قومی تحریک اور پارٹیوں کے درمیان نسبت اس طرح سے ہے کہ قومی تحریک ؛کل؛ ہے اور پارٹیاں اس کے ؛جز؛ ہیں ۔قومی تحریک سمندر ہے اور پارٹیاں اس میں دریاں کی مانند ہیں ۔کسی بھی قومی تحریک میں پارٹیاں مقصد نہیں بلکہ مقصد کو حاصل کرنے کا زریعہ ہوتے ہیں ۔ قومی تحریک میں پارٹیاں آزاد ریاست کی تشکیل کرنے سے پہلے خود تشکیل کے مراحل سے گزر کر قوم اور لوگوں کے لیئے کردار ،جرات،ایمانداری ،اصول پرستی اور اپنی موقف اور باتوں پر ڈٹے رہنے کی وجہ سے مثالی نمونہ بنتے ہیں ۔اسی طرح وہ پارٹیاں بھی قومی تحریک کا ؛کل؛ نہیں بلکہ ؛جز؛ ہوا کرتے ہیں بقول میکاولی سیاست ،سیاسی پارٹیاں اور منافقت ہم وزن ہیں۔ اور ساتھ، ساتھ ہاتھ میں ہاتھ ڈالے ہوئے ہیں ۔ جبکہ اصول پرستی ،ایمانداری،مضبوط موقف ،ڈسپلن اور راستبازی کا اس اقلیم میں کوئی عمل دخل نہیں ہے ،سیاست عموماََ پاکستان ،تیسری دنیا کے ممالک میں ہوتا ہے جہاں اقتدار کی خاطر سیاست اور منافقت کو ہم وزن بنایا گیا ہے اس اقلیم میں اصول ،ایمانداری ،موقف پر قائم رہنے کو بے وقوفی کی علامت سمجھا جاتا ہے جبکہ ایک قومی ریاست کی تشکیل کے لیے بنے والی پارٹیاں یکدم سیاست اور منافقت کی ہم وزنی گندی اور غلاظت کی سیاست سے مختلف ہوتے ہیں۔ وہاں ڈسپلن ،اصول،موقف ،ایمانداری،راستبازی ،مقصدیت جانچ کا اصول اور معیار ہوتے ہیں ۔قومی ریاست کی تشکیل کے لیے بننے والی پارٹیاں مقصدیت پر توجہ مرکوز کرتے ہیں انکا مقصد مشن کی کامیابی ہوتا ہے ۔اور ریاست کی تشکیل کی جدوجہد سیاست اور منافقت کی ہم وزنی گندی اور غلاظت کی سیاست سے میل نہیں کھاتا۔کوئی بھی جدوجہد تین طرح کے ہوتے ہیں ،انتخابی ،انقلابی اور ریاستی تشکیل کی جدوجہد ،انتخابی جدوجہد میں سیاست اور سیاسی حربہ زیادہ استعمال ہوتے ہیں اس سیاست میں عام لوگوں کو ووٹ کے لیے راضی کرنا ان کو اپنی طرف لانا ہدف ہوتا ہے ۔ جبکہ دوسری طرف کسی حکومت کو طاقت سے گرادینا انقلاب کہلاتا ہے ۔انقلاب وقت کی قید سے آزاد ایک جدوجہد ہوتا ہے جہاں انقلاب کسی ملک کی حدبندی اور حدود کو نہیں چھیڑنا ہوتا ہے۔ بلکہ اسی ملک کے حدود و حدبندی میں رہتے ہوئے نظام کو تبدیل کیاجاتا ہے ۔ جیسا کہ چین ،،کیوبا،فرانس،ایران،مصر،وغیرہ کے انقلاب تھے ۔ جبکہ دوسری طرف ریاست کی تشکیل کی جدوجہد مکمل انتخابی اور انقلابی سیاست سے الگ ایک ملک بنانے کی جدوجہد ہوتا ہے ۔ ریاستی تشکیل کے عامل پارٹیاں اور تنظیمیں دہائیوں تک تربیت اور جدوجہد کے مراحلے تک محدودرہتی ہیں ،اپنے اصولوں ،ڈسپلن،کمنٹمنٹ ،پالیسی ،ایمانداری اور موقف پر قائم رہنے کی وجہ سے وہ عوام اور لوگوں میں اعتماد قائم کرسکتے ہے ۔ اور اسی اعتماد اور ٹرسٹ کی بدولت وہ پارٹیاں اور تنظیمیں اتنی طاقت حاصل کرلیتی ہیں کہ اپنی ریاست کی تشکیل کو ممکن بنا سکیں ۔ریاستی تشکیل کی جدوجہد سے ابھرے ہوئے جہدکار قومی خوابوں کی تعبیرکے لیے میدان میں کھود پڑتے ہیں ۔یہ ایسے لوگ ہوتے ہیں جو آسمان قومی سیاست پر ستاروں کی طرح چمکتے ہیں ،یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو ذاتی اغراض سے بلند ہوکر قومی ریاست کی تشکیل کے عزم کے ساتھ تحریک میں شامل ہوتے ہیں ۔اس ریاستی تشکیل کے جدوجہدی اُبھار میں قومی شاعر ،ادیب،موسیقار،فلم ساز قومی ریاستی تشکیل کے فکر کو لیکر قابض کو للکارتے ہوئے اپنی قوم میں نیشنلزم کی ابھار کو زندہ کرتے ہیں ۔ اور ریاستی تشکیل کے عامل پارٹیوں اور تنظیموں میں تدریجاََ اضافہ ہوتا ہے ۔ انقلاب اور تدریجی عمل میں بھی فرق ہوتا ہے۔ جس طرح دن سے لیکر رات تک کا عمل تدریجاََ یا ( ارتقائی ) طور مکمل ہوتا ہے۔ اسی طرح کسی قومی ریاست کی تشکیل کے عمل میں بھی قوم کی بڑی تعداد کا شعوری ،نظریاتی اورمنطقی طور پر متفق ہونا ایک تدریجی عمل سے ممکن ہوسکتا ہے ۔قابض کے خلاف اور قومی ریاست کی تشکیل کے لیے ایک پارٹی اور تنظیم بنانا بھی ایک طرح سے ایک تدریجی عمل ہے ۔بلوچ قومی تحریک و قوم میں تین طرح کی مسلح اور سیاسی تنظیمیں ہیں۔ ایک طرف پاکستان کو مانے والے بلوچ پارٹیاں ہیں جنکا کوئی نظریہ،موقف ایمان اور واضح پروگرام نہیں ہے ۔اور جیسے یہ ان کو پاکستانی پارلیمانی سیاست محمد علی جناح اور لیاقت علی خان کی طرف سے وراثت میں ملا ہو۔ یہ لوگ بلوچ بلوچیت اور اپنی قوم کو چھوڑ کر نام نہاد پاکستانی قوم بن چکے ہیں۔ وہ اپنی پاکستانی قومیت کو ثابت کرنے کے لیے یہ لوگ حقیقی جدوجہد کے سامنے دیوار بھی بنتے ہیں۔ جہاں اس اقلیم میں اصول ایمانداری،موقف اور قومی امنگوں کے مطابق قومی سیاست کے بجائے فریب کاری ،دھوکہ دہی ،منافقت،اور وطن فروش سیاست کا پیمانہ ہے۔ جبکہ دوسری طرف دوہری قوم پرست بھی حقیقی جدوجہد کے دوراں ابھرتے ہیں اور یہ جدوجہد کا حصہ ہوتے ہوئے بھی یہ لوگ اپنی قوم اور جدوجہد کے حوالے ابہام زدہ اور کنفیوز ہوتے ہیں اس لیے انھیں دوہری قوم پرست کہا جاتا ہے ۔یہ لوگ قومی تحریک اور مقصد کو اپنا ہدف بنانے کے بجائے اپنے پوزیشن اور رتبہ بڑھانے کے لیے استعمال کرتے ہیں ۔نیشنلزم اور تحریک کی آڑ میں یہ لوگ اپنا پوزیشن بنانے کے فکر میں سرگرداں ہوتے ہیں ۔ جوں ہی انھیں موقع ملتا ہے یہ جنگی منافع خور ی اور پیداگیری بھی شروع کرتے ہیں ۔ یہ لوگ تمام پارٹیوں اور تنظیموں میں ہوتے ہیں انکا حدف پیداگیرانہ ،چاپلوسانہ اور منافقانہ انداز میں اپنا ذاتی مفادات نکالنا ہوتا ہے اور یہ تمام پارٹیوں میں موجود ایماندار طبقہ کا استصحال کرنے والے ہوتے ہیں۔ یہ لوگ بھی قابض جنگی منافع خور فوجیوں کی طرح نہ جدوجہد کو کامیاب کرنے کے حق میں ہوتے ہے اور نہ ہی ناکام کیونکہ کمزور جدوجہد سے انکا تجارت اور بزنس اور پیداگیرانہ کاروبار چلتا رہتا ہے ۔اسی طرح بلوچ قومی تحریک میں بھی پیداگیر اور جنگی منافع خور طبقہ ابھرا ہے۔ یہ پیداگیر ،قومی تحریکوں کی پیچیدگیوں سے نابلد بلوچ جو حادثاتی طور پر قومی تحریک میں نمائشی طور پر شامل ہیں انکا اپنا نہ کوئی موقف ہے اور نہ ہی کوئی نظریہ اور فکر بس یہاں سے ناراض ہوکر وہاں جاکر گلوبٹ اور گلالئی بن جاتے ہیں۔ اور اپنی لاچاری اور بے بسی اور پیداگیری کو دکھانے کے لیے گلالئی اور لاہوری لوگوں کی طرح گالی گلوچ کا سہارا بھی لیتے ہیں۔ اور یہ پیداگیر ایرانی آٹھ نمبر کے ربڑ جوتے کی طرح ہر پاوں میں فٹ ہوتے ہیں ۔ان کو نہ شرم اور نا ہی بلوچی حیا ہوتا ہے ۔ منافقت اور پیداگیری کی وجہ سے ان کا حافظہ بہت کمزور ہوتا ہے ۔ جن کویہ کل گالی دے رہے ہوتے تھے آج ان کے لیے موزوں بنے کے لیے یہ انکی تعریف کرتے ہوئے دوسرے کو وہی گالیاں دے رہے ہوتے ہیں۔ کیونکہ انکا پیشہ اور کام وقتی پیداگیری ہوتا ہے ۔اب یہ پیداگیر بھی دنیا کی سیاست کو کیا سمجھ سکتے ہیں ؟ دو دن پہلے امریکہ کے نماہندے کی طرف سے کہاگیا کہ ہم بلوچوں کی حمایت نہیں کررہے ہیں اور پاکستان کی سالمیت کی حمایت میں ہیں اور اس پر پنجابیوں کو ناچنے کی ضرورت تھی عقل دنگ رہ جاتا ہے کہ سیاسی پیداگیر اس پر جشن منا رے تھے کیا ان کو معلوم نہیں ہے کہ امریکہ جو مشرقی تیمور اور کوسوو کو مکمل سپورٹ دے رہا تھا لیکن آخری وقت تک اس نے کہا کہ میں انکی آزادی کی حمایت نہیں کرسکتا ہوں آج کے زمانے میں کونسی ملک ظاہری طور پر کہتا ہے کہ میں دوسرے ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کررہا ہوں ۔ ہاں وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لیتے ہیں ۔ اس کے علاوہ کوئی بھی ملک اس طرح کسی کی بھی حمایت نہیں کرسکتا ہے۔ لیکن بلوچ سیاست میں ایرانی پراکسی ،پیداگیر اور جنگی منافع خور طبقہ جو قومی تحریک میں شامل ہیں۔ صرف پیداگیری ،جنگی منافع خوری اور دوسروں کی پراکسی گیری کے لیے ان کو کیا فکر کوئی قوم کی حمایت یا مخالفت کرے ! کیونکہ انکا ترجیح تحریک کے بجائے انکی پارٹیاں ، ذاتی مفادات اور تعلقات ہوتے ہیں ۔ان پیداگیروں ،جنگی منافع خوروں اور پراکسی کا محور انکے ذاتی مفادات ہوتے ہیں ۔بلوچ قومی تحریک بھی باقی ماندہ تحریکوں کی طرح مشکل مراحل سے گزر کر اس مقام تک پہنچا ہے کہ آج اس نے کسی حد تک خود کو منوایا ہے کہ دنیا کے مسئلوں میں بلوچ کا مسئلہ بھی سامنے آیا ہے ۔بلوچ اور قابض پاکستان کے درمیان رشتہ قبضہ گیر اور محکوم کا ہے ۔پاکستان قابض ہے جو زبردستی بلوچ قوم کو غلام بنا چکا ہے ۔جبکہ بلوچ محکوم ہے اور دنیا بہتر جانتی ہے کہ محکوم اور قابض کا رشتہ جبر اور زوراکی کی بنیاد پر قائم ہے ۔ظلم اور زوراکی سے قوموں کو غلام بنانا اگر آسان ہوتا تو اس وقت امریکہ ویتنام ،انڈونیشاء مشرقی تیمور اور سوڈان جنوبی سوڈان کو غلام بنا چکا ہوتا ۔آج بلوچ قوم کا مسئلہ دنیا کے ایوانوں تک پہنچ چکا ہے لیکن وہ مسئلہ کو اپنا مسئلہ کیونکر نہیں بنا رے ہیں ؟ یہ دس ملین کا سوال ہے ۔اگر آج امریکہ جیسا سپر پاور اور یورپ بلوچ قومی آزادی کی کھل کر حمایت کریں تو چند دنوں میں بلوچستان آزاد ہوگا دنیا کی سیاست میں کوئی بھی ملک کھل کر کسی بھی محکوم کی اس طرح حمایت نہیں کرسکتا ۔ اسکے لیے ایک قومی اور جدوجہدی فارمولے کی ضرورت ہوتا ہے اس فارمولے کے تحت جو آزادی پسند پارٹیاں اور قومی لیڈر چلتے ہیں وہ اپنی قوم کے مسئلے کو ان کا مسئلہ بنا سکتے ہیں۔ اس میں کسی ایران کے پراکسی اور منشیات فروش پر نا یورپ اعتماد کرسکتا ہے اور نا ہی امریکہ اور جو لوگ چند تمن کی خاطر ایران اور ملاوں کی پراکسی بن کر قومی تحریک کو بدنام کرکے دنیا سے بلوچ کے اعتماد کو ختم کررہے ہیں وہ تمام شہدا اور گمنام جہدکاروں کی قربانیوں اور خون سے مزاق کررہے ہیں۔ کیونکہ بلوچ عوام نے قربانیاں دی کہ کل کو انکی قربانی سے قوم اور دنیا بلوچ قومی تحریک کی طرف متوجہ ہوگا اور انکی قربانیوں سے بلوچ کا مسئلہ دنیا کا مسئلہ بن جائے گا۔ لیکن دنیا کے سب سے بڑے دشمن ایران اور ملاوں کی اس جدوجہد کو پراکسی بنا کر دنیا کی حمایت اور ہمدردی کو خود سے دور کیا جارہا ہے ۔اس لیئے کہ چند جنگی منافع خوروں اور پیداگیروں کو ایران کی پراکسی اور ملاوں کی مڈل مینی سے پیسہ ملے گا ۔ چندجنگی منافع خوروں کے زاتی آسائش اور مفادات کی خاطر قومی جدوجہد اور بلوچ شہداء کی قربانیوں کا سودا کیا گیا ہے ۔جبکہ تیسری طرف حقیقی ریاست کے تشکیل کرنے والے جہدکار ہوتے ہیں وہ تعداد میں کم لیکن اصول ،موقف ،ثابت قدمی ،ایمانداری اور اپنی باتوں پر ڈٹے رہنے کی وجہ سے تدریجی پیش رفت کرتے ہیں۔ جس طرح بلوچ قومی تحریک میں حیربیار مری شنانا گوزماوُ کی طرح ہجوم سے الگ تلگ چند لوگوں کے ساتھ ایمانداری اور خلوص سے کام کررہا ہے جب اس نے شروع میں اپنے 9 دوستوں کے ساتھ جدوجہد شروع کیا تو نیشنل پارٹی ،بی این پی مینگل عوامی ،مسلم لیگ چنگیز، گزین مری سمیت تمام اسکے مخالف تھے لیکن اس نے اپنی ایماندارانہ اور خلوص سے جدوجہد کی وجہ سے 9 کو 900اور 900کو 9000تک بڑھایا پھر اندرونی انقلابی،دوہری قوم پرستانہ اور مفادپرستانہ سوچ نے قومی تحریک کو عروج سے زوال کی جانب لے گیا ،باقی ماندہ تحریکوں کی طرح قومی تحریک سے ،موقع پرست ،مفادپرست ،پیداگیر ،جنگی منافع خوراور نمود ونمائشی سیلفی گروپ کے ظہورنے جدوجہد کو توڑا ڈی ٹریک کرنے کی کوشش کی لیکن بلوچ رہبر واجہ حیربیار مری اپنے مضبوط موقف لاثانی اصولوں ،کمٹمنٹ ،جرائت اور ایمانداری سے پیچھے نہیں ہٹے اور انقلابی ،انتخابی فریبی ، منافقانہ اور دھوکہ دہی سے خود کو دور کرتے ہوئے آج تک چند دوستوں کے ساتھ ایمانداری سے اپنے صاف اور مضبوط موقف پر آزاد بلوچ قومی ریاست کی تشکیل کی مشن پر گامزن ہے ۔وہ انتخابی اور انقلابی موقع پرستانہ فارمولا ریاستی تشکیل کے خالص اورصاف جدوجہد پر لاگو نہیں کررہا ہے ،وہ قومی تحریک کو اولیت دے رہا ہے وہ سمجھتے ہے کہ ریاستی تشکیل فریب،دھوکہ دہی،چال بازی اور دونمبری سے نہیں بلکہ باور اوربھروسہ سے ممکن ہوسکتا ہے ۔جن پارٹیوں ،تنظیموں اور لیڈرشپ پر قوم اور دنیا کا باور اور بھروسہ ہوتا ہے وہی پارٹیاں ،تنظیمیں ،اور لیڈر ریاستیں تشکیل دے سکتے ہیں ۔چال بازی ،دھوکہ بازی ،موقع پرستی اور دونمبری سے مجید بزنجو ،شیخ رشید،طاہر القادری،ڈاکٹر مالک کی طرح پانچ سال بعد ایک الیکشن جیتا جاسکتا ہے مگر پانچ عشرہ سے زیادہ چلنے والی قومی تحریک سے ریاستی تشکیل کرنا ناممکنات میں شامل ہے ۔جس طرح الیکشن جیتنے کے تالے کی چابی دھوکہ فریب،موقع پرستی اور دونمبری اور پیداگیری ہے تو اس کے برعکس ریاست کی تشکیل کے تالے کی کنجی ایمانداری ،مضبوط موقف اپنی باتوں اور لکھے اورادا کیے ہوئے الفاظ پر قائم رہنا، بھروسہ اور باور ہوتا ہے ۔اسلیے کہتے ہیں کہ ایمانداری ایک بہت مہنگا تحفہ ہے سستے لوگوں سے اسکی توقع کرنا بے عقلی ہے ۔جو لوگ ریاستی تشکیل کے پراسیس کا حصہ ہیں وہ اپنے پانچ سال سے ادا کردہ تحریروں ،بیانات اور الفاظ تک کا بوجھ برداشت نہیں کرپارہے۔ اوروہ اپنی تحریروں ،بیانات اور الفاظ کے وزن ذری کا بوری کھبی اس کے تو کھبی اسکے سرپھینکتے ہیں کیا ایسے لوگ جو اپنے ادا کردہ باتوں ،بیانات اور تحریروں کی خود زمہداری نہیں اٹھاسکتے ۔ آگے وہ جاکر قومی ریاست تشکیل دے سکتے ہیں ؟ حیربیار مری نے جس طرح ایمانداری ،خلوص اور قومی مقصد کے تحت ریاستی تشکیل کی جدید دور میں جدید طریقہ سے بنیادی اینٹ رکھا وہ اسی ایمانداری مخلصی اور قومی کمٹمنٹ کے ساتھ ریاستی تشکیل کے عمل کو بلوچ قوم اور دنیا کے ساتھ اپنی باور اور بھروسہ کے تحت ممکن بناسکتے ہے ۔کیونکہ قومی ریاست کی تشکیل کا پہلا باب باور اور بھروسہ ہے ۔ایمانداری اور حقیقت پسندی ریاست کی تشکیل کرنے والے ایک قومی لیڈر کا قیمتی اثاثہ ہوتا ہے۔ اسکے اچھے نام ،اچھی ساکھ اور اچھے لفظ انکے انفرادی معیار پر منحصر ہوتا ہے ۔کیونکہ کسی تحریک فرد اور کارپوریشن کی حتمی کامیابی کے لیے ایمانداری بھروسہ اور باور سب سے زیادہ اور سب سے اہم عنصر ہوتا ہے ۔حیربیار مری واحد بلوچ قومی لیڈر ہے جس نے قوم اور دنیا کے باور اور بھروسہ کو کبھی نہیں توڑا ۔ وہ اپنے۔مضبوط موقف اور اصولوں پر ڈٹے ہوئے ہے۔ وہ عام حالات سے متاثر ہوکر طفل کی طرح اپنی رائے نہیں بدلتا ۔ بلکہ وہ حالات سے مقابلہ کرتے ہوئے حالات کو قومی تحریک کے لیے خود سے رُخ دیتے رہے ہے ۔ واجہ حیربیار مری قومی تحریک کو ؛کل؛ اور پارٹیوں کو اس کے ؛جز؛ قومی تحریک کو سمندر اور پارٹیوں کو اسکے دریاں سمجھ کر پالیسیاں ،حکمت عملی بنارہے ہے ،سمندر جس طرح اپنے گند کو باہر نکالتا ہے اسی طرح ریاستی تشکیل کے حامل تحریکیں تدریجی عمل کے بعد اپنے اندر کے جنگی منافع خوروں،موقع پرستوں ،مفادپرستوں اور پیداگیروں کو تمام پارٹیوں سے نکال کر ایک طرف کو کرتا ہے اور تمام پارٹیوں اور تنظیموں میں موجود ایماندار مخلص ،خلوص اور قومی جذبہ سے جدوجہد کرنے والے حقیقی قومی جہد کاروں کو ایک لڑی میں یکجا کرتے ہے ،تدریجی عمل کے دوران بلوچ قومی تحریک سے بھی موسی وفرعون ،ہارون وقارون،سراج الدولہ و جعفر،جارج واشنگٹن و ارنولڈبناڈک اس سے الگ ہی ہونگے۔ جیسے کہ مردہ جسم سے روح الگ ہو لیکن اسی دوران یہ جنگی منافع خور،کرپٹ،پیداگیر، قومی تحریک جیسے سمندر کو چھوڑ کر پارٹی جیسے معدود دریاں کے پیچھے بھاگنے والے موقع پرست اپنے مخصوص عزائم کی تکمیل کی خاطر گروہ پارٹیوں کو بیساکی کے طور پر استعمال کرتے رہیں گے لیکن فطری مسلمہ قانون کے تحت آخر کار تدریجی عمل ہی تحریکی گند کو صاف کردیگا۔