Homeخبریںعالمی برادری آزادی کمزور اقوام کی جہد آزادی کی حمایت کرنی چاہیے...

عالمی برادری آزادی کمزور اقوام کی جہد آزادی کی حمایت کرنی چاہیے بی۔ایس۔ایف

کوئٹہ(ہمگام نیوز) بلوچ وطن موومنٹ بلوچستان انڈیپینڈنس موومنٹ اور بلوچ گہار موومنٹ پر مشتمل الائنس بلوچ سالویشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کئے گئے ایک پالیسی بیان میں کہاہے کہ دنیا آزادی کی جدوجہد اور دہشت گردی میں فرق کریں کرہ ارض پر جہاں بھی کمزور اقوام نوآبادیاتی طاقتوں کے خلاف اپنی اپنی آزادیوں کے لئے جدوجہد کررہے ہیں عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ سوڈان اور مشرقی تیمور کے طرز پر ان کی آزادیوں کی حمایت کریں تاکہ عالمی امن کا خواب پورا ہوسکے۔ ترجمان نے کہاکہ بلوچ سالویشن فرنٹ ان تما م آزادی کی تحریکوں کی سیاسی و اخلاقی حمایت کرنے میں کسی تذبذب اور ہچکچاہٹ کا شکار نہیں جو آزادی کا مطالبہ کرتے ہیں چاہے چیچنیا ہو یا تبت کردستان وغیرہ سمیت دنیا میں جہان بھی کہیں نوآبادیاتی نظام کے خلاف اقوا م اپنی آزادی شناخت اور جغرافیہ کا دفاع کررہے ہین ان کا یہ حق سلب نہ کیا جائے بلکہ ان مسائل کو حل کیا جائے یہ اقوام متحدہ اور انسان دوست اقوام کی زمہ داری ہے اقوام متحدہ کے زمہ داریوں میں یہ شامل ہے کہ وہ قوموں کے مابین تنازعات کے خاتمہ اور ان کے منطقی حل کو یقینی بنائے اور سب سے بڑھ کر ان کا کردارآزادانہ ہونا چاہیے آج بلوچ اور بلوچستان کی صورتحال دنیا کے سامنے ہیں بلوچ قوم کی نسل کشی کی جارہی ہے بلوچ نوجوانوں کی مسخ لاشین پھینکی جارہی ہے بلوچ آبادیوں پر حملہ کئے جارہے ہیں بلوچ عوام کو ہراساں کیا جارہاہے ماس کلنگ کا سلسلہ جاری ہے لیکن اقوام متحدہ کی زبانی جمع خرچ کے علاوہ کوئی ٹھوس اور موثر پالیسی سامنے نہیں آرہی ہے جس سے پہلے سے ساری جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں شدت آرہی ہے حالانکہ بلوچ قومی مسئلہ دنیا میں آزادی کی مانگ کرنے والوں مین سر فہرست مسئلہ ہے 1948کو بلوچستان کا جبری الحاق کیا گیا جبری الحاق زمینی حقائق کا حصہ ہے اس پر پردہ نہیں ڈالا جا سکتاایک محتاط اندازے کے مطابق ہزاروں کی تعد اد میں بلوچ فرزندشہید اور غائب کئے گئے ہیں انسانی حقوق کی سنگیں خلاف ورزیوں میں سی پیک منصوبہ کے بعد ایک نئی اور ہولناک صورتحال سامنے آئی ہے حالانکہ اقوام متحدہ ایک طرف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی دفاع کی بات کرتا ہے لیکن بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر خاموشی ان کی اپنی موقف اور منشور میں تضاد کو ظاہر کرتا ہے۔ ترجمان نے کہاکہ ایسٹ تیمور کی آزادی اقوام متحدہ کی مداخلت سے ممکن ہوا اور اسے بلا تاخیر اقوام متحدہ کی رکنیت دی گئی اگر اقوام متحدہ اپنے سینتالیسواں اجلاس میں طے کئے گئے فیصلوں کو لے کر بلوچ قومی آزادی کے حوالہ سے بھی اپنا وہی کردار اداکرے تو بلوچ قوم غلامی کے اس زلت آمیز زندگی سے نکل کر آزادی کی زندگی گزار سکے ۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز