کوئٹہ (ہمگام نیوز)بلوچ ہیومین رائٹس آرگنائزیشن کی جانب سے تربت کے سیاسی کارکن رؤف بلوچ کے گھر کے طویل محاصرے کے خلاف آج کراچی پریس کلب کے سامنے مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرہ میں بی ایچ آر او، نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے کارکنوں سمیت طلباء اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے کارکنوں نے شرکت کی، شرکا ء نے پریس کلب کے سامنے شدید نعرہ بازی کرتے ہوئے گھر کا محاصرہ فوری ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ تربت میں ایف سی اور پولیس کی بھاری نفری نے چار روز قبل رؤف بلوچ کے گھر کو محاصرے میں لیا تھا، گھر میں دو شیر خوار بچوں، ایک عمر رسیدہ شخص سمیت تین خواتین موجود ہیں۔ دو دنوں تک گھر میں موجود رہنے اور خواتین وبچوں کو حراساں کرنے کے بعد ایف سی وہاں سے چلی گئی لیکن گھر کا کنٹرول پولیس کے حوالے کیا گیا۔ پولیس کے اہلکار مذکورہ گھر میں موجود خواتین و بچوں کو مختلف حوالوں سے پریشان کررہے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے ارکان سمیت ہمسائیوں کو بھی گھر میں جانے نہیں دیا جا رہا ہے جس سے ہمارے خدشات میں اضافہ ہورہا ہے۔ گھر کے گھیراؤ کے لئے پولیس و ایف سی کے پاس کوئی جواز موجود نہیں ہے، مزکورہ گھر میں اگر کوئی مطلوب شخص چھپا ہوتا بھی وہ اب تک گرفتار ہوچکا ہوتا، چونکہ اس طرح کی کاروائیوں کا مقصد سیاسی کارکنوں کے خاندانوں کو حراساں کرنا ہے، اس لئے مستقبل میں اس بات کے واضح امکان موجود ہیں کہ فورسز خود پہلے سے خراب حالات کو مزید خرابی کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ پاکستانی آئین کے مطابق سیاست اور جمہوری جدوجہد ہر شہری کا حق ہے، جس کسی شخص کی سرگرمیوں سے ریاستی اداروں کو اعتراض ہو تو اس شخص کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی کریں، لیکن قانونی طریقوں کے برعکس بلوچستان میں فورسز کی مرضی ہی قانون ہے۔خواتین و بچوں کو حراساں کرنے کا یہ سلسلہ نیا نہیں بلکہ اس سے پہلے بھی مختلف طریقوں سے خواتین کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ مکران، آواران، جھالاوان و ڈیرہ بگٹی کے علاقوں میں کئی خواتین فورسز کے ہاتھوں اغواء ہو چکے یا قتل کیے جا چکے ہیں۔ گزشتہ سال کی جولائی کو آواران سے فورسز نے دو خواتین کو دوران آپریشن گرفتار کیا تھا، جنہیں چند دنوں کے بعد رہا کردیا گیا۔ اُن خواتین نے اپنی کہانی خود ہی بتا کر جیل میں اپنے اوپر تشدد کی صورت حال واضح کردی تھی۔ بی ایچ آر او بلوچستان کی صوبائی حکومت و دیگر اختیار داروں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ فورسز کو قانون کا پابند کریں۔ بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث اہلکاروں کو اگر اس حد تک آزادی دی جائے کہ وہ خواتین کی تقدس کا خیال رکھے بغیر کسی بھی گھر کو محاصرے میں رکھ سکتے ہیں، تو اس کے نتائج انسانی حقوق کی سنگین صورت حال کو مزید گھمبیر بنا دیں گی۔مظاہرین سے این ایس ایف کے رہنماء خرم علی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی فورسز کی جانب سے پچھلے پانچ دنوں سے خواتین وبچوں کومحاصرے میں رکھنا قابلِ مذمت عمل ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ فورسز ریاستی قانون اور انسانی حقوق کے احترام کو پامال کرنے کے بجائے ایسے افراد کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی جو کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نظر میں ملزم ہیں۔ سیاسی کارکنوں کے گھروں کا محاصرہ و خواتین و بچوں کو حراساں کرکے فورسزبنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کررہے ہیں۔ بی ایچ آر او کے کارکنوں نے کہا کہ ہم پاکستانی میڈیا اور سول سوسائٹی کی تنظیموں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بلوچستان کے حوالے سے اپنی پالیسی پر نظر ثانی کریں۔ کیوں کہ اس طرح کے مسئلوں پر خاموش رہ کر اور اصل صورت حال کو چھپا کر مذکورہ ادارے بھی شریکِ جرم ہورہی ہے۔


