چهارشنبه, مارچ 11, 2026
Homeخبریںبلوچ مخالف قوتیں شدید بے چینی اور فرسٹیشن کا شکار ہے:میر...

بلوچ مخالف قوتیں شدید بے چینی اور فرسٹیشن کا شکار ہے:میر قادر بلوچ

کوئٹہ (ہمگام نیوز)بلوچ وطن موومنٹ کے سربراہ اور بلوچ سالویشن فرنٹ کے سیکریٹری جنرل میر قادر بلوچ نے اپنے جاری کئے گئے بیان میں کہاہے کہ بلوچ قومی آزادی کے مطالبہ کو عالمی سطح پر بھر پور پذیرائی اور اخلاقی و سیاسی حمایت ملنے کے بعد بلوچ مخالف قوتیں شدید بے چینی اور فرسٹیشن کا شکار ہے جنیوا سمیت یورپ بھر میں آزادی کی مطالبہ میں شدت اور تشہیری پروگرامز اور موثر موبلائزیشن کے بعد سے آزادی مخالف حلقوں میں کھلبلی مچی ہے اور وہ شدت کے ساتھ بلوچ قومی مطالبہ کا مخالفت اور مذمت کر رہے ہیں جب کہ بلوچ پشتون ملاء بھی کھل کر بلوچ کاز کے خلاف پروپیگنڈہ کررہے ہیں اسلام کے یہ نام نہاد داعی جو اپنے آپ کو اسلام کا علمبردار گردا ن کر عالمی دنیا کے آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کرتے ہوئے یہ سمجھ رہے ہیں کہ عالمی دنیا ان کے کردار سے واقف نہیں یا خطے میں بلوچ قوم کے مسلمہ تاریخی حیثیت زمین شناخت کاز اور قربانیوں سے آگاہ نہیں یہ ان کی بھول ہے عالمی دنیا انسانیت امن اور انصاف کے جس درجے پر پہنچ چکی ہے جسے انسانیت کی قدر ہے لیکن یہاں تو کوئی انصاف نہیں تسلط قبضہ زیادتی یہ کوئی اہمیت نہیں رکھتے تسلط اور ظلم کو جواز دینے کے لئے یہ لوگ نوآبادیاتی قوتوں کے دائیں بازو اور شہ رگ بن چکے ہیں اسلام تویہ سبق نہیں دیتا کے ظلم و جبر کا ساتھ دو اسلام انسانیت کادین ہے اسلام کے پیروکار اور نمائندہ وہی ہوسکتے ہیں جو اس اذیت پیش صورتحال میں بلوچ قوم کے ہمدرد بنیں بلوچ قوم کی آزادی کی حمایت کریں اسلام آزادی کی مخالفت نہیں کرتا وہ تو آزادی کا مقدمہ لڑتا ہے لیکن یہان اسلام کے نام پر بلوچ پشتون ملا کا کردار واضح ہے کہ وہ اسلام کے نمائندہ نہیں بلکہ اسلام آباد کے نمائندے ہیں انہوں نے کہاکہ مذہب کی آڑ میں بلوچ قوم کے ساتھ جس کھیل کا آغاز یہ ملاء کررہے ہیں کوئی حقیقی سیکولر نہیں کرسکتا یہ صرف یہاں کے عوام اور قوموں کو گمراہ کررہے ہیں انہوں نے کہا کہ ان کے پڑوس میں اور جس قوم کا وہ حصہ ہے وہاں بلوچ قوم جس کرب ناک صورتحال سے گزر رہے ہیں اور انسانی حقوق کی پائمالیاں ہورہی ہیں آبادیوں کو ملیا میٹ کیا جارہاہے وہاں تو یہ مہر بہ لب ہے ان کے لبوں پر تالا لگا ہواہے لیکن برما اور میانمار میں ہونے والے صورتحال پر وہ رو رہے ہیں احتجاج کررہے ہیں کیا برما کشمیر اور فلسطین کے لوگ مسلمان ہے بلوچ انسان یا مسلمان نہیں یا بلوچ پر طاقت کا اندھا دھند استعمال جائز ہے انہوں نے کہاکہ عالمی حمایت اور آزادی مطالبہ پذیرائی بلوچ قوم کےلئے حوصلہ افزاء ہے بلوچ آج سے ایک طویل تسلسل سے جدوجہد کررہا ہے اس سلسلہ کے ساتھ جڑے تکالیف اور اذیتیں پشیمانی یا حیرانی نہیں بلوچ آزادی کی قیمت ادا کررہے ہیں انسانوں کو جس غلامی کے حصار میں باندھا جاتاہے اس سے نکلنے کےلئے اس سے بڑی قیمت درکار ہوتی ہے بلوچ مخالف صفوں میں کھڑی قوتیں جن میں بلوچ و پشتون ملا ء بھی شامل ہے یہ سمجھ رہے ہیں کہ وہ بلوچ قومی آزادی کی خواب پورا نہیں ہونے دیگی لیکن ہمیں یقین ہے کہ وہ نشان عبرت ٹہریں گے بلوچ اپنی منزل حاصل کرکے رہے گا

یہ بھی پڑھیں

فیچرز