چهارشنبه, مارچ 11, 2026
Homeخبریںسراوان جیل میں ایرانی پولیس کی بجلی کرنٹ کے تشدد سے1بلوچ جانبحق

سراوان جیل میں ایرانی پولیس کی بجلی کرنٹ کے تشدد سے1بلوچ جانبحق

سراوان( ھمگام نیوز) مغربی مقبوضہ بلوچستان کے علاقے سراوان کی جیل میں دو ماہ قبل غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے الزام میں بلوچ فرزند نواب ناروہی بلوچ کو ایرانی درندہ صفت پولیس نے جیل میں شدید غیر انسانی تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کر دیا ـ بلوچ کمپین فعالین کی رپورٹ کے مطابق بلوچ نوجوان نواب ناروہی کو دو ماہ قبل اس کے گھر میں زاھدان میں ایرانی خفیہ انٹیلیجنس ایجنسی اطلاعات کی ایک یونٹ نے گرفتار کر لیا تھا ان پر الزام تھا کہ انہوں نے اپنے گھر میں بغیر سرکاری اسناد کے ہتھیار رکھے ہیں لیکن اس وقت نواب ناروہی نے اپنے صفائی میں کہا تھا کہ یہ یہ ہتھیار میں اپنے گھرکی حفاظت کے لیئے رکھے ہیں لیکن ایرانی انٹیلیجنس والوں نے ان کی ایک بھی نہیں سنی انہیں گرفتار کرکے پولیس کے حوالہ کر دیا تھا، رپورٹ کے مطابق نواب ناروہی کو مسلسل دو ماہ تک بے جاہ تشدد کے بعد شدید بے ھوشی کی حالت میں زاھدان کے امام علی ھسپتال میں منقتل کر دیا گیا تاہم اس نے ھسپتال پہنچتے ہی دم تھوڑ دیا ڈاکٹروں کا کہنا انہیں بجلی کے شدید جھٹکے دیئے گئے ہیں،جس کی وجہ سے وہ جانبر نہیں ہو سکے۔
یاد رہے کہ ایران کے زیر قبضہ مغربی بلوچستان میں روزانہ کی بنیاد پر اوسطا دو یا تین بلوچ ایرانی شیعہ ملا ملٹری، رجیم، پولیس فورسز اور دیگر سرکاری اداروں کے ظلم کا شکار ہو کر زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ بعض اوقات بلوچوں کو ایرانی فورسز نے چلتی راہ میں یا بیچ بازار میں مشکوک خیال کرکے فائرنگ کرکے قتل کر دیتا ہے یا انھیں گرفتار کرکے کسی جھوٹے الزام میں پھنسا کر عدالتوں میں سزائے موت تک کا حکم سنایا جاتا ہے۔بعض دفعہ انہیں اسی طرح جیلوں میں جانوروں سے بد تر تشدد کا نشانہ بنا کر موت کی آغوش میں سلا دیا جاتا ہے ـ

یہ بھی پڑھیں

فیچرز