور پزیرای حاصل کرنے کیلیے ایک مدبر راہنما واسیع تر قومی مفادات کیلیے لچک کا مظاہراہ کرتا ہے ۔ ماضی میں بلوچ قوم پرستی میں کمیونزم اور سوشلسٹ نظریاتی عناصر موجودگی کی وجہ سے مغربی دنیا جو بعد میں سویت یونین کو شکست دینے میں کامیاب رہے کی توجہ اور حمایت سے محروم رہے اور منظم نہ ہونا اور صیح حکمت عملی نہ رکھنے کی وجہ سے سویت یونین سے بھی اسطرح کی حمایت اور امداد نہ حاصل کر سکے جو کہ شمالی کوریا اور ویتنام وغیرہ نے حاصل کی تھی۔لیکن اب تو کمیونزم اور سوشلزم کا دور ختم ہوا ہے آج کے دور میں کوئی پاگل ہی خود کی جہد کو اس بے ثمر نظریہ کی خاطر داوُ پر لگانے کے لیے تیار ہوسکتا ہے اور قومی جہد کو کہ مکمل قومی آزادی کی خاطر ہے اسے مڈل کلاس اپر کلاس اور علاقوں میں تقسیم کرکے ریاست کو فائدہ دینے کی سازشوں کی حمایت کرسکتا ہے جس طرح نظریہ قومی ریاست کے لیے اہم ہے بلکل اسی طرح آبادی کی بھی اہمیت ہے قوم اور لوگوں کا بھی قومی ریاست کی تشکیل میں کلیدی کردار ہوتا ہے ٓ آبادی اور ریاست ایک دوسرے کے لیے لازم وملزوم ہیں کیونکہ عوام کیلیے ریاست ہوتا ہے اور ریاست کیلیے عوام یہ دونوں عناصر ایک دوسرے کیلیے لازم و ملزوم ہیں۔ آبادی کی دو اہم مسلے ہیں آبادی کی کثرت اور قلت ۔ کثرت آبادی میں زمین اور قدرتی وسائل کے مقابلے میں آبادی زیادہ ہوتی ہے ریاست اپنی بڈی آبادی کو سہولیات مہیا نہیں کرسکتا۔ جبکہ آبادی کی قلت کی صورت میں ملک میں مزدوروں کی کمی اور جنگی حالات میں ملک کی دفاع کیلیے فوج کیلیے افراد کی قلت ہوگی۔ ہمیشہ جنگی حالات میں حکومت اور قومی راہ نماوں نے آبادی بھڈانے پر زور دیا ہے۔ اس لیے قومی جہدکاروں اور عوام کے لیے تمام دانشوروں نے کہا ہے کہ اگر جہدکار مچلی ہیں تو عوام انکا پانی اور کوئی بھی جہد عوامی حمایت سے کامیاب نہیں ہوسکتا ہے اس لیے بلوچ قوم کو بھی اپنی ریاست کی تشکیل میں عوامی حمایت پر دیان دینا چاہہئے اور عوامی طاقت سے اپنی قومی ریاست حاصل کرلینا چاہہے اور ریاست کی تشکیل اور قومی جہد میں بھی آج کے جدید دور میں جغرافیہ اہمیت بھی ہم ہے کیونکہ زمین کے بغیر ریاست کی وجود ممکن ہی نہیں۔ جغرافیائی محل وقوع اس ریاست یا خطے کی اہمیت کی سبب بنتا ہے۔ اگر کسی ریاست کی جغرافیای محل وقوع اہم ہو یا وہ کسی کونفلکٹ زون میں ہوں اگر اسکے راہ نما آنے والے ممکنہ خطرات سے بے خبر رہے تو اس ریاست اور وہاں کی عوام کی سالمیت اور وجود کو خطرات لاحق ہونگے۔ اگر وہ قوم یا زمین مقبوضہ ہے اسکی اہمیت کو مدنظر رکھ کر نوآباد کار اس پر قابض رہنے کیلیے ہر ممکن کوشش کریگی۔ پاکستان سے اگر بلوچستان آزاد ہوا تو یہ اسکے لییے سانحہ مشرقی پاکستان سے بھی خطرناک ہوسکتی ہے۔ کیونکہ اسکو جو امریکہ کی جانب سے امداد ملنا جن کے سہارے یہ ملک چل رہا امریکن بحری بیڈاہ بھی بلوچستان کی ساحل میں ہے اور نیٹو فورسز کو سپلای بھی بلوچستان سے جاتی ہے چین بھی بلوچستان کی ساحل تک رسائی کیلیے مصروف عمل ہے۔ قدرتی وسائل اور گوادر پورٹ یہ سب بلوچ قوم کے لیے یا تو جزا ہوسکتا ہے یا سزا اس میں قومی حکمت عملی اور وقت کی اہمیت بڑا کردار ادا کرسکتا ہے آزاد ریاست میں حکومت: ریاست کا سب سے اہم ادارہ ہوتا ہے۔ جو ریاست کی خارجہ داخلی دفاعی اور معاشی و سیاسی پالیسی بناتی ہے۔ ریاست کی آیین اور قوانین کی بلاداستی قایم رکھنا اور ریاست کی ہر امور کی زمہ داری اس ادارے پر عاید ہوتی ہے۔ چونکہ مقبوضہ اقوام کی ریاست کی حیثیت ختم کر دی جاتی ہے تو لحاظہ ریاست اور قوم کی شناخت کی بحالی کی زمہ داری وہ سیاسی پارٹی یا ادارے لیتے ہیں جو قوم کی آزادی ریاست کی بحالی کیلیے برسریپکار ہوتے ہیں۔ طاہر ہے انکی کام کرنے کا انداز ایک آزاد ملک کی سیاسی پارٹی سے مختلف ہوگا۔ اور ایک حساب سے وہ مقبوضہ قوم اور ریاست کی حکومت ہوتا ہے۔ جو قابض ملک کی حکومت کی پالیسی جو قبضہ کو برقرار رکھے اور یہ قومی پارٹی یا ادارے ریاست کا نیم البدل ہوتے ہیں اور انکا مقصد سخت مظبوط ڈسپلین کے تحت قومی ریاست کی تشکیل ہوتا ہے ۔ریاست کے پاس قانون کی حکمرانی ہوتا ہے جبکہ اس کے برعکس قومی ریاست کی تشکیل کے مراحل میں قانون کی جگہ پارٹی یا تنظیمی ڈسپلین ہوتا ہے جہان قانوں کی گرفت کمزور ہو وہ ملک بنانا ریپلک اور جنگل کے قانون کے مترادف ہوتے ہیں اور جن تنظیموں اور پارٹیوں میں ڈسپلین کا فقدان ہو وہ ناکام اور ڈھلہ ڈھالہ بن کر اپنے اصل ہداف تک نہیں پنچ پاتے ہیں اس لے بلوچ قومی ریاست کی تشکیل میں قومی اداروں کی تشکیل نئے سرئے سے اسیے کیا جائے کہ وہ ریاست کے نیم البدل کے طور پر سخت ڈسپلین کے تحت کام کرتے ہوئے قومی جہد کا منزل تک پنچائیں















