راولپنڈی (ہمگام نیوز ڈیسک) آج فوج کے جنرل ہیڈ کوارٹر کے قریب راولپنڈی شہر میں جمعیت علمائے اسلام (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق پر اس کے گھر میں قاتلانہ حملہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں ملا سمیع الحق ہلاک ہوگئے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر جے یو آئی پشاور مولانا حصیم نے ملا سمیع الحق کے ہلاک ہونے کی تصدیق کر دی۔خیبر پختونخوا کے ضلع نوشہرہ میں قائم مدرسے دارالعلوم حقانیہ کی سربراہی جمیعت علماء اسلام (س) کے سربراہ سمیع الحق کررہے تھے ۔ملا سمیع الحق 18 دسمبر 1937 کو خیبر پختونخوا کے علاقے اکوڑہ خٹک میں پیدا ہوئے تھے۔انھوں نے پاکستان کی حکومت کو ’امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ سے خود کو علیحدہ کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرتی ہے تو بقول ان کے پاکستان کے دیگر حصوں میں امن و امان خود بخود بحال ہو جائے گا۔ خیال رہے کہ ملا سمیع الحق طالبان سے متعدد مرتبہ مذاکرات میں ثالثی کا کردار ادا کرتے رہے ہیں اور انہوں نے افغان حکومت کی طالبان سے حالیہ مذاکرات کی بھی حمایت کا اعلان کیا تھا۔واضح رہے کہ گزشتہ ماہ کے آغاز میں بھی افغان حکام اور علما نے جمعیت علمائے اسلام (س) کے سربراہ سے طالبان کے مختلف گروہوں کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے کی درخواست کی تھی۔


