چهارشنبه, مارچ 11, 2026
Homeخبریںایران امریکی پابندیوں کے سبب اقتصادی جنگ کی جانب گامزن ہے،؛تجزیاتی رپورٹ

ایران امریکی پابندیوں کے سبب اقتصادی جنگ کی جانب گامزن ہے،؛تجزیاتی رپورٹ

( ہمگام ویب ڈیسک ) جب سے امریکن ریپبلکن پارٹی کی حکومت برسراقتدار آئی ہے دنیا میں وہ ممالک جو دہشتگردی کو ریاستی سطح کے سپورٹ دے رہے ہیں ان کو ٹرمپ انتظامیہ نے نکیل ڈالنے کی پوری طرح سے سخت موقف کے ساتھ کمربستہ ہوکر ان کے خلاف امریکی حکومت اپنی سیاسی ،معاشی اور فوجی طاقت کے بھر پور استعمال کرنے کی جانب مسلسل پشرفت کرکے گامزن ہے۔جن میں سرفہرست مشرق وسطی کی سیاست میں ایران کی شرپسندی کو لگام دینے کے لیئے سب سے پہلے ایران کے گرد دائرہ مسلسل تنگ کیا جارہا ہے۔امریکی حکومت کی انھی خارجہ پالیسیز و پابندیوں کی وجہ سے ایران کے حالات مسلسل خراب ہو رہے ہیں۔ ایرانی کرنسی کی قدر بہت کم ہو چکی ہے۔ بلیک مارکیٹ میں تو ایک ڈالر کے بدلے نوے ہزار ایرانی ریال تک دینے پڑ رہے ہیں۔گذشتہ ہفتے ایران میں 2012 کے بعد پہلی مرتبہ بڑی تعداد میں لوگ حکومت کے خلاف تہران کی سڑکوں پر نکلے تھے۔ ایران کے حق میں کچھ بھی مثبت ہوتا نظر نہیں آ رہا۔ تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک نے گذشتہ ہفتے تیل کی پیداوار میں اضافے کا فیصلہ کیا تھا اور ٹرمپ نے اوپیک کے اس فیصلے کی حمایت کی تھی۔اوپیک کا یہ قدم ایران کے لیے مزید مسائل پیدا کر سکتا ہے۔امریکہ کا سخت موقف اور ایران کے لڑکھڑاتے بنیادی ڈھانچے کے سبب وہ تیل کی پیداوار میں اضافے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ ایران کے پاس غیر ملکی زرِ مبادلہ حاصل کرنے کا کوئی خاص ذریعہ بھی نہیں رہے گا کیونکہ وہ زیادہ تیل برآمد نہیں کر سکے گا۔
امریکہ دنیا میں خام تیل خریدنے والے ممالک پر ایران سے تیل نہ لینے کا دباؤ بڑھا رہا ہے جن میں انڈیا بھی شامل ہے۔

ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایران سے سب سے زیادہ تیل برآمد کرنے والا ملک چین کیا بحران کے اس دور میں ایران کا ساتھ دے گا ؟ کہا جا رہا ہے کہ امریکہ میں اس سوال پر کافی بحث ہو رہی ہے۔

ایران پر امریکہ کی نئی پابندیوں کے سبب چین کے پرائیویٹ سیکٹر پر اثر نہیں پڑے گا اور ایسا ہی یورپ کے ساتھ بھی ہو گا۔ دوسری جانب ایران کے پاس محدود متبادل ہیں۔سپر پاور امریکہ نے جب جوہری معاہدہ ختم کیا تو ایران نے یورپ کی جانب رخ کیا۔

ایران نے کوشش کی تھی کہ یہ جوہری معاہدہ ختم نہ ہو اور اسی کے تحت یورپی یونین کے حکام نے اپنی کمپنیوں کا حوصلہ بڑھایا کہ وہ ایران کے ساتھ تجارت اور سرمایا کاری جاری رکھیں۔

یورپی حکومتوں نے ایران کے سامنے کئی رعایتوں کی تجاویز رکھیں اور امریکہ سے بھی کہا کہ وہ ان کی کمپنیوں کو ایران کے ساتھ کاروبار کرنے دے۔

لیکن اب یورپی کمپنیاں بھی نہیں سن رہیں۔ سرمایہ کاری کے میدان میں پی ایس اے گروپ نے ایرانی آٹو منیوفیکچرز کے ساتھ ایک مشترکہ کاروبار بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

دوسری جانب فرانس کی کمپنی ٹوٹل نے کہا ہے کہ جب تک امریکہ کی جانب سے کوئی رعایت نہیں ملتی تب تک وہ ایران کے ساتھ مجوزہ اربوں ڈالر کے سمجھوتے کو معطل رکھے گی۔اسی طرح درجنوں دیگر کمپنیوں نے ایران میں اپنی سرمایہ کاری کا فیصلہ تبدیل کر لیا ہے۔

یہ درست ہے کہ ایران اور چین کے درمیان مضبوط تعلقات ہیں۔

دونوں نے اپنے تعلقات کے دائرے کو بڑھانے پر اتفاق کیا تھا، اگلے 25سال کے لیے پالیسیوں اور رشتوں کی نئی لکیر کھینچی گئی تھی اور اگلے دس برسوں میں دو طرفہ کاروبار دس گنا زیادہ بڑھانے کی بات ہوئی تھی۔

اب چین بھی چاہے تو ان تمام وعدوں کو رد کرسکتا ہے۔ ایران کو تیل نکالنے کے لیے مضبوط بنیادی ڈھانچے کے ساتھ ساتھ اعلیٰ ٹیکنالوجی کی ضرورت ہو گی۔ ایران کے پاس یہ ٹیکنالوجی نہیں ہے اور وہ اسے درآمد کر سکتا ہے اور یہ ٹیکنالوجی یورپ اور امریکہ کے پاس ہے۔

تفصیلات کے مطابق یہ ٹیکنالوجی چین کے پاس بھی نہیں ہے۔ چین کی یہ ٹیکنالوجی تیل کی پیداوار کے لیے اچھی نہیں ہے۔ ایسے میں چین ایران کے ساتھ مل بھی جائے تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا یہ بھی خیال ہے کہ چینی کمپنیاں اپنے معاشی فائدے کی خاطر امریکہ میں کاروبار کرنے میں زیادہ دلچسپی لے رہی ہیں اور اگر چینی کمپنیاں ایران کے ساتھ کام کر بھی لیتی ہیں تو ان کمپنیوں کے لیے امریکہ میں سخت قانونی مشکلات پیدا ہونگی۔
ایران پر امریکی پابندیوں کا اطلاق رواں ماں چھ اگست سے شروع ہو گا۔

ایران کی معیشت کے لیے تیل کی برآمدات ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہے اور تہران کے پاس فی الحال اسکا کوئی متبادل حل دکھائی نہیں دے رہا۔اس وقت ایران یومیہ 27 لاکھ بیرل تیل برآمد کر رہا ہے ۔ فنانشل ٹربیون کے مطابق اس میں سے 38 فیصدی تیل ایران یورپی کمپنیوں کو فروخت کرتا ہے۔ اب اگر یورپی کمپنیوں نے ایران کا ساتھ نہیں دیا تو وہ انھیں تیل فروخت نہیں کر پائے گا۔

چین کو زیادہ تیل فروخت کر کے ایران کو فائدہ تو ہو گا لیکن یہ بھی اتنا آسان نہیں ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ چین بھی ایران کی اس مجبوری کا فائدہ اٹھانا چاہے گا۔ اس کے علاوہ چین ایران کی خاطر دیگر ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات خراب نہیں کرنا چاہے گا۔
ایران کے تیل کی برآمدات میں کمی آنے سے غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر بہت کم ہو جائیں گے اور ایسے میں اس کے لیے ادائیگی کے بحران سے نکلنے کا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہو گا۔
انکا کہنا تھا کہ ایران کو اس بحران سے چین اور روس بھی نہیں بچا سکتے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں ایران مزید ہر قسم کی مشکلات کا شکار ہو گا۔ اقوامِ متحدہ میں ایران کے سابق سفارت کار علی خرم کا کہنا ہے ‘جس طرح امریکہ نے عراق میں صدام حسین کی حکومت کو اکھاڑ پھینکا تھا اسی طرح ایران کے لیے بھی امریکہ نے منظم منصوبہ بندی کی ہے۔ امریکہ نے عراق میں یہ کام تین مرحلوں میں کیا تھا پہلے نمبر پر پابندیاں عائد کی تھیں پھر تیل اور گیس کی برآمدات پر روک دی تھیں اور آخر میں سخت فوجی کارروائی ہوئی تھی۔‘ایران کے اس معاشی بحران و انارکی کے سبب ہی لوگ اب سڑکوں پر نکل رہے ہیں ایران میں کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر ایران اب چین کی جانب دیکھ رہا ہے تو اسے مایوسی ہی ہاتھ آئے گی۔
ایران کے سابق نائب صدر عشاق کو اصلاح کار سمجھا جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کہ ایران کو براہ راست امریکہ سے بات کرنی چاہیے۔ اُن کا کہنا ہے کہ ایران سنگین اقتصادی جنگ کی جانب جا رہا ہے اور اس کے نتائج سخت خراب ہو سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز