کراچی(ہمگام نیوز ڈیسک) پاکستان کی خراب معیشت اور امریکی ڈالرکے مقابلے میں روپیہ کی قدر میں مسلسل کمی ،سیاسی بدامنی ،کرنٹ اکاونٹ میں مسلسل خسارہ اور فارن ریزرو میں کمی باعث اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مالی سال 2019 کے جولائی سے لے کر جنوری تک کی مدت میں براہِ راست بیرونی سرمایہ کاری میں گزشتہ برس اسی عرصے کے مقابلے میں 17 فیصد کی کمی آئی ہے۔
دوسری جانب سالانہ کے حساب سے جنوری میں رقوم کی مد میں 2.40 فیصد اضافہ ہوا اور یہ گزشتہ برس کے اسی ماہ کے مقابلے میں 12 کروڑ 89 لاکھ ڈالر سے بڑھ کر 13 کروڑ 20 لاکھ ڈالر ہوگئیں۔
اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کے ابتدائی 7 ماہ کے دوران پاکستان میں ایک ارب 45 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی جو گزشتہ برس کے اسی عرصے کے دوران ہونے والی سرمایہ کاری ایک ارب 76 کروڑ 10 لاکھ ڈالر سے 17.6 فیصد کم ہے۔


