شنبه, مارچ 7, 2026
Homeخبریںکوائف کا بہانہ بناکر بلوچ اسیران کے کیسز کو خارج کرنا ظلم...

کوائف کا بہانہ بناکر بلوچ اسیران کے کیسز کو خارج کرنا ظلم عظیم ہے ،؛لواحقین بلوچ اسیران

خضدار(ہمگام نیوز ) بلوچ اسیران کے لواحقین نے اپنے پیاروں کی پاکستانی فوج کے ہاتھوں مسلسل جبری گمشدگی پر صدائے حق بلند کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ دنوں خضدار میں منعقدہ اجلاس میں قابض پاکستان کے ریاستی اداروں کی جانب سے جبری اغوا شدہ افراد کے ورثاء کو کہا گیا تھا کہ جن کے نام ان کے لسٹ میں موجود نہیں ہے اُنھیں رہا کیا گیا ہے. ریاستی اداروں کی اس بیانیے سے واضح معلوم ہوتاہے کہ جبری اغوا شدہ افراد کو شہید کیا گیا ہے.کبیر بلوچ و اُن کے ساتھی مشتاق بلوچ اور عطاء اللہ بلوچ کو 27 مارچ 2009 کو خضدار سے جبری اغوا کیا گیا تھا تقریباً سات سال تک اُن کا کیس کورٹ اور کمیشن میں چلتا رہا لیکن 2 سال قبل کمیشن نے یہ غیرمناسب جواز پیش کیا کہ ان کے کوائف درست نہیں ہے کوائف کو بہانہ بناکر اُن کے کیس کو خارج کردیا گیا ۔ بلوچستان کے اس اہم انسانی مسئلے سے عالمی انسانی کے حقوق کے ادارے ریاست پاکستان کو ایسا کرنےپر لگام دے،وگرنہ اسی طریقے سے وہ مزید ہزاروں بلوچوں کو ہمیشہ کیلئے انھیں اپنے خاندان سے غائب کردےگا۔ لہزا جتنی جلد ممکن ہو انسانی حقوق کے تمام ادارے بلوچ جبری اغوا شدہ اسیران کی رہائی میں اپنا کردار اداکرے۔تاکہ ان کے پورے خاندان کو اجتماعی ازیت سے نجات مل سکے۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز