زاھدان (ہمگام نیوز) انسانی حقوق کی سرگرم کارکنوں کے مطابق گزشتہ پانچ سالوں کے دوران ایران کے زیر قبضہ بلوچستان میں دہشتگرد پاسداران انقلاب ،پولیس فورس اور ایرانی ریاست کی سرپرستی میں پروردہ ڈیتھ اسکواڈ کی فائرنگ سے تین سو سے زیادہ بلوچ جانبحق اور زخمی ہوگئے ہیں ـ تفصیلات کے مطابق 2015 سے لے کر 2019 تک ایران کے زیر قبضہ بلوچستان میں ریاستی فورسز کی فائرنگ سے تین سو سے زیادہ بلوچ بچے، بوڑھے اور نوجوان سمیت کئی عورتیں جانبحق و زخمی ہوگئے ہیں ،جبکہ انسانی حقوق پر کام کرنے والے سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ تعداد زیادہ بھی ہو سکتی ہے کیونکہ بلوچستان کی طول عرض بہت وسیع ہیں۔ جہاں پہنچنا،ڈیٹا جمع کرنا اور رپورٹ بنانا بہت مشکل کاموں میں سے ہیں۔ کیونکہ کئی ایسے علاقے شامل ہیں جو کہ اکیسویں صدی میں بھی زندگی کی تمام بنیادی سہولیات سے محروم ہیں جہاں پہنچنا تو دور کی بات وہاں موجودہ دور کے اہم سہولیات میں سے زرائع ابلاغ بھی نہیں ، ان کا مزید کہنا تھا، کہ ہم نے مرنے اور زخمی افراد کی فہرست بنائی ہیں، یہ بہت ہی کم اور نا مکمل ہے لیکن کوشش جاری ہے کہ ان کو مکمل کرکے بیشتر بلوچوں کی پوری رپورٹ دنیا کے سامنے لا سکیں بلوچوں کی ویب سائٹ سھاب بلوچستان ڈاٹ کام کے مطابق افسوس اس بات پر ہے کہ ایران کی بڑھتی اس مظالم اور وحشت کے خلاف دیگر عالمی انسانی حقوق کی تنظیمیں خاموش ہیں جیسے کچھ ہوا ہی نہیں ـ


