سه شنبه, مارچ 10, 2026
Homeخبریںایرانشہر میں بلوچ لڑکی کے گینگ ریپ میں مجرموں کے عدم گرفتاری...

ایرانشہر میں بلوچ لڑکی کے گینگ ریپ میں مجرموں کے عدم گرفتاری خلاف سخت احتجاج

زاہدان (ہمگام رپورٹ ) اطلاعات کے مطابق ایران کے زیر قبضہ بلوچستان کا قدیم شہر پہرہ ‘ایرانشہر’ میں گزشتہ دنوں مسلمانوں کے مقدس رمضان شریف کے مہینے میں کچھ سماجی مجرم جنھوں نے ایک روضہ داربلوچ لڑکی جو کہ اپنے زریعئہ معاش کے سلسلے میں اپنے کام سے فارغ ہو کر گھر کو جارہی تھی ،جو نہی وہ اپنے گھر کی گلی میں پہنچنے والی تھی کہ ایک گاڑی میں سوار سماجی مجرم انھیں بزور قوت پکڑ کر مغرب کے وقت تک اپنے ساتھ رکھ کر ان کی عزت لوٹ کر گینگ ریپ کا شکار بنا کر انھیں چھوڑ دیا گیا تھا ۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق مقامی لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ایک مجرم کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کیا گیا ہے۔ جو کہ اب تک اس طرح کے کل اکتالیس واردات کا اعتراف کرچکے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق اس وقت بلوچ نوجوان انتہائی سخت گرمی میں ایرانشہر میں جنسی تشدد اور ریاستی پولیس کی ظلم وجبر کےخلاف پرامن طور پر لوگ سڑکوں پر نکل آئے ہیں، ویب نیوز میڈیا کے مطابق آج ظہر کے وقت گورنر ہاوس کے دفتر کے سامنے لوگ جمع ہوچکے ہیں، اور تاحال یہ ہڑتال جاری ہے
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق بلوچ عوام مقامی گورنر ہاوس کے سامنے ان درندوں کی گرفتاری کیلئے مسلسل احتجاج کررہے ہیں۔تاکہ ان کو گرفتار کرکے وہاں کے عوام کی عزت جان و مال کو معفوظ کیا جائے جبکہ ایرانی ریاستی قانون پولیس ،انٹیلیجنس، جوڈیشری مسلسل لیت و لعل سے کام لے رہی ہے۔ بعض لوگوں کی رائے کے مطابق یہ مجرم قابض ایرانی پولیس کی درپردہ سرپرستی سے ایسے جرائم کا مرتکب ہو کر جرات کر رہے ہیں۔وگرنہ ایسا کافی مشکل ہوتا ہے
یاد رہے قابض ایران ریاستی فورسز باقی تمام معاملات میں مسلسل الرٹ رہتی ہے ماسوائے بلوچ کی عزت ننگ و ناموس اور جان و مال کی حفاظت کے ۔ یاد رہے اسی رمضان کے مہینے میں ایک بلوچ نوجوان جو کہ اپنے سائیپا گاڈی جو کہ آم فروٹ سے لوڈ تھا،اسے جان بوجھ کر ریاستی دہشتگردی سے فائرنگ کا نشانہ بنا کر اسے شدید زخمی کرگیا تھا۔اس طرح کے واقعات ایران کے زیر قبضہ بلوچستان میں بلوچ نوجوانوں کے ساتھ روز کا معمول بن چکے ہیں ۔جہاں بیروزگار نوجوان اپنے گاڈی میں تیل و دوسری اشیاء خوردنوش کی کاروبار کرکے اپنے گھر کی کفالت کرتے ہیں ۔ان کو بے شمار دفعہ ایرانی فورسز کی جانب سے آمنے سامنے بڑی بے رحمی سے فائرنگ کا نشانہ بناکر شہید یا زخمی کیا جاتا ہے۔کیونکہ وہاں انھیں ان کو اپنی ریاستی رٹ کو قائم کرنا ہوتا ہے۔جہاں معاملہ سماجی اقدار کو قائم رکھنے کا ہو اور ایسے سماجی مجرم جو کہ ایک بلوچ صنف نازک لڑکی کو راستے میں خونخوار کتوں کی طرح پکڑ کر گینگ ریپ کا نشانہ بنایا جائے تو ان مجرموں کیلئے ایرانی ریاستی قانون حرکت میں کیوں نہیں آتی ؟ ایرانی پولیس کی اس رعایت کو عوام کس معنی میں سمجھ لے ؟ بلوچ وطن پر قابض ایران و پاکستان کی فوجیں قبضہ کرکے بلوچ قومی وسائل کو بڑی بے رحمی سے لوٹنے کے ساتھ ساتھ اب نوبت بلوچ قوم کی خواتین کی عزت تک بات پہنچی ہیں۔اور ایسے واقعات مسلسل ہورہے رہے ہیں۔ایران میں اس تازہ واقعہ کے ساتھ مشرقی بلوچستان میں بلوچ خواتین کے ساتھ۔پاکستانی فوج کے ہاتھوں ایسی ہی سلوک کے روا رکھے جانے کی اطلاعات بھی رپورٹ ہوئی ہے۔ان تمام جملہ مسائل سے بلوچ نوجوانوں کو اپنے قومی آزادی کیلئے جہد اے آزادی کو منظم ،تیز تر اور وسیع کیا جانا چائیے۔
یہاں یہ بات بھی قابل زکر ہے کہ ‘ ایرانشھر’ کا قدیم بلوچی نام’ پھرہ’ تھا ۔جسے قابض ایرانی گجر نے بدل کر بعد میں سرکاری نام ایرانشہر کے نام میں بدل دیا۔ بلوچستان پر فوجی طاقت و دوسرے زرائع کے زریعے سے قبضہ کرنے کے بعد ایران نے بلوچوں کی شناخت کو مٹانے کی غرض سے بلوچستان کئی دوسرے شہروں کے نام بھی تبدیل کیئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز