دبئی(ہمگام نیوز ڈیسک)خلیج تعاون کونسل کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر عبداللطيف بن راشد الزيانی نے خلیجِ عُمان میں متحدہ عرب امارات کے پانیوں کے نزدیک 4 تجارتی بحری جہازوں کو تخریب کاری کا نشانہ بنائے جانے کی شدید مذمت کی ہے۔ اتوار کے روز یہ کارروائی امارتِ فجیرہ کے نزدیک مشرقی ساحل اور علاقائی پانی کے اندر کی گئی۔
الزیانی نے اسے ایک خطرناک جارحیت قرار دیا جس سے ان کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور ان پر عمل درامد کرنے والوں کی بدنیتی اور شر انگیزی ظاہر ہو رہی ہے ،،، ان لوگوں نے علاقے میں بحری جہاز رانی کی سلامتی اور جہازوں میں کام کرنے والے شہری عملے کی زندگیوں کو ایک بڑے خطرے سے دوچار کر دیا۔ الزیانی نے عالمی برادری اور سمندری جہاز رانی سے متعلق بین الاقوامی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی سیاسی اور قانونی ذمے داریاں پوری کریں تا کہ پوری دنیا کے لیے سرگرم اس خطے میں بحری جہاز رانی کی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرنے والے کسی بھی فریق کو روکا جا سکے۔
مملکت بحرین کی وزارت خارجہ نے بھی امارات کے پانیوں میں شہری تجارتی جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کے حوالے سے تخریب کاری کی بھرپور مذمت کی ہے۔ وزارت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مملکت بحرین اس موقع پر برادر متحدہ عرب امارات کی جانب سے کیے جانے والے تمام حفاظتی اقدامات میں اس کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ بیان میں عالمی برادری پر زور دیا گیا کہ وہ سمندری جہاز رانی کی سلامتی کو یقینی بنانے اور کسی بھی قسم کے سکیورٹی خطرے کو روکنے کے لیے اپنی ذمے داریاں پوری کرے۔
ادھر مصر نے بھی امارات کے علاقائی پانی میں 4 جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ مصری وزارت خارجہ کے بیان میں باور کرایا گیا ہے کہ مصری حکومت اور عوام اماراتی حکومت اور عوام کو درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے سلسلے میں اُن کے ساتھ کھڑے ہیں۔ بیان میں دونوں ملکوں کے بیچ خصوصی اور قریبی تعلقات اور قومی سلامتی کے حوالے سے خطرات کو روکنے کے لیے مشترکہ عمل کا بھی ذکر کیا گیا۔
متحدہ عرب امارات کی سرکاری خبر رساں ایجنسی (WAM) کے مطابق اماراتی وزارتِ خارجہ نے اتوار کو جاری ایک بیان میں بتایا تھا کہ ” آج صبح خلیجِ عُمان میں متحدہ عرب امارات کے پانیوں کے نزدیک 4 تجارتی بحری جہازوں کو تخریب کاری کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ کارروائی امارتِ فجیرہ کے نزدیک مشرقی ساحل اور علاقائی پانی کے اندر کی گئی”۔
بیان میں بتایا گیا کہ کارروائی میں کوئی شخص ہلاک یا زخمی نہیں ہوا ،،، متعلقہ حکام نے تمام ضروری اقدامات کر لیے ہیں اور وہ مقامی اور بین الاقوامی اداروں کے تعاون سے اس واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ تخریب کاری کا ہدف بننے والے جہازوں سے کسی قسم کے خطرناک مواد یا ایندھن کا اخراج بھی نہیں ہوا۔
اماراتی وزارت خارجہ کے مطابق فجیرہ کی بندرگاہ پر کسی قسم کی رخنہ اندازی کے بغیر معمول کی سرگرمیاں جاری ہیں۔ وزارت خارجہ نے یہ بات زور دے کر کہی ہے کہ “تجارتی بحری جہازوں کو تخریب کاری کا نشانہ بنایا جانا اور ان کے عملےکی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنا ایک خطرناک پیش رفت ہے”۔ بیان میں عالمی برادری پر زور دیا گیا ہے کہ وہ آبی ٹریفک کی سلامتی اور تحفظ کو نقصان پہنچانے والی کسی بھی فریق کو روکنے کے لیے اپنی ذمے داریوں کو پورا کرے۔


