سیول (ہمگام نیوز) جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول میں آج “آزادی مارچ” کے شرکاء نے انڈین سفارتخانے کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ یہ مظاہرہ کورین عوام اور وہاں مقیم دیگر غیر ملکی لوگوں کے توجہ کا مرکز رہا۔ دوران احتجاج آزادی مارچ کے شرکاء نے بلوچ سرزمین پر پاکستانی جبری قبضہ گیریت، بلوچ قوم کی نسل کشی، پاکستانی فورسز کی بلوچ عوام پر ڈھائے گئے مظالم و بربریت اور آزاد و خودمختار بلوچستان کے بارے نعرے لگائے ،اور یہ مطالبہ دہرایا کہ کہ پاکستان کے وجود سے قبل بلوچستان ایک آزاد ریاست تھا۔ پاکستان نے جبری طور پہ اس پر قبضہ کر لیا ہے، اس لئے پاکستان بلوچستان سے فوری طور پہ نکل کر اس کی آزاد حیثیت کو تسلیم کرلے۔ واضح رہے کہ یہ آزادی مارچ کے شرکاء کا آخری مظاہرہ تھا۔ جو سیول میں انڈین سفارتخانے کے سامنے ہوا۔ احتجاجی مظاہرے کے بعد ایک دستاویزی یادداشت انڈین سفیر کو پیش کیا گیا۔ جس میں ان سے اقوام متحدہ میں بلوچ عوام پر ہونے والے پاکستانی بربریت کے خلاف آواز بلند کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ انڈین سفیر کو ایک تفصیلی رپورٹ بھی پیش کیا گیا۔ جس میں 1948 سے لیکر آج تک بلوچستان میں پاکستانی بربریت، بلوچستان میں بلوچ قوم کے خلاف کئے گئے آپریشنز، پاکستانی فورسز کی بلوچ نسل کشی، بلوچ وسائل کی لوٹ کھسوٹ کے بارے میں تفصیلات درج تھیں۔ میر یاسین بلوچ نے بتایا کہ دوران احتجاج ہمارے پروگرام میں پاکستانی جھنڈے کو نذر آتش کرنا شامل تھا، لیکن ہمیں اس کی اجازت نہیں دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک ایسا غیر فطری ملک ہے۔ جو نہ صرف دنیا کے امن کو تباہ و برباد کر رہا ہے، بلکہ عالمی دنیا اس کی دہشت گردانہ عزائم کی وجہ سے غیر محفوظ ہوتا جارہا ہے۔ جو اسلام کے نام کو استعمال کرتے ہوئے عقیدے کی بنیاد پر دہشت گردی پھیلا رہا ہے ۔ عالمی برادری کو اس جانب توجہ دینا چاہیے کہ پاکستان کے ہوتے ہوئے دنیا میں امن قائم کرنا ممکن نہیں۔ آج عالمی برادری پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کی وجہ سے تشویش میں مبتلا ہے۔ اور پاکستانی حکمرانوں و فوجی بالادست قیادت کی سوچ و ذہنی سطح کو سمجھنے کے سبب اس بات کا ادراک رکھتا ہے کہ یہ ایٹمی ہتھیار دہشت گردوں کے ہاتھ لگ سکتے ہیں۔ تو پھر عالمی برادری اس پر غور کریں۔ کہ پاکستان کا قائم رہنا دنیا کیلئے کتنا خطرناک ہے۔ اس لئے عالمی برادری کو اس بات پر بھی غور کرنا چاہئے کہ سیکولر بلوچ ریاست آج دنیا کی ضرورت ہے۔ نصیر بلوچ نے بتایا کہ ” قبضہ گیر پاکستان کے بلوچ قوم کے خلاف کئے گئے آپریشنز، بلوچ قوم کی نسل کشی سے متعلق پاکستانی عزائم اور پاکستان کی 27 مارچ 1948 میں بلوچ سرزمین پر قبضہ کرنے کے بارے ہم اسی طرح عالمی برادری کو آگاہی دیتے رہیں گے۔ تا وقت کہ بلوچستان ایک آزاد و خودمختار ریاست کی صورت دنیا کے نقشے پر ابھرتا ہے۔ اس سلسلے میں جلد ہی ہم اپنے آئندہ کا لائحہ عمل طے کریں گے


