صلاحیت، سردار اور 20 گز کا دستار
عبدالنبی بنگلزئی، تضاد بیانیوں کا آئینہ دار
تحریر: دادشاہ بلوچ
” سردار کی صلاحیتیں کیا ہیں؟ کچھ نہیں بس 20 گزکا دستارہے” یہ الفاظ اس انٹریو سے ماخوذ ہیں کہ جو بزعم خود ایک زمہدار اور پیراں سال بلوچ جہد کار جناب عبدالنبی بنگلزئی کے حوالے سے ابھی کچھ دن پہلے شائع ہوئی تھی، اس میں کیا غلط اور کیا صحیح ہے، کیا حقیقت اور کیا جھوٹ ہے، کیا باتیں محض خدشات ہیں کہ جنہیں حقیقی بنا کر پیش کرنے کی سعی کی جارہی، ان باتوں کی علمی و سیاسی حیثیت کیا ہے ، ان باتوں میں از خود کس پیمانے پر تضادات موجود ہیں، ان کہی گئی باتوں کے اندر ایک علمی اور باشعور سیاسی کارکن کی حیثیت سے ہم کیا اخذ کرسکتے ہیں یا یوں کہیں کہ ان باتوں کے پیچھے جو بات کہنے یا ظاہر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے وہ کیا ہے، کیا اس انٹرویو میں غیرجانبداری کا تقاضہ بھی پورا کیا گیا یا محض اپنی دل کی بھڑاس نکالنے کے لیئے الفاظ کی پیرپھیر اور من گھڑت منطق اور دلیلوں کا سہارا لیا گیا، کیا اس میں روانی روانی میں اتنا کچھ نہیں کہا گیا کہ جسے آگے جاکر خود ہی انجانے میں نفی کیا گیا، اور ہاں کیا اس طرح سچ اور جھوٹ کی آمیزش کو الگ الگ کرکے دودھ اور پانی کے خالص رنگ کو الگ سامنے لایا جاسکتا ہے کہ جہاں انٹرویو کرنے والے اور انٹرویو دینے والے دونوں کی سوال و جواب میں ایک طرح کی پہلے سے تیار شدہ خاکے میں رنگ بھرنے کی کوشش واضح دکھائی دیتی ہو، یہ تمام وہ باتیں جنہیں سمجھنے اور ان پر سوچنے کی ضرورت ہے۔
اور ضرورت کس کو ہے؟
ضرورت صرف اس شخص یا ان لوگوں کو نہیں جو عبدالنبی بنگلزئی یا اس کے ہمنواؤں سے مختلف سوچتے ہیں بلکہ سوچنے کی ضرورت ان تمام لوگوں کو ہے جو کہ اپنی زہنی استعداد کو بروئے کار لاکر حقیقت حال تک پہنچنا چاہتے ہیں، ہر کسی کا سچ اسکا اپنا سچ ہوتا ہے اور کسی ایسی صورتحال میں جب خود سچائی ہی کو اپنی سچائی ہر گزرتے پل کے ساتھ ثابت کرنی پڑ جائے تو پھرایسی حالت یہ گمان زیادہ غالب رہتی ہے کہ ہر کسی کا سچ اسکا اپنا ہی سچ ہے اور مرضی کے مطابق بنایا ہوا سچ، اور اگر آپ نے اپنا سچ ڈھونڈنا ہے تو اپنی زہنی استعداد کے ساتھ کسی کی جوابات میں اپنے لیئے کچھ مزید سوالات ڈھونڈو اور ان سوالات کا از خود تشریح کرنے کی کوشش کرلو، زمینی حقائق تو سب کے سامنے ہیں، جو سچائیاں سامنے آچکی ہیں وہ سب کو یکساں طور پر معلوم ہیں، تجربات ہر کسی کو اسکی اپنی استعداد کے مطابق میسر ہیں، اور جو لوگ جس جگہ جس حیثیت کے ساتھ کھڑے ہیں وہ بھی آج راستے کی میل کی مانند جانے اور پہچانے جاتے ہیں ان سے متعلق بہت ساری باتیں موجود ہیں جو ہمیں سچ کی سفر میں مدد دے سکتے ہیں، یہی کسوٹی ہے سچائی تک پہنچنے کا اور اس دروازے میں محض وہ لوگ داخل ہوسکتے ہیں جو سچائی کو پانے اور حقیقت کو جاننے کی جستجو میں ہیں، اور جن لوگوں کے زہنوں میں سچائی کا خاکہ یا تصور پہلے سے بنی ہوئی ہے وہ اس بیکار کی جتن میں بھلا کیوں پڑیں، انکے لیئے سچائی برف کی مانند نہیں ہے جو کہ ٹھوس تو ہے مگر بدکرداری کی تپش سے پگھل کر مائع کی حالت میں بدل سکے، جو لوگ اپنے زہنوں میں سچائیوں کی اپنی ہی خاکہ لیئے پھرتے ہیں ان کے لیئے سچائی پتھر پر وہ لکیر ہے جو بد عہدی اور بد کرداری کی ہزاروں تپھیڑے برداشت کرکے ویسے ہی ثابت، ٹھوس اور منجمد ہی رہ جاتی ہے۔
میر محراب خان، بلوچ تاریخی مزاحمت کا منبع مانے جانے والا شخص بلوچ قوم پرستی کی تاریخ میں سرادریت اور سردار زادگی کا سب سے نمایاں مثال رہے ہیں، میر یوسف عزیز مگسی، جدید بلوچ قوم پرستی کی بانی، جس سماجی پرتوں کو خیرباد کہتے ہوئے نکل کر آئے تھے وہاں وہ سردار اور سردار زادہ ہی کہلائے ہیں، پرنس آغا عبدالکریم، پاکستان کی جبری قبضے کے بعد مزاحمت کی علامت و استعارے کے طور پر آج بھی تاریخ کے اوراق میں سانس لیتے ہوئے پسماندگان کی لہو کو گرماتے ہیں، نواب نوروز خان زرکزئی، ایک خالص قبائلی بست و کشاد سے تعلق رکھنے والے بلوچ تھے جو پیراں سالی میں اپنے بیٹوں سمیت اپنی زندگی قوم پر نچھاور کرکے دیارِ غیر میں اس دار فانی سے کوچ کر گئے، شیرو مری عرف شیروف، اپنی طویل عرصہ جد و جہد کے ساتھ بلوچ مزاحمتی تاریخ میں آج بھی زندہ ہیں، نواب خیر بخش مری، کھلے بندوں اس بات کے معترف تھے کہ وہ مری قبیلے کے سردار ہیں اور سماجی، سیاسی اور معاشی معاملات میں وہ یا ان کے مقرر کردہ نمائندے قبیلے کے تصفیہ طلب مسئلوں میں منصف کی حیثیت رکھتے ہیں، عبدالنبی بنگلزئی، آپ سے بس اتنا عرض کرنا تھا کہ کہ ان مندرجہ بالا گنائے گئے ناموں کی سماجی، سیاسی و معاشی حوالے سے قومی خدمات کے تئیں حیثیت و صلاحیت کا تعین محض 20 گز کا دستار کرے گا یا اس سے آگے بھی کچھ ہے جیسا کہ کردار، محنت، خلوص، نیک نیتی، استقامت، اصول پرستی، قومی سوچ کا پرچار اور اپنے پاس موجود قوت کو قوم کے مفادات کی جانب موڑنے کی رجحانات اور سردار و سردار زادہ ہوتے ہوئے قومی اجتماعی مفادات کے بوجھ کو کاندھے پر اٹھانے جیسے عوامل کو بھی کوئی مقام و حیثیت حاصل ہے کہ صرف لاحقے کی سردار اور سر پر دھری دستار ہی فیصلہ کن ہیں؟
بنگلزئی، اس دستار کی پُرپیچ تہوں کے حوالے سے ہم بھی کچھ عرض کریں گے، امید ہے کہ شکایت نہ ہوگی، بینش و سرپیچ کو گزوں میں ناپنے کا ابھی تک کوئی منطقی یا عقلی رواج نہیں ہے، جو صاحبِ دستار و بصارت ہیں وہ اپنے عملی یکسوئی اور گفتار کی سچائیوں سے پہچانے جاتے ہیں، مزے کی بات یہ ہے کہ بہت سے لوگ سر پہ دستار رکھے بغیر ہی صاحبِ دستار کا لقب پاجاتے ہیں، اور بسا اوقات بینائی سے محروم ہونے کے بعد بھی دور اندیش اور صاحب بصیرت کہے اور بلائے جاتے ہیں، یہ کہنے اور بلانے والوں کی چشمِ شوق کی انتہا ہے کہ ننگے سر زندگی کی شامیں بسر کرنے والوں کے سر پر بھی دستار رکھ دیتے ہیں اور یہ دستار کسی کے اچھالنے سے اچھلتا بھی نہیں اور کسی کی گرانے سے گرتا بھی نہیں، وہ دستار دلوں میں موجود یقین و اعتماد کی بنیاد پر بن جانے والی مضبوط رشتے کی ڈوری سے بندھی ہوتی ہے، اگر آپ رات کے گھپ اندھیرے میں بھی بغیر کسی روشنی کے زمین پر پڑی ہوئی سوئی کو بھی ڈھونڈ نکالیں تو بھی آپ اس بنیاد پر صاحب بصارت نہیں کہلائے جاسکتے، باز جیسی نظر تو ہوتی ہوگی لیکن بصیرت کسی کسی کو نصیب ہوتا ہے اور صاحب بصارت ہونے کے لیئے شاید ان ظاہری آنکھوں کی ضرورت بھی نہ پڑتی ہو، اگر آپکو اس طویل دورانِ جد و جہد کی نشیب و فراز سے گزرتے ہوئے محض دستار کی ظاہری 20 گز لمبائی ہی دکھائی دی ہے تو آپ سے گلہ بھی نہیں کہ آپ صاحب دستار و سر پر دھری ہوئی دستار میں فرق نہ کرسکیں۔
واحد قمبر کی جھوٹ اور فریب سے لبریز انٹرویو نما مضمون پر جب ایک کالم میں ہم نے انکے باتوں کے اندر موجود تضادات سے پردہ اٹھانے کی کوشش کی تو رحیم ایڈوکیٹ برا مان گئے کہ ہم نے انہیں جھوٹا کہا تھا، یہاں بھی بنگلزئی کم و بیش اسی بات پر گفتگو کرتے ہوئے اپنی مندرجہ بالا سردار و قبائل کے حوالے سے بات کی کس سادگی سے نفی کرتے ہیں، جیسے پڑھنے والے انکی انداز بیاں کی دل آویزی و شیرینی کے وارے نیارے ہوکر اسکی باتوں کی اندر سے در آنے والے تضادات سے بے خبر ہیں، کہتے ہیں کہ ” استاد واحد قمبر کی اس بات کی تردید کروں بھی شاید مناسب نا لگوں، لیکن تصدیق کرنا بھی میرے لیئے گراں ہے۔ پہلے ایک بات میں واضح کردوں کہ آج ہماری تحریک جہاں پہنچی ہے، اس میں ہم قبائل کے کردار کو ہرگز نظر انداز نہیں کرسکتے۔ اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ ہماری تحریکیں قبائل کی مرہونِ منت رہی ہیں “۔ یہ سنگتی اور لحاظ داری کے بدترین تصویر ہے کہ آپ واحد کی بات کا نہ تردید کرنا چاہتے ہیں اور نہ تصدیق کرنے کی ہمت پاتے ہیں، یہی سنگتی و لحٓاظ داریاں آج تحریک کو اس بدترین دوراہے پہ لاکر کھڑی کرچکے ہیں، موصوف کی مندرجہ بالا جواب میں موجود تضادات کو دیکھیں، یہاں 2 لفظ استعمال ہوئے ہیں، امید یہی ہے کہ بنگلزئی جیسے پیران سال سیاسی بندے نے مکمل سمجھ بوجھ کے ساتھ یہ لفظ استعمال کیئے ہیں، پہلا لفظ ہے نظر انداز اور دوسرا ہے مرہون منت، نظرانداز کسی ایسی بات یا شئے کے بارے میں استعمال کی جاتی ہے کہ جسے اسکی اپنی حیثیت میں کلی طور پر قبول نہ کی جائے، ویسے کوئی چیز یا فکر جو آپ کی حیثیت سے برتر ہو اور آپکو اس چیز یا فکر کی ضرورت بھی ہو تو آپکا اسکو نظرانداز کرنا ممکن نہیں رہ جاتا، اور کوئی چیز ایسی ہو کہ جس کا آپ پر احسان ہو، آپ اسکے احسان مند ہوں تو آپ اسے کبھی بھی حیثیت میں کم سمجھ کر رد نہیں کرسکتے بلکہ جسکے آپ احسان مند ہوں وہ آپ سے حیثیت، کردار، عمل اور ظاہری خد و خال اور عقل و شعور کے لحاظ سے برتر ہوگا، یہاں دوسرے لفظ مرہون منت کا مفہوم ہے کہ کسی کے زیر منت رہنا، یعنی کوئی ایسا تھا جسکا عمل اتنا شاندار اور حیثیت اتنی زیادہ تھی کہ آپکے ہوتے ہوئے بھی وہ آپکو اپنی احسانوں کے زیر بار کرکے منظر پر چھا گیا، اب آتے ہیں پہلی بات کہ اوپر کہ اگر بمطابق بنگلزئی کہ یہ تحریک یا پوری بلوچ تحریکیں قبائل کی مرہون منت ہیں تو قبائل کی سماجی و سیاسی ساخت میں سردار کو مرکزی اہمیت حاصل ہے، اس حساب سے سردار کی حیثیت تحریک کے اندر اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ اس قبائل کا، دوسرے لفظوں میں یہ تحریک سردار کی ہی مرہون منت ہے، کیونکہ قبائلی نظام میں قبائلی لوگ سردار کے رعایا ہوتے ہیں، یہ ایک سماجی حقیقت ہے، اس بنا پر اگر دیکھیں تو سردار کی حیثیت 20 گز کے دستار پر نہیں ٹکتی بلکہ بہت آگے تک سفر کرتی ہے اس لمبے سفر کی روداد بنگزئی صاحب خود اپنی لفظوں میں بیان کررہے ہیں، تو پھر اس بات کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ بنگلزئی کیوں قبائل و سردار کو لے کر گومگوں جیسی کیفیت کی شکار ہیں، وہ قبائل کی احسان تلے دب جانے کو تیار ہیں لیکن اسی قبیلے کی سردار کہ جس کو قبائلی سماج میں مرکزی مقام حاصل ہے کو محض 20 گز کی دستار میں لپیٹ کر محدود کرنے کی کوششوں میں مگن ہیں، ایسا کیوں ہے، اگر کبھی موقع ملے تو بنگلزئی سے روبرو ضرور پوچھوں گا اور یقینا وہ خود اسکا بہتر جواب بھی دے سکیں گے مگر یہاں اپنی زہنی استعداد کی حد تک اس پر ضرور بات کریں گے، کوئی بھی قبائل جو سماجی و سیاسی اعتبار سے قبائل کی تعریف پر پورا اترتی ہے تو اسکے بند و بست میں سردار کی مرکزی اہمیت کی ناگزیریت برحق ہے، یہاں بنگلزئی کا قبائل کیٍ حیثیت کو مانتے ہوئے سردار کو نکال پھینکنے کے پیچھے محض بغض، بد نیتی اور ذاتی مفاد و ضد و خنص ہی کارفرما ہے کہ استدلال اور منطق کو آگ لگا دو بس اس سردار کی مخالفت کرنی ہی کرنی ہے، جیسا کہ موصوف آگے خود کہتے ہیں کہ ” میں اور واحد جس جہد میں شامل ہوئے، وہ قبائل کی شروع کی گئی تحریک تھی” اور آگے کہتے ہیں کہ ” یہ راتوں رات بدلنے والا نظام نہیں تھا، بلکہ یہ ارتقائی مراحل سے گذر کر ہی قومی یا جدیدیت کے قالب میں ڈھلتا” اب ارتقاء پر پر ذرا غور کریں اور بتائیں کہ کیا وہ ارتقائی مرحلہ آن پہنچا ہے کہ جہاں آپ قبائلی بنیادوں سے الجھ سکتے ہیں یا اس موجودہ لمحے میں اسکی ضرورت ہے؟ یا آج اس امر کی ضرورت زیادہ ہے کہ جہاں سے اور قوم کے جس جس طبقے سے اس تحریک کو ایندھن مل رہی ہے اس قوت کو چاہے وہ میر کا ہو سردار کا ہو عام بلوچ بزگر و پوریاگر کا ہو یا قبائل کا ہو، سب کو لے کر ایک نقطے پر مرکوز کرکے دشمن کے سامنے کھڑا کریں یا پھر دوران مزاحمت یہ سرداری و نچلے طبقے کی شوشہ چھوڑ کر قومی اجتماعی طاقت کا دھڑن تختہ کرلیں جیسے کے بنگلزئی کے حواری و ہمنوا کرتے چلے آرہے ہیں اور موصوف انہیں دودھ کے دھلے بتاکر پیش کررہے ہیں، اور پھر خود موصوف اپنی ارتقائی تکرار کی بات کو خود ہی تضادات کی نکیل ڈٓال کر بڑے فخر سے سینہ تھان کر کہتے ہیں کہ نہ میں یو بی اے میں ہوں، نہ میں بی ایل اے میں ہوں اور نہ میں کسی اور تنظیم کا باقاعدہ ممبر ہوں، بلکہ وہ فخریہ کہتے ہیں کہ ” اگر کوئی مجھے نواب خیر بخش کی دوستی کی وجہ سے یو بی اے میں سمجھتا رہا ہے تو یہ غلط ہے، ایسا نہیں تھا۔ باقی جو دوستی اور سیاسی رفاقت میری نواب صاحب کیساتھ رہی ہے”، اب اگر میں کہوں کہ یہ منہ اور مسور کی دال تو لوگ برا مان جائیں گے کہ پیراں سال بزرگ کی عزت نہیں کی، خود بندہ اپنی عزت تو رکھ لے، میں حیران ہوتا ہوں کبھی کبھار یہ سوچ کر ہم نچلی سطح کے جنگی محاذ پر موجود کچھ لوگوں سے نالاں ہیں کہ انکی یاریاں دوستیاں تحریک کو اصولوں کی پٹڑی سے اتار رہی ہے یعنی جو میرا دوست ہے میرا ہمنوا ہے وہ جو کرے گا وہ حرف آخر ہے، لیکن بنگلزئی کی یہ بات کہ میں کسی تنظیم کا ممبر یا جوابدہ نہیں ہوں بلکہ میری دوستی نواب صاحب سے ہے، یہ منہ اور مسور کی دال کے مصداق یہی بندہ پھر کہتا ہے کہ یہ ارتقاء کا زمانہ ہے اور ادارے لازمی ہیں، یعنی آپ اپنی وابستگی نواب خیر بخش مری سے ظاہر کررہے ہیں، وہی نواب خیربخش مری جو بقول آپکے ادارہ سازی کے کٹر مخالف رہے ہیں، تو پھر آپ اپنی حیثیت کا کس طرح تعین کریں گے کہ آپ ستر سے آج تک نواب خیر بخش مری کے تابع رہے ہیں اور قومی جنگ کو لے کر جہاں سینکڑوں کی تعداد میں لوگ مررہے ہیں اگر آپکی پہچان محض نواب سے وابستگی ہی ہے تو پھر آپ تو غلط اور صحیح میں اپنی مقام و حیثیت کا تعین نہ کل کرپائے ہیں اور نہ ہی آج کرپارہے ہیں، آج بھی آپ یہی کہہ رہے ہیں کہ میں سب تنظیموں کی کیمپوں میں رہا ہوں، بطور مہمان کیونکہ گھر میں تو میں رہ نہیں سکتا تھا لیکن میں کسی تنظیم کا باقاعدہ ممبر نہیں رہا ہوں، یا تو آپکے زہن میں ادارہ کوئی دیو مالائی چیز ہے یا پھر آپ ان تنظیموں کے اندر روز روز کی بنیاد پر بھلی چڑھ جانے والوں کی قربانیوں کو اس قابل نہیں سمجھتے کہ آپ ان میں شامل ہوکر انکو ادارے بننے کی طرف لے جاتے۔
اگر مقصد حقیقت حال پر بات کرنا ہو تو اس میں تضادات کی گنجائشیں کم بنتی ہیں، لیکن بات مصنوعی ہو اور حقائق سے ہٹ کر ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت بات کی جائے تو ہر دوسرے جملے میں تضادات راہ کے پتھر بن کر سامنے آتے جائیں گے اور بنگلزئی کی اس انٹرویو میں بالکل ایسا ہی ہوا ہے، چند تاریخی حقیقتوں اور ذاتی تجربات کو چھوڑ کر جو بھی باتیں اس انٹرویو میں موجود ہیں وہ ایک ہی شخصیت ( سنگت حیربیار ) کی مخالفت کے گرد گھومتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں، انسان کتنا گر سکتا ہے، اسکا اندازہ اس انٹرویو کو پڑھ کر بخوبی کیا جاسکتا ہے، موصوف بات کرتے ہوئے کہتے ہے کہ میں نے ثالثی کی کوشش کی تھی یعنی کے درمیان کا فرد بن کر مسائل کو حل کرنے کی سعی کی گئی لیکن وہ پھرخود یہ کہتے ہیں کہ جب بی ایل اے کے وتاخ میں جنگ اور ہتھیاروں کو واپس لینے کی باتیں ہورہی تھیں تو میں بی ایل ائے کے کیمپ سے نکل کر یو بی ائے کے کیمپ چلا گیا، اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ محاذ آرائی یا اختلاف کن تنظیموں کے درمیان تھی، یہ جنگ تو آنا فانا وقوع پذیر تو نہیں ہوا کہ آپ بی ایل ائے کا کیمپ چھوڑ کر یو بی ائے کیمپ چلے گئے، تو آپکی ثالثی کا کیا بنا، کیونکہ آپ کوئی سنت یا سادھو تو نہیں کہ آپ پر اندھی اعتماد کرلیں کہ آپ یو بی اے کے مہمان ہیں ور مہمان ہی بن کر رہیں گے لیکن انکی خیر اور شر کے زمہدار یا حصہ دار نہیں بنیں گے، آپکا وہاں چلے جانا ہی اس بات کا غماز ہے کہ آپ بی ایل اے کے خلاف یو بی اے کے جھولی میں گر گئے، یادش بخیر اس وقت جب یہ تصادم ہوا تھا تو خود بی ایل اے نے بیان دیا تھا کہ یو بی اے والوں نے ہمارے آمد و رفت کے رستوں میں لینڈ مائینز بچھائے ہیں اور ان کے زد میں آکر ہمارے ایک دوست کو پیروں سے بھی معذور ہونا پڑگیا تھا، اب بھلا ہو اس انٹرویو لینے والے اور دینے والے کا کہ انہوں نے اس بابت کوئی بات ہی نہیں کی، ایسا لگتا ہے کہ یہ تاریخی حقیقت انکے زہنوں میں سے اب حذف ہوچکی ہے، یہ بیان سنگت حیربیار نے تو نہیں دیا تھا اور جن لوگوں نے یو بی اے کے ساتھ برائے راست تصادم کی فضا پیدا کی تھی آج تو بنگلزئی صاحب آپ ان کی تعریفیں کرتے ہوئے نہیں تھکتے ہو، ایک اور جملے میں جناب موجودہ تنظیمی بحران کو لے کر سنگت حیربیار کو مکمل زمہ دار اور قصور وار ٹہرانے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن اس میں اچھنبے کے بات اس لیئے نہیں کہ یہ انٹرویو ہی محض سنگت حیربیار کے خلاف ہونے والی پروپیگنڈے کو دوام بخشنے کے لیئے کیا گیا ہے، کیا اس میں کاونٹر سوال نہیں پوچھا جاسکتا کہ کن کن وجوہات اور بنیادوں کو لے کر آپ سنگت حیربیار کو حالیہ تنظیمی معاملے میں تن تنہا زمہدار و گناہ گار ٹہرا رہے ہیں، اب حقیقت حال سے کون واقف ہے کہ اس بحران کی بنیادی نقطے کیا ہیں اور یہ بحران نقطہ عروج پر پہنچنے سے کتنا عرصہ پہلے اور کیوں شروع ہوا تھا، بنگلزئی کی باتوں سے یہی لگتا ہے کہ وہ بذات خود ان تمام مسئلوں سے واقفیت نہیں رکھتے اور ایک مہرے کی طرح استعمال کیئے جارہے ہیں، اگر واقعی میں سنگت حیربیار ہی گناہ گار ہے تو اس کے ساتھ شامل وہ پرانے ساتھی جو ایک عرصہ دراز سے اس جہد کار زار میں شریک ہیں، سب حقائق سے واقفیت بھی رکھتے ہیں اور مختلف قبائلی بند و بست سے انکا تعلق ہے وہ سب منافق یا دروغ گو ہیں اور سنگت حیربیار کے دم چلے ہیں، بنگلزئی کا یہ کہنا خود اس بات کا ثبوت ہے کہ جو لوگ اب تک حیربیار کے ساتھ ہیں یعنی وہ سیاسی منافق، معلومات سے تہی دست، بددیانت اور مفاد پرست ہیں، کیا اس تضاد، منافقت اور دروغ گوئی پر قوم کے سامنے کبھی ملال یا شرم بھی محسوس کروگے۔
اگر ہم یو بی اے اور بی ایل اے، یا نواب خیر بخش مری و سنگت حیربیار، یا پھر مہران کے آپسی تنازعات و اختلافات کو دیکھیں تو بنیادی بات تحریک اور تحریک سے جڑی مفادات سے متعلق تھی، چاہے وہ مہران کی کرپشن ہو، چاہے وہ نواب و حیربیار کی اختلافات ہوں یا پھر یو بی اے کی ہتھیاروں پر قبضے کی بات ہو، وہ سب ہم اس وقت سے آج تک یہی سمجھتے رہے ہیں کہ وہ تنظیمی مسئلے تھے اور آج بھی کہتے ہیں کہ وہ بی ایل اے کی اجتماعی طاقت کو منتشر کرنے کے مسئلے ہیں، لیکن ادھر بھی بنگلزئی نے ڈنڈی مارنے کی سعی کی ہے، ایک سوال کے جواب میں 2 الگ الگ جملوں میں موصوف کہتے ہیں کہ ” یو بی اے کے قیام کو تھوڑا تاریخی پس منظر میں دیکھا جائے، تو شروع میں نواب صاحب کے وقت بی ایل اے محض ایک نام تھا، جو درحقیقت نواب صاحب کا ذات اور اپنا قبائلی تنظیم تھا۔ میں بھی اسی میں شامل تھا۔ اس تنظیم کا جو بھی مرکز یا “ہڑکُڑ” تھا، وہ پورا دراصل نواب صاحب اور انکے اپنے خاندان اور بیٹوں پر مشتمل تھا۔ بعد میں انہوں نے حیربیار کو سامنے لایا اور حیربیار نے تنظیم سنبھالنا شروع کیا۔ کچھ وقت بعد حیربیار اور نواب صاحب کے بیچ اختلافات شروع ہوئے، جو بنیادی طور پر ان کا اپنا گھریلو مسئلہ تھا” یعنی موصوف کہہ رہے ہیں کہ چونکہ بی ایل اے کوئی تنظیم نہیں تھی، اسکے لگام خیربخش اور حیربیار کے ہاتھ میں تھے تو انکے اختلافات بھی تنظیمی کے بجائے ذاتی یا گھریلو و خاندانی ہی ٹہرجاتے ہیں، آگے کہتے ہیں کہ ” مگر میں سمجھتا ہوں، کچھ ذاتی یا مغربی مفادات تھے، جنہوں نے ہمیں ایک مختلف رائے رکھنے اور مسئلے حل کرنے کے لائق نہیں چھوڑا۔ جب ہمارے فیصلے غیر متعلقہ افراد کے ہاتھوں ہونگے پھر ایسا ہی ہوگا۔ یہ ایک تنظیمی مسئلہ تھا، جو کچھ حیربیار، مہران اور نواب صاحب کے درمیان ہوا، اسے متعلقہ دوستوں کے درمیان رکھا جاتا اور حل کیا جاتا۔ لیکن آپ ان راز کی باتوں میں باہر کے لوگوں کو لاتے ہو اور تنظیمی راز فراہم کرتے ہوتو پھر ایسا ہی ہوتا ہے” کوئی سمجھائے کہ ہم سمجھائیں کیا، ایک جگہ آپ خود انکو گھریلو یا خاندانی کہہ رہے ہیں اور دوسری جگہ انکی تنظیمی معیار پر کھرے اترنے کی بھی امکانات کو ظاہر کررہے ہو ، گھریلو اختلاف کب سے تنظیمی اختلافات بن جاتے ہیں، کب خاندانی بند و بست سے تنظیمی معیار کا وجود نکلتا ہے اور اس امکانی کیفیت کی کیا دلیل ہے، اور کس طرح ایک ایسی تنظیم جسے آپ نواب خیر بخش مری کے اردگرد گھومنے والی بند و بست قرار دیتے ہوئے یہ بھی کہتے ہیں کہ دوستوں کے سامنے وہ باتیں رکھی جانی چائیے تھیں، دوست کون ہیں؟، اور یہاں غیر متعلقہ اور باہر کے افراد کون ہیں کہ جن کے ساتھ تنظیمی یا تحریکی راز افشاء کیئے جارہے ہیں، کیا اسلم یا بشیر غیر متعقہ تھے، یا پھر سمالانی، سرپرہ، جمالی و جمالدینی، زہری، بادینی اور قلندرانی قبائل سے تعلق رکھنے والے تحریکی ساتھی غیر متعلقہ ہیں؟ کیا بی ایل اے کو نواب خیربخش نے مری بندوبست میں محدود کرنا چاہا یا سنگت حیربیار نے، کیا آپکا بی ایل اے میں رہنے کے باوجود اسکو تنظیم نہ ماننا آپکو باہر کی غیر متعلقہ فرد بنانے کے لیئے کافی نہیں ہے؟ یا آپ پر یہ اصول و ضوابط لاگو نہیں ہوتے؟ یا ایسا ہے کہ جس کاغذی تنظیم میں آپ اور آپ کے دوسرے مفرور حواریوں کو کاغذی شیر مانا جائے تو وہی بس تنظیم کہلانے لائق رہ جائے گی؟۔
جھوٹ جھوٹ ہوتا ہے، چاہے اس کو کوئی پیران سالی میں بولے یا سن جوانی میں، جھوٹ از خود ایک بے عزتی ہے، جھوٹے کو جھوٹا کہہ کر اسے مزید بے عزت نہیں کیا جاتا بلکہ اسکو آئینہ دکھایا جاتا ہے، ایک جگہ بنگلزئی بلوچ تحریک کی امکانی کامیابی و ناکامی کے خدشات پر بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ” ایک تو ہمارا سماج اب تک نیم قبائلی ہے، اس میں وہ خصلتیں نہیں تھیں کہ وہ ایک قومی جنگ لڑسکے، ہر قبیلہ دوسرے قبیلہ کے بارے میں تعصبات رکھتی ہے، سب ایک دوسرے سے دور ہیں۔ اسکے باوجود ایک قومی جنگ لڑی جارہی ہے” یعنی ہمارا سماج نیم قبائلی ہے، اس میں قبائلی فکر اور روایتیں نہ صرف زندہ ہیں بلکہ حد درجہ مضبوط بھی ہیں گو کہ یہ ایک امر بدنصیبی ہے مگر ایک حقیقت بھی ہے، جس طرح غلامی ایک بد نصیبی ہے مگر اپنی جگہ پر حقیقت ہے کہ ہم غلام ہیں، تو پھر اس قبائلی روایتوں سے اٹی پڑی سماج میں اگر آپ ارتقاء کو اپنی زہنی استعداد کے مطابق بغیر کسی دلیل و منطق تشریح کریں گے تو وہ ارتقاء نہیں اصل میں انتشار کی پیش خیمہ ہوگی، عجیب رسم ہے کہ کوئی جنگ سے نکل جائے، تنظیموں کو توڑ ڈالے، قومی اجتماعی قوت کو منتشر کرکے ٹکڑوں میں بانٹ دے، اپنی شخصی و من مانیوں کو چلائے، اصول و ضوابط اور جوابدہی سے باغی بن جائے اور آپ بنگلزئی پھر قوم کے سامنے آکر کہیں کہ یہ ارتقائی عمل کا حصہ ہے، کون سی ارتقائی عمل، کیا ارتقائی عمل اصولوں سے باغی بن جانے کا نام ہے یا اصولوں کی خاطر باغی بن جانے کو ارتقاء کی عمل سے تعبیر کیا جاتا ہے، ارتقائی عمل خود سماج کے اندر پھوٹنے والی شئے ہے، کسی کی سرکشیوں، سیاسی جگالیوں اور بچگانہ حرکتوں کو اگر ہم ارتقائی عمل ہی مانتے رہیں تو پھر ہر انحراف کو ارتقاء کے لبادے میں لپیٹ کر قوم کے منہ پر دے ماریں اور پھر آکر کہیں کہ ” انتشار نہیں ارتقاٗء، اگر کل کو ڈٓاکٹر مالک اٹھ کر کہے میرا بی ایس او سے نکل کر بی این وائی ایم سے پارلیمنٹ کا رکن بن جانا ارتقائی عمل کا تقاضا تھا تو کیا ہم مان جائیں اسکی بات کو؟ بہرحال تضادات کی گنجلک جیسی بنگلزئی کی یہ سنگت حیربیار مخالف انٹرویو قوم کے سامنے آنے والے وقتوں میں بہت ساری چیزوں کے حوالے بہت سے معاملات کے متعلق سر بستہ رازوں کے پردہ فاش کریگی، کیونکہ قوم حقائق، واقعات اور استدلال کی بنیاد پر آہستہ ہی سہی مگر معاملات کو پرکھ رہی ہے۔















