سب سے اونچے پہاڑ کی چوٹی پر بیٹھا دیوانہ اپنے وطن کی خوبصورتی سے لطف اندوز ہورہا تھا۔ بلبل قریب درخت پر بیٹھا اپنی سریلی آواز سے صبح کی آمد کا پیغام دے رہا تھا۔ ابھی آسمان پر بکھرے بادل سرخی رنگت کو اپنے رو میں جذب کر رہے تھے۔ رات کی تاریکی کے بعد صبح کی آمد اسے یہ سمجھا رہا تھا ہر تاریکی کے بعد ایک روشن دن آپ کا منتظر ہے۔ وہ پختہ عزم کے ساتھ قدرت کی خوبصورتی کی گہرائی میں ڈوب کر اپنے ساتھیوں کی حفاظت کر رہا تھا۔ اس کے ضمیر میں چھپا کردار اسے ہر لمحے قوم کے مستقبل پر سوچنے پہ مجبور کر رہا تھا۔ وہ بھی اپنے خیالات خواہشات کو ایک تسلسل میں باندھ رہا تھا کہ کئی ان میں بے ربطگی پیدا نہ ہو۔ سورج کچھ دنوں سے زمین کا دیدار نہ کرسکا تھا۔ آج وہ بھی بے صبری کے ساتھ زمین پر اپنی روشنی بکھیر رہا تھا۔ وہ صبح کی پہلی کرن کو دیکھ کر سورج کی پرستش کے ساتھ اسے زرتشت یاد آیا کہ بلوچ بنیادی طور حضرت زرتشت کے پیروکار رہے ہیں۔ اور بلوچی زبان بھی اوستا زبان سے نکلی ہے۔ اور آج بھی بلوچ آگ کو مقدس جانتے ہیں۔ وہ انھیں خیالوں میں گم تاریخ کے اوراق کو پلٹ رہا تھا کہ البرز سے لیکر موجودہ بلوچستان تک سفر کتنے صدیوں پر محیط ہے۔ اور اس سفر میں کتنے بلوچ ظلم و جبر تلے اپنے دن گذارتے رہے۔ اور کتنے بہادری و دلیری کے ساتھ دشمن کا مقابلہ کرتے رہے۔ اور اپنی ننگ ناموس روایات تہذیب ثقافت کے لیے قربان ہوتے رہے۔ ہماری تاریخ خون سے لکھی گئی ہے اور یہ سلسلہ اب بھی چل رہا ہے۔ ہماری زمین کو کتنوں کا لہو چاہیے۔ وہ اسی سوچ میں ڈوب گیا تاریخ کے نامور کردار آتے گئے۔ اپنے جوہر دکھاتے رہے۔ سرزمین آزاد ہوئی، پھر غلام ہوئی۔ وہ صدیوں سالوں کو ایک ہی لمحے میں دیکھتا رہا۔ غم و خوشی کے آثار اس کے پیشانی پر نمودار ہوتے رہے۔ اس کا دوست کب آ چکا تھا۔ اور اپنے کیمپ میں روزمرہ کے کاموں میں مشغول تھا۔ اسے خیال آیا کہ بلوچ نے ہر دور میں قابض کے سامنے مزاحمت کی۔ لیکن ہمیشہ کامیاب نہیں رہا۔ اس کی وجہ کیا تھی۔ وہ دوستوں کے سامنے اپنا یہ سوال رکھ کر خاموشی سے جواب کا منتظر رہا. وجہ ایک نہیں ہو سکتا ہزاروں وجوہات ہو سکتے ہیں۔ اگر ہم 1948 سے دیکھیں تو شہزادہ عبدالکریم کی بغاوت کا پس منظر ریاست قلات کا الحاق تھا۔ لیکن وہ بغاوت اتنی وسیع پیمانے پر نہ تھی۔ شہزادہ عبدالکریم  پاکستان کی غلامی کو قبول کرنے سے انکاری رہا۔ لیکن وہ اپنی بغاوت کو وسیع پیمانے پر نہ پھیلا سکا۔ البتہ اس وقت سیاسی ادارے نہ ہونے کے برابر تھے۔ اور لوگوں کو ایک نظریہ کے تحت ایک ادارہ باندھ کر رکھ سکتا ہے۔ اس وقت ادارے نہ تھے۔ قلات سٹیٹ نیشنل پارٹی کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ لیکن وہ بھی مکمل اپنی سوچ بلوچستان تک نہ پھیلا سکا تھا۔ اور سیاست کا گھڑ کوئٹہ مستونگ سے لیکر قلات تک ہی ایک سرکل میں گردش کر رہا تھا۔ پھر شہزادہ عبدالکریم افغانستان چلے گئے۔ وہاں بھی انھوں نے انتہائی سخت حالات کا سامنا کیا۔ اور وطن واپسی پر وہ مذاکرات کے لیے راضی ہوئے۔ اور گرفتار کر لیے گئے۔ اور پھر وہ خاموشی کا روزہ رکھ کر تاں مرگ اسی حال میں رہے۔ اس کے بعد شہید سفر خان نے اپنی چھوٹی طاقت کے ساتھ مزاحمت کی۔ وہ بھی اپنوں کی ہی سازش میں مارے گئے۔ اسی طرح بابو شیرو مری کچھ لوگوں کو لیکر دشمن کے سامنے سینہ سپر رہے۔اور یہ سلسلہ چلتا رہا۔ لیکن وہ مزاحمت پورے بلوچستان تک نہ پھیل سکی۔ اس کا مرکز کوہستان و بولان کے قرب و جوار کے علاقے ہی رہے۔ پھر نواب خیر بخش مری کی سربراہی میں مری قبیلہ دشمن کے مدمقابل ہوئے۔ لیکن نیپ کی حکومت کے خاتمے کے بعد بھٹو کی بربریت نے لے لی۔ اور اس دوران بلوچوں کے ساتھ ظلم و جبر کی نئی داستان رقم ہوتی رہی۔ اور اس وقت بھی تحریک آزادی و مزاحمت صرف کوہستان مری کے علاقوں میں رہا۔ باقی بلوچستان مکمل خاموش رہا۔ اس کی وجوہات بھی بہت سے ہونگے۔ کیونکہ اس وقت جہد آزادی کا پیغام گھر گھر تک نہ پہنچ سکا۔ اور جنگ آزادی کے لیے مکمل تیاری نہیں کی گئی تھی۔ اور جو لوگ میدان جنگ کا حصہ بنے وہ مری قبیلہ و مینگل قبیلہ ہی تھے۔ اور دیگر قبیلوں کے افراد انگلیوں پر گنے جا سکتے تھے  جو تحریک سے وابستہ تھے۔ یہی وجہ تھی کہ لوگوں میں ایک ہی نعرہ تھا، مری مینگل آئیں گے انقلاب لائیں گے۔ اگر حقیقی رو سے دیکھا جائے تو اس وقت جنگ ریاست نے مسلط کی۔ اور بلوچ اس وقت جنگ کے لیے تیار بھی نہ تھے۔ کیونکہ اس وقت جنگ قبائل کے روایات کے تحت لڑی گئی۔ مری قبیلہ نواب خیر بخش مری کی پیروی کرتا رہا۔ اور مینگل سردار عطااللہ مینگل کی طرف دیکھتے رہے۔ اس وقت جہد آزادی کو تنظیمی شکل نہیں دی گئی۔ بلکہ لوگ زیادہ تر قبائلی سوچ کے تحت تحریک سے وابستہ رہے۔ لیکن پھر انھیں منظم شکل نہ دے سکیں کہ وہ جہد آزادی کے لیے جد وجہد کی حقیقت کو جان سکتے۔ اور آنے والے حالات کے لیے خود کو تیار کرتے۔ بلکہ اس جہد کو مکمل قومی شکل نہیں دی گئی۔ یہی وجہ رہی کہ مکران سے لیکر خاران و تفتتان تک لوگ اس جہد سے دور رہے۔ لیکن سیاسی میدان میں بی ایس او کی جہد ہوتی رہی۔ اس طرح اگر ہم ماضی کے دھندلکوں میں پڑ جائیں تو حال سے ہمارا نظر ہٹ جائے گا۔ حالات خود بخود نہیں بدلتے حالات کو لوگ بدلتے ہیں۔ کچھ اپنے مفادات کے لیے، کچھ اپنے محرومیوں کے ازالے کے لیے، کچھ اپنے حقوق کے لیے، کچھ اپنی شناخت کے لیے، کچھ اپنی بقا کے لیے، کچھ اپنی سوچ کو دوسری پر مسلط کرنے کے لیے، کچھ اپنے مالیات کو مستحکم کرنے کے لیے حالات کو بدلتے ہیں۔ اور منظم منصوبہ بندی کے تحت یہ عمل کرتے ہیں۔ حالات اس وقت تک نہیں بدلیں گے جب آپ انھیں بدلنے کی کوشش نہیں کرتے۔ ہماری حالت کوئی خلائی مخلوق آ کر نئی بدلے گی۔ اس کے لیے ہمیں میدان میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ہم اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ہم پر جو ثقافتی و معاشی یلغار آنے والا ہے اس کا ادراک من الحیث القوم ہمیں نہیں۔ گوادر پورٹ چینا کوریڈور یہ ابھی سے ثابت کر رہے ہیں کہ یہ سیلاب ہمیں بہا کر لے جائے گا۔ اگر ہم بروقت حالات کا ادراک کریں اور اس سیلاب کے خلاف بند باندھنے میں کامیاب ہوں۔ کیونکہ اب ہمارا دشمن صرف پاکستان نہیں بلکہ چین بھی اس سارے کھیل میں برابر کا شریک ہے۔ گزشتہ دو تین سالوں سے جس تیزی کے ساتھ ریاست نے مکران سمیت بلوچستان کے تمام علاقوں میں آپریشن کا سلسلہ شروع کیا اس کا مقصد چین کے اعتماد کو بحال کرنا تھا۔ تاکہ وہ بلوچستان میں سرمایہ کاری کے لیے راضی ہو۔ اور چین پاکستان کو بلوچ جہد آزادی کو کچلنے کے لیے ہر ممکن مدد کررہا ہے۔ اس وجہ سے بلوچستان خصوصا مکران کو اپنا ٹارگٹ بنا کر اپنے میگا پراجیکٹس کی تکمیل کر رہا ہے۔ اور اس پس منظر میں ہمیں سوچنا چاہیے کہ پاکستان کے ساتھ چین کھڑا ہے۔ اور بلوچ بے یار و مدد گار اپنے جہد آزادی کو آگے لیجانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اور کوئی بیرونی طاقت ہمیں کمک نہیں کر رہی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ سب سے پہلے ہم اپنے لیے کچھ ایسے دوست ممالک پیدا کریں جہاں سے ہمیں مالی اخلاقی سیاسی و عسکری کمک ملے۔ تاکہ ہم ایک منظم طاقت کے ساتھ دشمن سے سینہ سپر ہوں۔ اور اس وقت ان چھوٹے مسائل پر اگر ہم اپنی انرجی خرچ کرتے رہیں تو اس وقت تک دشمن اپنے پالیسیوں کو منطقی انجام تک پہنچا دیا ہوگا۔ اس وجہ سے اس وقت ادارہ جاتی مسائل یا دیگر انتظامی مسائل کے جھنجھٹ میں پڑیں گے تو دشمن ہم سے آگے رہ کر ہم پر وار کرتا رہے گا ۔اور ہم ہاتھ پر ہاتھ ملتے رہیں گے۔ اور آنے والے حالات کے لیے خود کو تیار کرنا ہے۔ اور اس کے لیے منظم منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم اپنے مقصد میں کامیاب ہوسکیں۔ میں ان مسائل سے انکاری نہیں وہ اٹل موجود ہیں۔ جب تک ان کو حل نہیں کرینگے ہم آگے نہیں جا سکتے۔ لیکن سب سے پہلے ہمیں بڑے طوفان کا سامنا کرنا ہوگا۔ جو چین کی مدد و کمک سے ہم پر مسلط ہورہا ہے۔ اب ان حالات میں دنیا کو ساتھ لیکر اس کے خلاف منظم انداز میں لڑنے کی ضرورت ہے۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک طرف شیر آپ پر حملہ آور ہو رہا ہے، تو دوسری طرف آپ اپنے ہاتھ کے چھوٹے خراش کی علاج پر دھیان دینگے۔ جب تک آپ اپنے ہاتھ کو مرہم پٹی کرینگے تو اس وقت تک شیر آپ کو نیست و نابود کردے گا۔ اس طرح چھوٹے زخم کو مختصر مدت کے لیے ذہن سے نکال کر اس بڑے کینسر سے خود کو بچانا ہے۔ کیونکہ ہماری بقا اسی سے جیتنے میں مضمر ہے. آپکی باتیں درست ہیں، اور لاجواب ہیں۔ لیکن آپ اس بات کو ماننے کے لیے تیار ہیں کہ ہم اس بڑے طوفان کے آنے کا ادراک نہیں رکھتے تھے۔ اس وجہ سے اس کے لیے بروقت تیاری نہ کر سکے۔ اس مثل کی طرح تنگ آمد بہ جنگ آمد. اگر ہم پہلے دن سے منصوبہ بندی کرتے تو آج اتنے مسائل ایک ساتھ ہم پر حملہ نہ کرتے۔ ہم نے تحریک کی تحریکی حساسیت سے انجان رہ کر منصوبہ بندی کرتے رہے۔ اور دوسری طرف دشمن کی طاقت و ان کی پالیسیوں کا غلط اندازہ لگا کر ریس میں لگ گئے۔ ہماری چھوٹی کامیابی ہمیں بہت بڑی نظر آنے لگی۔ اور ہم کنویں کے مینڈک کی طرف اپنی چھوٹی دنیا میں اپنی ہی تعریف میں دن رات ایک کرتے رہے۔ اور ہماری نظر دشمن سے ہٹ گئی۔ اور ہم اپنے ایک سرکل میں گھومتے رہے۔ اب ہمیں یہ ماننا چاہیے کہ ہم ان تمام حالات کا مکمل ادراک نہیں رکھتے تھے۔ اور اس وجہ سے آج ہم پل صراط پر کھڑے ہیں۔ اور اب ہماری چھوٹی سی غلطی ہمیں تباہی کی نکڑ پر کھڑا کر دیگی. میں ادراک کی حد تک اتفاق نہیں کرتا ادراک تو شروع سے ہی تھا۔ دشمن کی طاقت کا بھی تھا۔ اور دشمن کے دوست ممالک کا بھی. جب گوادر پراجیکٹ کی ابتدا کی گئی اسی دن سے ہم جان گئے تھے۔ گوادر پروجیکٹ سے پہلے 28مئی 1998 میں ایٹمی دھماکے سے تھا کہ اس خطے میں کوئی تبدیلی آنے والی ہے۔ تمھیں یاد ہوگا کہ ہم نے ایٹمی دھماکے کے وقت اپنی پوری کوشش کی کہ دھماکے کو روکا جاسکے۔ لیکن اس وقت ہماری ایسی کوئی طاقت نہ تھی۔ اور ہم ہم فکر ساتھی ضرور تھے۔ لیکن آزادی کے خیال سے ہی ڈرتے تھے۔ اور صرف ہم صوبائی خودمختیاری پر ہی خوش تھے۔ اور ہماری جدوجہد کا محور بھی صوبائی خودمختاری تھا۔ جب مسلح مزاحمت شروع ہوئی تو ہم اس کا حصہ بنتے گئے۔ مسلح مزاحمت کاروں کو اس کا ادراک تھا۔ وہ سب کچھ جاننے کے بعد جنگ کو اپنے پہلے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے لگے۔ آج ہم بھی اسی سوچ کے تحت قدم بہ قدم جارہے ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو ہم اپنی کمزور طاقت کے ساتھ اس وقت بھی دشمن سے سینہ سپر ہیں۔ جس طرح پہلے ہی میں نے کہا تھا کہ حالات کو لوگ بدلتے ہیں۔ ہم اتنے مضبوط طاقت نہیں کہ حالات کو بدل سکیں، بلکہ انھی حالات سے سمجھوتہ کرنے کی بجائے اپنا احتجاج ریکارڈ کراتے گئے ہیں۔ آب دیکھو عراق افغانستان شام مصر لیبیا میں پانچ چھ سالوں میں کتنی بڑی تبدیلی آئی۔ ان پندرہ سالوں میں دنیا کے حالات مکمل بدل گئے۔ دوست دشمن میں بدل گئے، دشمن دوست بن گئے ۔اور یہ سارا کھیل سپر پاور ملکوں کا ہے جو ایک دوسرے کے کھینچا تانی میں دیگر کو اپنے پراکسی بناتے گئے۔ اس طرح ان حالات کے ذمہ دار وہی ہیں۔ ہم صرف ان حالات میں اپنا فائدہ حاصل کر سکتے ہیں۔ ہماری بقا ہمارے آزاد وطن میں ہے کہ ہم دنیا کے بدلتے حالات و بدلتے نقشوں میں اپنی علیحدہ شناخت کو بچا کر علیحدہ وطن کے مالک بن جائیں۔ جو کہ ہماری تاریخ ہے، جو ہمارے بزرگوں کی قربانی کی بدولت ہمیں ملی تھی.