زابل(ھمگام نیوز) زابل کے سرحدی علاقے میں مسلح جھڑپ کے دوران 6 افراد کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
سرکاری اور حکومتی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ 5 جون 2026 کی رات پیش آیا، مقبوضہ بلوچستان کے پولیس کمانڈر سرتیپ علی اکبر جاویدان کے مطابق یہ جھڑپ اس وقت ہوئی جب ایک “مسلح گروہ” ایران کی سرحد میں داخل ہو کر مبینہ طور پر سرحدی چوکیوں پر حملہ کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
ان کے بیان کے مطابق سرحدی فورسز اور مسلح افراد کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس میں سرحدی اہلکاروں کی برتری کے نتیجے میں “6 حملہ آور ہلاک” ہو گئے۔
پولیس حکام نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ جائے وقوعہ سے دو پستول اور بڑی مقدار میں گولیاں برآمد کی گئی ہیں۔ تاہم اب تک کسی گروہ نے اس جھڑپ کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے اور نہ ہی آزاد ذرائع سے ہلاکتوں کی تصدیق ہو سکی ہے۔
مزید یہ کہ ہلاک ہونے والے افراد کی شناخت یا پس منظر کے بارے میں بھی کوئی آزاد معلومات سامنے نہیں آئی ہیں۔
واضح رہے کہ حالیہ مہینوں میں ایرانی حکام کی جانب سے سرحدی جھڑپوں اور “مسلح گروہوں” کے خلاف کارروائیوں سے متعلق اسی نوعیت کے کئی دعوے کیے گئے ہیں، تاہم معلومات تک رسائی کی پابندیوں اور علاقے میں انٹرنیٹ کی بندش کے باعث ان دعوؤں کی آزاد تصدیق ممکن نہیں ہو سکی ہے۔


