انسان ہو کہ حیوان ہو، دونوں سفر کرتے ہیں، روز ہر لمحہ سفر ہی میں رہتے ہیں. اگر کہیں سستانے کے لئے لمحے بھرکو ٹہر بھی جائیں تو صرف تازہ دم ہوکر نئے سرے سے سفر کا آغاز کرنے کے واسطے، سفر نہیں رکتا وہ تسلسل کے ساتھ چلتا رہتا ہے۔ سفر کی اسی تسلسل میں کچھ ٹہراؤ ہیں، کچھ پڑاؤ ہیں۔ ایک آدھ سائے اور لمحوں کی حساب و کتاب بس، سائے، ٹہراؤ اور پڑاؤ پر انسان اور حیوان اپنی اپنی ضرورت کے حساب سے ٹہرتے جاتے ہیں۔ اور تازہ دم ہوکر پھر نکل پڑتے ہیں، مگر لمحوں کی قید سے حیوان آزاد ہے، لمحوں کا عذاب صرف انسان پر نازل ہوا ہے۔ کیونکہ وہ ہر لمحے کو سوچتا ہے۔ اور اسی لمحے سے ایک صدی تخلیق کرنے کی سعی کرتا ہے، اور خود تخلیق کا عمل کتنا کربناک اور اندویناک ہے وہ کسی مصور کی عکاسی میں، کسی شاعر کی شاعری میں اور کسی مزدور کی پیشانی کے شکنوں میں واضح انداز میں دیکھی جاسکتی ہے۔
’’ کن شکستوں کے شب و روز سے گزرا ہوگا
وہ مصور جو ہر اک نقش ادھورا رکھے ‘‘
پھر لمحوں سے صدی کشید کرنا تخلیق کا اعلی ترین معیار ہے۔ اور صدی ہو یا ہزاری اسکا نقطہ آغاز محض ایک لمحہ ہے۔ اور یہی لمحہ زمانوں کی تخلیق کا بنیادی عنصر ہے۔
کوئی سفر کرتا ہے روزی کی تلاش میں، کوئی سفر کرتا ہے نئی آسودگیوں کی خاطر، کوئی سفر کرتا ہے تاکہ دشمن اسکا ہمسفر نہ بن پائے، کوئی سفر کرتا ہے محض اس لیئے تاکہ اپنی سوچوں کو ایک عملی زندگی دے سکے، کوئی اس لئے سفر کرتا ہے تاکہ لوگ اسکے ہمسفر بن سکیں، مہم جویانہ سفروں کی کہانیاں تو بہت ہیں، بعض لوگ اس لئے سفر کرتے ہیں تاکہ آنے والے مسافروں کے لئے سفر کا دورانیہ اور شدت و تکالیف کم سے کم تر ہوجائیں، اور ایک سفر ہوتا ہے مقصد کے لئے اور لمحوں کے ساتھ قدم بہ قدم چلنے کی خاطر۔
ایک ایسی سفر جہاں زندگی ہرگرتے ہوئے پسینے کی بوند کے ساتھ ایک والہانہ کیفیت سے سرشار ہوکر امڈ آتی ہے، جہاں زندگی کے معنی و مطلب ہی بدل جاتے ہیں، سفر تخلیق کا سرچشمہ بن جاتا ہے، سفر مقام تخلیق نہیں کرتا۔ مگر ایسے لمحوں کو ضرور تخلیق کرتا ہے کہ جن لمحوں کی بنیاد پر آنے والی صدیوں کی تمام کردار منحصر ہوں۔
سفر زندگی ہے اور زندگی رکنے کا نام نہیں لیتی، یہ تقاضائے زیست ہے کہ آگے بڑھو اور بڑھتے چلو،
’’ زندگی کا عجب معاملہ ہے
ایک لمحے میں فیصلہ کیجئے ‘‘
اگر رک گئے تو کوئی اور آپ سے آگے بڑھے نہ بڑھے، کوئی اور آکر تم کو کچل ڈالے یا نہیں مگر وقت ضرور آپ کو کچل کر آگے بڑھ جائیگی، اسی وقت کی بے رحم عتاب سے بچنے کو انسان ہمیشگی سفر میں رہتا ہے، سفر سے منزلیں بدلتی ہیں، کل جہاں کھڑے تھے آج وہاں نہیں ہو، اور کل جہاں تک پہنچو گے وہ آج کی منزل کو بہت پیچھے چھوڑ چکا ہوتا ہے، کل جو سوچ رہے تھے آج وہ پختہ یقین ہے، نظر کی وسعت اور ذہن کی حدیں بڑھتی جاتی ہیں، سفر سے مقام کم بدلتے ہیں اور لمحے ہمیشہ فنا کے زد پر ہوتے ہیں۔ کیونکہ ہم مقام کی طرف مراجعت کرسکتے ہیں مگر لمحوں کو فنا ہونا ہے۔ اور اس میں مراجعت کہاں۔
انسان منزلیں بناتا ہے۔ اور نئی منزلوں کی طرف بڑھتا ہے، سفر رکتا نہیں، اس لئے کہ انسان جس منزل کو سر کرے وہ جگہ انسان کو ایک اور منزل کی حصول کے لئے اکساتا ہے،
’’ ہے عجب فیصلے کا صحرا بھی
چل نہ پڑیئے تو پاؤں جلتے ہیں ‘‘
وہ وقت کی صحرا میں جلنا نہیں چاہتا اور پھر کھوجتا ہوا آگے نکل جاتا ہے۔ اور اسی طرح ایک لامتناہی سفر جسے کوئی اختتام نہیں، جسکا کوئی حتمی منزل نہیں جو صرف منزلیں بدلتا ہے۔ لمحوں کو اپنی مٹھی میں بند کرکے اور خود کو لمحوں کی قید میں ڈال کر، وہی سفر ہے جس میں منزل در منزل انسان اپنی خوابوں کو تعبیر کی شالیں اوڑھاتا چلا جاتا ہے۔ اور ہر صبح ایک نئی خواب کے ساتھ بیدار ہوتا ہے۔ اور وہ خواب اسکا ممکنہ منزل بن جاتا ہے، وہ انسان ہر خواب کی تعبیر پانے کے بعد ایک نئی خواب سے ایک نئے منزل کی شکار کو نکل جاتا ہے، جب منزلیں لامتناہی ہوں تو خوابوں کی ضرورت پڑتی ہے،
’’ آسمانوں پر نظر کر انجم و ماہتاب دیکھ
صبح کی بنیاد رکھنی ہے تو پہلے خواب دیکھ ‘‘
ہر خواب ایک نئی منزل کی جستجو ہے اور ہر منزل کا حصول ایک خواب کی تعبیر ہے، اور پھر ایک نئی خواب، پھر ایک نئی منزل اور پھر ایک نیا تعبیر، سفر زندگی ہے اور زندگی رکنے کا نام نہیں لیتا۔
سفر جگہ بدلنے کا نام نہیں ہے بلکہ وقت بدلنے کا نام ہے، سفر میں بسا اوقات ہم جہاں سے شروع کرتے ہیں پھر پلٹ کر وہیں پہنچ جاتے ہیں۔ اور شروعات سے لیکر آخر تک ہمیں پتہ ہوتا ہے کہ ہمیں واپس یہیں اسی جگہ آکر ایک نئی خواب کے ساتھ ایک نئی منزل کے لیئے سفر کا آغاز کرنا ہے۔ مگر وقت وقت کی بات ہے اور وقت کی متعینات سفر کے لئے انسانی رگوں میں دوڑنے والے خون جتنی اہمیت رکھتے ہیں، جس وقت سفر شروع کیا ایک قدم آگے چلے، پیچھے گئے یا پھر اسی مقام پر رک کر رہ گئے، جگہ، مقام یا منزل شاید ایک انچ بھی تبدیل نہ ہوا ہو مگر وقت ضرور بدل چکا ہے، اور وقت کا منزل کے ساتھ بہت ہی گہرا رشتہ ہے، وہ ایک لمحہ ماضی کے جھروکوں میں پھسلتا ہوا کہیں کھوگیا اسکا بس اتنا سا نشان اور پتہ باقی رہ جاتا ہے کہ اس لمحے سفر کتنا کٹا۔
وہی سفر جو صدیوں پر محیط ہے۔ وہ لمحوں کی حساب سے کٹتا جاتا ہے، غلامی بھی ہمیں لمحہ در لمحہ ملی تھی، پہلے زمین، پھر انسان، پھرانکی حرکتیں، پھر سوچ، پھر نقسیات پھر رویئے اور اسکے بعد جسموں کو غلام بناکر ہمیں لمحہ بہ لمحہ اس تاریک غار میں اتارا گیا، اس کالی طوق کو اتارنے کی خاطر بھی لمحوں کو گرفت میں لانے کا تقاضا ہے۔ اور زندگی بھی تو تقاضا کرتی ہے بس ایک قدم کی، اور اس میں تسلسل کی، ایک قدم ایک لمحہ اور یہ تسلسل کبھی نہ ٹوٹنے پائے، ایک قدم اور ایک لمحہ جب ابدیت سے ہمکنار ہوکر تسلسل پاتے ہیں تو پھر وہ اجتماعیت اور صدیوں کی تاریخ بن کر نقش ہوجاتے ہیں۔
اور ہم جگہ کی قید سے آزاد اس سفر پر چل نکلتے ہیں واپس اسی منزل پر لوٹنے کے لئے، لیکن لمحوں کو ایک ابدی تسلسل سے ہمکنار کرکے ہم اسی مقام پر واپس لوٹ جاتے ہیں، جانور اپنے پیروں پر سفر کرتے ہیں۔ اور انکی متعینات میں کوئی خاص شئے اہمیت نہیں رکھتی۔ مگر انسان اپنے پیروں اور سوچ دونوں پر سفر کرتا ہے، وہ تصورات بنتا ہے، وہ خواب دیکھتا ہے، وہ سوچتا ہے اور اپنے ذہن میں منزل کا ایک خاکہ تیار کرتا ہے، بسا اوقات انسان ایک تھکا دینے والی سفر طے کرکے بھی اپنے سفر کا آغاز نہیں کرسکتا۔ کیونکہ وہ لمحوں کی قید سے خود کو سرے سے آزاد کرکے بس قدموں کی آہٹ پر ہمہ تن گوش بن جاتا ہے، ایک آزاد منش واسی کی طرح لمحوں کو پیروں تلے کچلتا ہوا آگے بڑھ جاتا ہے مگر اسے منزل نہیں ملتی۔
سفر بھی ایک کارخانے کی مشینی پیداوار کی طرح ہر ہر لمحے کی نفع و نقصان کا برابر حساب رکھتی ہے، سفر میں مقام کی اہمیت ہمیشہ نہیں ہوتا۔ لیکن لمحوں کی قید سے آذاد ہوکر ہم سفر کرہی نہیں سکتے، اگر لمحوں کی قید سے آذاد ہوکر سفر پر نکلے تو ہر قدم پر اپنے پیروں تلے ایک لمحے کو کچل کر قتل کردیں گے۔ اور سفر اس مشینی پیداوار کی طرح ہوگی جو مشین کی مسلسل چکروں سے تخلیق تو ہورہا ہوتا ہے۔ مگر اسکے سانچے و ڈھانچے میں اتنی شکنوں کے کرب ہوں گے کہ وہ کسی مفید مقصد کے لئے بالکل کارآمد نہ رہے۔
سفر اور میراتھن ریس میں بہت فرق ہے، سفر میں انسان اپنے ہمسفر کو ساتھ لیکر چلتا ہے اور دھیرے دھیرے، ٹہرتے ہوئے، رکتے ہوئے، پڑاؤ ڈالتے ہوئے اور بڑے آرام سے اپنے لمحوں کو قدموں تلے آنے سے بچا کر اور اپنی ذات کو لمحوں کی قید میں بند کرکے چلتا ہے، وہاں مسابقت اور مقابلہ بازی کا کوئی رجحان نہیں ہوتا، سارے ہمسفر ساتھ ساتھ چلتے ہیں، مقام کی قید سے آزاد اور وقت کی مسلسل گرفت میں، ایک ایسا سفر جسکا مطمع نظر وقت کی متعینات کو ساتھ لے کر چلنا ہو وہ رکنے میں، پیچھے پلٹنے میں اور ایک نئی اور الگ انداز سے شروعات کرنے میں کبھی نہیں ڈرتا کیونکہ میراتھن ریس کے برعکس وہاں کامیابی اور ناکامی کی نوعیت انفرادی نہیں بلکہ اجتماعی ہوتی ہے، دوسری طرف ایک میراتھن ریس جہاں سب سے پہلا شکار خود ایک ہمسفر کو پیروں تلے روندھ کر کیا جاتا ہے، بھاگم بھاگ کی اس کیفیت میں اپنے ہی لوگ کچلے جاتے ہیں۔ اور ہر کچلے جانے والے کے ساتھ آگے بڑھنے والے کی جیت کے امکانات روشن تر ہوتے جاتے ہیں، دوڑنے اور ریس لگانے کی بھی اپنی ایک نفسیات ہے۔ جہاں سب گر جائیں تو اکیلے ایک شہسوار ہی بچ جاتا ہے میدان میں۔ اور اسے کوئی پرواہ بھی نہیں۔ کیونکہ اسکے اکیلے رہ جانے میں اسکی جیت کا راز مضمر ہے۔
مگر ایک سفر جس میں انفرادی جیت کی کوئی سوچ تک نہیں، جہاں جیت کے پیمانے فرد سے نکل کر اجتماعی سانچوں میں ڈھل جاتے ہیں۔ اور وہ سفر مقام کی متعینات کو خاطر میں لائے بغیر وقت کی پیشانی پر اپنی نظریں ٹکا کر اس انتظار میں رہتی ہے کہ کہیں کوئی لمحہ اس بے ہنگم شور میں ضائع ہوکر مستقبل میں نقصان کا موجب نہ بن جائے، اور وہ سفر اپنی منزل لمحوں کو جوڑ جوڑ کر صدیوں کی شکل میں ایک دن ضرور پا لیتی ہے۔
دوڑنے کی اور سفر کرنے کی نفسیات کیسے اور کتنے مختلف ہیں بس اسی ایک جملے سے اندازہ کرلو کہ
سفر میں لمحوں کا بڑی باریکی سے خیال رکھا جاتا ہے
اور
ریس میں صدیاں بڑی بے رحمی سے کچلی جاتی ہیں۔
جہاں ریس تھا وہ بھی دیکھ لیا، جہاں سفر جاری ہے وہ منظر بھی سامنے ہے، بس آشا کرتے ہیں کہ یہ سفر اپنے اندر اتنے لمحوں کو سموئے کہ ایک صدی سمٹ کر اس میں جگہ پا سکے اور لمحوں کی صدیوں میں بدلنے کا یہ تسلسل اسی طرح برقرار رہے۔















