اسلام آباد(ہمگام نیوزڈیسک) پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر سیاستدان سابق چیئرمین سینیٹ نے رضا ربانی نے کہا کہ پاکستان کے جوہری پروگرام کے حوالے سے امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ کے میڈیا میں منظر عام پر آنے والے بیان کو انتہائی تشویشناک اور خطرناک قرار دے کر اس کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہیں ۔ سابق چیئرمین سینٹ ، سنیٹر رضا ربانی نے امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ کے بیان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے پاکستان کے جوہری پروگرام پر سب سے سنگین الزام قرار دیا۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما رضا ربانی نے امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو کی جانب سے پاکستان کے جوہری پروگرام کے بارے میں دیے گئے بیان پر حکومت سے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ عوام اور پارلیمنٹیرینز کو اس بارے میں اعتماد میں لیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ کی جانب سے پاکستان کے جوہری پروگرام کے پھیلاؤ کو امریکا کو درپیش پانچ بڑے خطرات میں سے ایک قرار دیے جانے سے بقول ان کے انڈیا کو خطے کا پولیس مین بنانے کا اصل منصوبہ بے نقاب ہو گیا۔
یاد رہے گزشتہ روزامریکی ریڈیوں کو سی آئی اے کے سابقہ ڈائریکٹر اور موجودہ سیکریرٹری آف اسٹیٹ مسٹر مائیک پومپیو نے انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ کے قومی سلامتی کو 5 بڑے مسائل درپیش ہیں اور ان میں سے ایک پاکستان کے جوہری پروگرام کا پھیلاؤ ہے۔
پومپیو نے پاکستان پر دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ کسی اور انتظامیہ نے یہ مسئلہ حل نہ کیا لیکن موجودہ امریکی انتظامیہ نے اس مسئلے پر پاکستان کے خلاف کچھ سخت اقدامات کیے۔رضا ربانی نے کہا کہ امریکا نے کچھ عرصہ قبل خطے کے حوالے سے اپنی پالیسی وضع کرتے ہوئے پاکستان اور چین کے نام لیے تھے اور مائیک پومپیو نے گزشتہ سال اگست میں پاکستان کی امداد بند کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ ماضی میں بھی یہ بیان دے چکے ہیں کہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کا امدادی پیکج چین کا قرض واپس کرنے کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے جو پاکستان نے پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کے دوران لیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکا نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں آنے والے اخراجات کی پاکستان کو ادائیگی سے انکار کردیا تھا۔
پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کے حوالے سے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کو بریفنگ دی جائے۔حکومت کی جانب سے پارلیمانی لیڈرز کو نیشنل ایکشن پلان پر بریفنگ کے لیے اجلاس طلب کرنے کے حوالے سے سوال پر رضا ربانی نے کہا کہ یہ عمل مناسب نہیں ہو گا اور پوری پارلیمنٹ کو اس معاملے پر اعتماد میں لینا چاہیے۔


