یکشنبه, مارچ 8, 2026
Homeخبریںکوھستان مری میں پاکستان آرمی کی جارحیت ،خواتین و بچوں سمیت 17...

کوھستان مری میں پاکستان آرمی کی جارحیت ،خواتین و بچوں سمیت 17 افراد جبری اغوا

کوھلو(ہمگام نیوز) نماہندہ ہمگام کی اطلاعات کے مطابق قابض پاکستانی آرمی، اور اس کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی و ان کے مقامی زرخرید ڈیتھ اسکواڈ نے کوھستان مری کے مختلف علاقوں کا تین دنوں (یکم جولائی سے تین جولائی) تک فوجی محاصرہ کرکے بلوچ مالداروں کو تنگ کرنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہیں ۔

تفصیلات کے مطابق کوہلو کے علاقے نساؤ میں جنتلی، سیاہ کوہ، سوریں کور، سخین اور پڑکئی میں پاکستانی فوجی اہلکاروں نے سید علی مری اور ربا مری سمیت دیگر بہت سے عام سویلین مری بلوچوں کے گھروں پر حملہ کیا اور 17 لوگ بشمول خواتین اور معصوم بچوں جن میں حمیدالللہ، نصیب الللہ، پیرعلی، سوری مرزاخان عمر70 سال ,خواتین جن میں مہر بی بی، نور بی بی کو جبری اغوا کرکے اپنے ساتھ لےگئے۔فوج نے آمدورفت کے تمام راستوں کی مکمل ناکہ بندی کرنے کے ساتھ، ساتھ زرائع مواصلات کو بھی مکمل بند کر رکھا ہیں۔جس کی وجہ سے مزکورہ علاقوں میں پاکستانی فوج کی طرف سے ڈھائے گئے مظالم اور باقی جبری اغوا شدہ افراد کی تفصیلات کا معلوم نہ ہوسکا۔تاہم مسلسل رابطہ کرنے کی کوشش جاری ہے۔

سیاہ کوہ سے سید علی مری کی خاندان کے تین عورتیں اور چار بچے جبکہ ربامری کے تین عورتوں کو بچوں سمیت اغوا کرکے کوہلو منتقل کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ سات بیگُناہ مری بلوچ مردوں کو جو کہ مقامی مالدار ہیں کو بھی جبری اغوا کرکے گرفتار کیا گیا۔ مختلف ذرائع سے ھمگام نیوز کو معلوم ہوا ہے کہ ربا مری کے خاندان کے اغوا شُدہ تین خواتین اور بچے ملک سڑخان سومرانی مری کے قید میں ہیں جبکہ سیدعلی مری کے تین خواتین اور چار بچے کوہلو میں سرکاری تحویل میں ہیں۔

پاکستانی اہلکاروں نے اپنے جارحیت کے دوران اغوا شُدہ لوگوں کے گھروں کو جلا کر راکھ کر دیا اور 15 موٹر سائیکلوں سمیت 300 کے قریب مال مویشی بھی فوج اور ان کے دلال لوٹ مار کرکے فوجی گاڑیوں میں ڈال کر اپنے ساتھ لے گئے۔ اس جارحیت میں سینکڑوں پاکستانی فوجیوں کو تین ہیلی کاپٹروں کی مدد بھی حاصل تھی۔ پاکستانی فوج ڈیرہ بگٹی، پیلاوغ اور کوہلو سے مذکورہ بالا علاقوں پر حملہ آور ہوا اور مقامی لوگوں کو اپنے دہشت گردی وحشت کا نشانہ بنایا۔اور کہی علاقوں میں ان غریب لوگوں رہائشی جھونپڑیوں کو جلا دیا گیا ہیں۔

ملک سڑخان سومرانی نہ صرف قیدی خواتین اور بچوں کو رہا کرنے سے انکار کر رہا ہے بلکہ وہاں مقامی لوگوں کو مزید گرفتاریوں کی بھی دھمکی دے رہا ہے۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے بھی پاکستان آرمی کوھستان مری سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں سے بلوچ خواتین اور بچوں کو گرفتار کرکے لاپتہ کر چُکا ہے۔ بلوچ سیاسی اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی مسلسل درخواست کے باوجود بلوچستان عالمی میڈیا اور عالمی انسانی حقوق کے علمبرداروں کی توجہ سے محروم ہے۔

بلوچستان میں انسانی حقوق کے تنظیموں اور سیاسی کارکنوں کا کہنا ہے کہ پاکستانی آرمی نے بلوچستان کے طول و عرض سے لگ بھگ بیس ھزار سے زائد بلوچ افراد جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں کو اغوا نما گرفتاری کے بعد لاپتہ کیا ہیں ۔

یہ بھی پڑھیں

فیچرز