مرتب کردہ ہمگام رپورٹ : آج کل ہمارے آس پاس جس تیزی کے ساتھ حالات بدل رہے ہیں۔ اگر کئی کسی بھی صورت میں انڈیا اور پاکستان کی کے درمیان کسی قسم کا ایٹمی جنگ چھڑجاتا ہیں ،تو ایسےصورتحال میں آپ لوگ کس طرح کے بہتر حفاطتی تدابیر اختیار کرلیں جن سے ہم خود کو اور دوسروں کو زیادہ نقصانات یا خطرات سے بچا سکتے ہیں؟ خصوصا ایسے حالات میں جب اہل بلوچستان نے چاغی کے مقام پر اس کے خطرناک اثرات اور تابکاری کے اثرات سے بخوبی واقف ہونگے۔انھی ایٹامک ٹیسٹ کے تابکاری اچرات کی وجہ سے بلوچستان میں کینسر اور دوسرے موزی امراض نے اپنے خونی پنجھے گاڑ رکھے ہیں۔ واضع رہے کہ جب امریکہ نے جاپان کے شہر ہیروشیما اور ناگاساکی پر جس طرح سے جو ایٹم بم گرائے تھے وہ دنیا میں ماہرین کیلئے پہلا تجربہ ثابت ہوا ، یہی وجہ تھی کہ جب جاپان نے ہتھیار ڈال دیئے توسائنسدان ان بموں سے ہونے والی تباہی کے تجزیاتی مطالعہ میں مصروف ہوگئے۔انہوں نے ایک، ایک پہلو کو بہت غورسے جانچا اور پرکھا دونوں شہروں میں ہونے والی تباہی کا تجزیہ وموازنہ کیا گیا، یہاں تک کہ ان دوحملوں میں جو لوگ مارے گئے یا زخمی ہوئے ان کی لاشوں اور زخموں کے تجزیے بھی کیئے ۔
چنانچہ سائنسدان اس نتیجے پر پہنچے کہ اگر مناسب حفاظتی تدابیر اختیار کی جاتی توآدھے سے زیادہ قیمتی انسانوں کی جانیں اس تباہی سے بچ سکتے تھے۔لہزا ہمیں یہ جاننا ہوگا کہ حملہ سے پہلے اور حملہ کے بعد کی حفاظتی تدابیر، محفوظ حفاظتی پناہ گاہوں کے ڈیزائن، بلڈنگ کوڈ اور مہلک ایٹمی شعاعوں سے محفوظ رہنے کے طریقوں پر سائنسدانوں نے کس طرح سے کام کیئے ہیں ؟ امریکہ اور ترقی یافتہ ممالک جیسے برطانیہ ،فرانس وغیرہ میں ایٹمی حملوں سے بچاؤ کے لئے اقدامات کیئے گئے۔
جس کے تحت لوگوں کو ایٹمی حملوں کی نوعیت سے پیشگی آگاہ اور تیار رکھا جاتا ہے اور حفاظتی اقدامات کی ٹریننگ دی جاتی ہے۔احتیاطی تدابیر اور کتابچے تقسیم کیئے جاتے ہیں۔اسکولوں،کالجوں ، میڈیا میں ایٹمی حملوں سے بچاؤ کے لیئے سول ڈیفنس کی طرف سے عوام کو شعور و آگاہی کی تعلیم دی جاتی ہے۔بہتر آگاہی کیلئے ورکشاپ ،سیمنار کا انعقاد کرکے بڑے،بڑے شہروں کے اندر زیرزمین خصوصی حفاظتی محفوظ پناہ گاہیں بنائی جاتی ہیں۔ہسپتالوں میں ایٹمی جنگ کے دوران زخمی ہونے والوں کے علاج کے لئے ڈاکٹروں اور نرسز کی خصوصی تربیت کا اہتمام کیا جاتا ہیں۔
فوجیوں اور عام لوگوں کو حفاظتی ٹیکے لگاکر ان کو ویکسنیشن فراہم کی جاتی ہے ایٹمی حملہ کے متعلق اطلاعی وارننگ سگنل کا ہمہ وقت انتظام کیا جاتا ہے ۔ایٹمی حملہ ہونے کے بعد دوسرا شدید ترین خطرہ جو انسانوں کو لاحق ہوتا ہے وہ تابکاری شعاعوں کا ہے۔جب ایٹمی دھماکہ ہوتا ہے تو اس میں جو گردو غبار شامل ہو وہ شدید طور پر تابکار ہوجاتا ہے۔یہ تابکار گردو غبار پھیپڑوں میں پہنچ جائے تو انسان کے اعضاء ٹوٹ پھوٹ جاتے ہیں ،مہلک بیماریوں کا شکار ہوجاتے اور اس مہلک بیماری کے اثرات نسل در نسل چلتے رہتے ہیں۔
لہذا ایٹمی تابکاری سے بچنا ازحد ضرور ی ہوتا ہے،جس کے لیئے سب سے پہلے اس کے لئے تابکاری اثرات کے معلوم کرنے والے آلہ گیگر میولر کاؤنٹرکی فراہمی اور تربیت ضروری قرار دی گئی ہے ۔اسی طرح ہسپتالوں میں آگ اور تابکاری سے جھلسنے والوں کے لئے خصوصی علاج، خوراک اور پانی کے ذخیروں کو تابکاری سے محفوظ رکھنے کا انتظام بھی کیا جاتا ہے۔گھروں اور دفاتر میں حفاظتی پناہ گاہیں بنائی جاتی ہیں۔
ہیرو شیما اور ناگاساکی پر ہونے والے حملہ میں یہ بات دیکھنے میں آئی تھی کہ جو عمارتیں اینٹوں یا بلاک سے بنائی گئیں تھی وہ دھماکوں کے مرکز سے دور دراز ہونے کے باوجود ہوا کے معمولی جھٹکے بھی برداشت نہ کرسکیں اور گر گئی تھیں جبکہ کنکریٹ سے بنی ہوئی بعض عمارات ایسی بھی تھیں جو دھماکوں کے مراکز کے قریب ہونے کے باوجود سلامت رہی تھیں۔اس اصول کو پیش نظر رکھتے ہوئے بلڈنگ،بڑی عمارات تعمیر کی جاتی ہیں۔
ہیرو شیما اور ناگاساکی میں مرنے والوں میں 30 فیصد لوگ ایٹمی آگ سے جھلس کر مرے تھے۔ایٹمی آگ کی شعاع کا دورانیہ اگر چہ صرف ایک سیکنڈ سے بھی کم تھا لیکن اس کا درجہ حرارت تقریبا 6،000 ڈگری سینٹی گریڈ کے قریب تھا۔تحقیقات سے یہ بھی پتا چلا کہ دھماکہ کے مرکز سے دو کلومیٹر تک دور جو لوگ پتلے اورتنگ لباس پہنے ہوئے تھے ان کی جلد کے جلنے کے واقعات زیادہ سخت قسم کے تھے جبکہ سیاہ رنگ کے لباس پہنے لوگ دھماکہ کے مرکز سے پانچ کلومیٹر دور ہونے کے باوجود بھی بری طرح سے جھلس کر جل گئے تھے۔
سائنسدانوں نے ہیرو شیما اور ناگاساکی میں ہونے والے جانی نقصانات پر جو تحقیقات کیں ان سے یہ حیرت انگیز انکشاف بھی ہوا کہ جو لوگ سفید اورکھلے لباس میں ملبوس تھے یا سفید ٹوپیاں پہنے ہوئے تھے ان کے جسم اور سر کو کم نقصان پہنچا۔سفید اور کالی دھاری دار شرٹس پہنے جو لوگ ایٹمی حملے کا شکار ہوئے جب ان کے جلے ہوئے جسموں پر تحقیق کی گئی تو یہ بات سامنے آئی کہ جسم کا وہ حصہ جہاں شرٹ سفید تھی جلنے سے زیادہ محفوظ رہا لیکن وہ حصہ جہاں شرٹ کا رنگ سفید کی بجائے سیاہ تھا۔
بری طرح جھلس گیا تھا ۔پس تجربہ اور تحقیق سے یہ بات معلوم ہوئی کہ ایٹمی جنگ کے موقع پر سفید اور کھلالباس پہننا اہم ترین حفاظتی تدابیر میں شامل ہے ۔ گویا سفید لباس ایٹمی اسلحہ کی تباہ کاریوں سے بچنے کا سب سے آسان،سستا اور سادہ حل ہے ۔ دونوں ملک ایٹمی قوت ہیں ۔اپنی جیت کی خاطر کوئی بھی ملک سب سے پہلے ایٹمی بٹن دبا سکتا ہے یا اسکے میزائل اسکی سرحدوں میں ایٹمی تباہی پھیلا سکتے ہیں ۔یہ کوئی افسانہ نہیں بلکہ سنگین ترین حقیقت ہے کہ ناگا ساکی اور ہیروشیما کے سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایٹمی ہتھیاروں سے پھیلنے والی تباہی اور تابکاری سے انسانوں کو کیسے بچایا جاسکتا ہے ؟ یہ معمولی کام نہیں ۔اس میں جدید اور تیز ترین تعمیراتی انفراسٹرکچر کی ضرورت درپیش ہوگی لیکن دنیا میں ایٹمی ٹیکنالوجی رکھنے والے کتنے ملکوں میں اپنے شہریوں کو بچانے کے لئے ایسی تربیت اور سازو سامان موجود ہے ؟ ایٹمی تابکاری سے کھلے مکانوں میں رہنے والے نہیں بچ پاتے ،جبکہ اس کے لئے دس فٹ سے زیادہ گہرے دوہری تہری دیواروں سے بنے محفوظ ترین تہہ خانوں کی ضرورت ہوتی ہے جہاں تک تابکاری نہ پہنچ سکے ۔اسکی تعمیر اور مکمل طور پر آگاہی سے کتنی قومیں آگاہ ہیں؟ یقینی طور پر پاکستان اور بھارت کی اقوام اس بارے میں رہنمائی سے یکسر محروم ہیں آج کے دور میں انسان کو جس سب سے خوفناک غیر فطری آفت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے. وه ہے ایک ایٹمی حملہ
اگر آپ کے شہر پر ایٹم بم گرا دیا جائے. تو بھی آپ زنده بچ سکتے ہیں. دنیا میں اس وقت 20،000 کے قریب ایٹمی ہتھیار موجود ہیں.
دارالحکومت، اہم فوجی چھا ونیاں، اہم شہر اور زیاده آبادی والے علاقے ایٹمی حملوں کا اولین نشانہ بن سکتے ہیں.
حالات پر نظر رکھیں
ایٹمی حملہ جنگ میں ہمیشہ آخری آپشن ہوتا ہے. اپنے ملک اور بین الاقوامی معاملات سے خود کو باخبر رکھیں اور کسی جنگ کی صورت میں پیشگی تدابیر تیار رکھیں.
آپ ایٹمی حملے اور اس کے اثرات سے صرف اس صورت میں ہی بچ سکتے ہیں اگر آپ کے پاس ایک مضبوط اور محفوظ پناه گاه موجود ہو.بہترین پناه گاه زمین سے کم از کم 10 فٹ نیچے تہہ خانے کی صورت میں ہوگی. زمین پر بھی پناه گاه بنائی جاسکتی ہے تاہم وه تابکاری کو مکمل طور پر نہیں روک سکے گی، زمین پر بنائی جانے والی پناه گاه عمارتی پتھروں سے بنائی جانی چاہیے اگر عام اینٹیں اور کنکریٹ کا استعمال کرنا ہوتو پهر اینٹوں کی ایک کے بجائے کم از کم 5 پرتیں لگائی جائیں.
اپنی پناه گاه میں اتنا سامان ہمہ وقت سٹور رکهیں جو3,2 ہفتوں کے لیے کافی ہو،
- ٹن پیک کھانا جس میں گوشت کا کوئی آئٹم شامل نا ہو بلکہ سبزیاں ، پھل اور بینز وغیره ہو تاکہ فوڈ پوائزننگ کی اضافی مصیبت سے بچا جاسکے.
- ڈسٹلڈ یا منرل واٹر کی بوتلیں.
-پانی کا ایک بڑا ٹینک جو نہانے وغیره کے کام آئے گا.
- ایک ریڈیو.(آپ کا موبائل تابکاری کے پہلے جھٹکے کے بعد ناکاره ہوجائے گا).
-کپڑوں کا ایک اضافی جوڑا.
- کتابیں، جو کئی دن زیر زمین گزارنے میں معاون ثابت ہونگی.
- فرسٹ ایڈ کٹ.
- ادویات جن میں بخار، سردرد، جسم درد کی گولیاں، سلیپنگ پلز
-بیٹریز یا بجلی کا متبادل انتظام،ٹارچ،پوٹاشیم آئیوڈائیڈ کی گولیاں،(دھماکے کے اول دن استعمال کریں)پینسلین پوٹاشیم،سیفیٹک اینٹی-سیپٹک سپرے۔
اگر ایٹمی حملہ ہوجائے؟
کسی بھی حادثے یا حملے کی صورت میں زنده بچ جانے کا پہلا اصول اپنے ہوش و حواس کو قابو اور دماغ کو حاضر رکھنا ہے. ایٹمی حملہ ہونے ایک ایک سیکنڈ کے اندر اندر آپ کو ایک زوردار دھماکہ سنائی دے گا اور فورا “مشروم” کی شکل کا ایک کئی میل اونچا دھویں کا طوفان نظر آئے گا. فورا سمجھ جائیے کہ یہ ایٹمی حملہ ہے.اب بچنے کی جدوجہد شروع کیجئے:
ایٹمی تباهی کے تین مراحل ہیں،ابتدائی دهماکہ.فال آوٹ،تابکار طوفان
اگر تو ایٹمی وار هیڈ آپ کی لوکیشن کے ڈیڈھ میل کے اندر اندر گرایا گیا ہے تو فورا کلمه طیبہ پڑھ لیں اگر بیٹھے ہیں تو کھڑے ہوجائیں، اگلے تین سیکنڈز کے اندر اندر آپ کا وجود بھاپ بن کے اڑ جائے گا. اگر ایٹمی حملے کے لوکیشن سے ڈیرڈھ میل دور ہیں تو آپ بچ سکتے ہیں.پہلا دھماکہ سنائی دینے کے بعد آپ کے پاس زیاده سے زیاده 5 سیکنڈز ہیں. دهماکے کی مخالف سمت میں کسی بھی ٹھوس چیز ، دیوار یا کسی گہری جگہ پہنچیں ، زمین پر الٹا لیٹ جائیں، اپنے دونوں ہاتھ سر پر رکھتے ہوئے کانوں کو ڈهانپ لیں اور ٹانگیں کراس کرلیں، اسی دوران آپ کو ایک اور زور دار دهماکہ سنائی دے گا جو کہ پہلے دهماکے سے سوگنا زیاده طاقتور ہوگا اور شدید زلزلہ پیدا کرے گا. یعنی اس وقت یو سمجھ لو کہ آپ ابتدائی دھماکے سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوئے .
دهماکہ سنائی دینے کے دو سے تین سیکنڈ اٹھ کھڑے ہوں اور اپنی پناه گاه کیطرف بھاگیں.
پہلے دھماکے میں نا صرف سینکڑوں عمارات دهواں بن کے اڑ جائینگی ، بلکہ ان کا ملبہ اب بارش کی صورت میں برسے گا اور ساتھ ہی تابکاری سے بھرے “الفا پارٹیکلز” کی بارش بھی شروع ہوجائے گی. دهماکے کی طرف ہرگز مت مڑکے دیکھیں. اور فال آوٹ میں گرتی چیزوں سے بچنے کی کوشس کریں.اگر آپ صحیح سلامت اپنی پناه گاہ تک پہنچ گئے تو خوش قسمت ہوئے ! آپ فال آوٹ سے بچ نکلے.پناه گاه میں داخل ہوتے ہی ایک لمحہ ضائع کیے بغیر اپنا سارا لباس اتار دیں کیونکہ فال آوٹ کے دوران یہ بڑی مقدار میں الفا پارٹیکلز چوس چکا ہوگا. اس کے بعد اگر آپ زخمی ہیں تو خود ابتدائی طبی امداد لیں اگر صحیح سلامت ہیں تو غسل کرلیں تاکہ فال آوٹ کے بچے کھچے اثرات سے ہرممکن حد تک بچا جاسکے.
اب زمین پر ہر طرف تابکاری کا طوفان ہے اور آپ کو پناه گاه میں کئی دن تک رہنا ہے.
خوراک بارے کچھ ضروری ہدایات،
1-کم سے کم کھائیں.2- جتنا ممکن ہوسکے سوکر وقت گزاریں.3- ریڈیو سنتے رہیں اور باهر کے حالات سے باخبر رہیں.4-اپنی اعصابی ہمت و حوصلہ بحال رکھیں. 5- اگلے چند دن میں آپ ریڈیو ایکٹو سکنس کا شکار ہوسکتے ہیں جس میں آپ کو تیز بخار، گھٹن، الٹیاں ہوسکتی ہیں. اپنے پاس موجود ادویات کو استعمال کریں.دهماکے کے زیاده سے زیاده 5 دنوں بعد امدادی ٹیمیں اور فوجی دستے آپ کے علاقے میں پہنچ جائیں گے.ریڈیو سنتے ر ہیں جب آپ کو یقین هوجائے کے آپ کے علاقے میں امدادی سرگرمیاں شروع ہوچکی ہیں تو باہر نکل کر قریب ترین امدادی کارکن سے فوری رابطہ کریں تاکہ آپ کو تابکاری کے علاقے سے فوری طور پر نکالا جاسکے.اگر بالفرض محال کئی کوئی امدادی ٹیم آپ تک نا پہنچ سکے تو بیس دن بعد پناه گاه سے نکلیں. اب تک تابکاری کا طوفان تھم چکا ہوگا.
زندگی کی طرف سفر……..پناه گاه سے نکلتے ہی ممکن آپ کو پہلا احساس یہی ہو گا کہ لاکھوں میں سے صرف آپ ہی زنده بچے نکلے ہیں. اب جس قدر جلدی ممکن ہو آپ وہ علاقہ چھوڑدے.















