ہمگام کالم : بلوچ قومی تحریک ایک آزاد ریاست کی تعمیرکی تحریک ہے جسکا مقصد اور ہدف بلوچ قومی ریاست کی تشکیل ہے ۔اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے بلوچ عوام 1948سے قربانیاں دے رہے ہیں، تاکہ وہ اپنی قومی ریاست کی تشکیل کرسکے۔ ریاست کی تشکیل کی جدوجہد مکمل طور پر مذہبی جنونیت اور انقلابی تحریک سے الگ ہوتا ہے ،انقلاب سماج کے ایک طبقہ کے خلاف جدوجہد کا نام ہے ،مذہبی دہشت گردی کا مقصد زیادہ سے زیادہ لوگ مار کر میڈیا میں اکر خوف وہراس پھیلا کر اپنے مقاصد کو حاصل کرنا ہوتا ہے جسکی پوری دنیا مخالف ہوتا ہے اور اسکا مقصد صرف اور صرف خوف و ہراس پھیلانا ہوتا ہے جس طرح سے طالبان ،داعش ،القاعدہ وغیرہ نے کیا جبکہ ریاست کی تشکیل کا جدوجہد مکمل طور پر ان کے برعکس ایک بین القوامی قانون اور دائرے کے تحت ہوکر کیا جاتا ہے اسکا مقصد یہ ہوتا ہے کہ مظلوم اور محکوم قومیں اپنی مظلومی اور لاچاری کو زیادہ سے زیادہ دنیا کے سامنے پیش کرکے دنیا کی مدد اور کمک حاصل کرکے قابض کو اپنی سرزمین سے نکال باہر کر دیں ۔
بلوچ قومی تحریک بھی ایک آزاد ریاست کی تشکیل کا جدوجہد ہے اور اسکا مقصد بھی بلوچ قومی مسئلہ کو دنیا کا مسئلہ اورمعاملہ بناکر انکی حمایت اور کمک قومی تحریک کے لیے حاصل کرنا ہے تاکہ پاکستانی جارحیت ،ظلم جبر اور بربریت کے خلاف دنیا بلوچ قومی تحریک کی حمایت کرکے ظلم جبر اور زوراکی کو روکنے کے لیے مداخلت کرکے بلوچ قومی آزاد ی کو ممکن بناسکیں .
بلوچ آزاد ریاست کی تشکیل کی جدوجہد میں 1996میں بنیادی تبدیلی اس وقت آئی ،جب بلوچ لیڈر حیربیار مری نے قومی تحریک کا بنیاد سائنسی انداز میں رکھ کر پہلی بار واضح روڈ میپ اور قومی پروگرام دیا اس نے بلوچ قومی تحریک کو انقلاب، طبقاتی اور باقی مبہم اصطلاحات سے نکال کر خالص قومی بنیادوں پر بنایا، اور جدوجہد کے لیے سب لوگوں کو مواقع فراہم کر دیا۔ تحریک کو ایک طبقہ ،علاقہ اور قبائل سے نکال کر قومی تحریک بنایا اور وہ تحریک کاہان سے نکل کر مکران ،رخشان، نصیر اباد ،ڈیرہ بگٹی اور جھالاوان سمیت پورے بلوچستان تک پھیل گیا ،اور قوم کی زیادہ تعداد اس تحریک کی حمایت اور کمک کرنے لگے اور دنیا میں بھی پہلی بار قومی تحریک نے ہمدردی کے حوالے سے اخلاقی حمایت لینا شروع کیا .
شروع میں انسانی حقوق کی تنظیموں سمیت بہت سے ممالک نے بھی بلوچ قومی تحریک کے حوالے حمایت دینا شروع کیا اور بلوچ قوم کا ایک رعب اور احترام بن گیا اور بلوچ قومی تحریک 2008تک بہترین تحریکوں میں شمارکیا جانے لگا۔ اس تحریک کو امریکہ سمیت بہت سے ممالک نے اپنے قومی مفادات سے ہم آہنگ قرار دیا اور بلوچ سیکولر سوچ نے بھی قومی تحریک کو مہذب دنیا سے آہم آہنگ کیا ۔
پاکستان نے امریکہ سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مدد لینے کے باوجود بہت کوشش کی کہ وہ بلوچ قومی تحریک کو دہشت گرد اور مذہبی جنویت کے حامل تحریک قرار دیں لیکن امریکہ نے بلوچ مفادات کو اپنے مفادات سے ہم آہنگ پاکر اسکی سیکولر سوچ کو سامنے رکھتے ہوئے بلوچ قومی تحریک کے خلاف پاکستانی پالیسیوں کی حمایت نہیں کی ,
لیکن بعد میں قومی تحریک میں بدقسمتی سے کچھ پنجابی فطرت کے حامل بلوچ شامل ہوئے جن لوگوں نے تحریک کو قومی سے نکال کر طبقاتی گروہی اور ذاتی نمود ونمائش اور مقابلہ بازی کے زمرے میں لانے کی کوشش کی۔ نیشنلزم کے ستون قومی یکجہتی کے جڑوں کو دانستہ یا غیر دانستہ تیز چھری سے کاٹنے کی کوشش کی ۔
بلوچ قومی طاقت بلوچ کے خلاف استعمال ہوا اور پانچ سال تک پنجابی فطرت کے حامل ایسے عناصر نے سوشل میڈیا پر گالم گلوچ کا بازار گرم کیا ۔انھی لوگوں نے قوم کو قومی تحریک سے ناامید کرنے کی کوشش کی اور پانج سال تک اپنے پنجابی نما فطرت کے مطابق گالم گلوچ کو انسانی فطرت قرار دیکر اسکے حق میں دلائل تک دیتے رہے ,
اور بعد میں جب ڈسپلن کا قانون ان پر لگا تو گھنٹوں میں یوٹرن لیکر دُشمن کودوست اور دوستوں کودُشمن بنا کے اپنی تھوک چاٹنے لگے اورپھر قومی تنظیموں کو توڑنے سے بھی باز نہ آئے۔
اور بلوچ قوم کو آپسی بحران میں ڈال کر ریاست کے شاطردماغ اور تحریک دُشمن لوگوں کے ہاتھوں استعمال ہوکر پاکستان کی پالیسیاں دانستہ یا غیر دانستہ اپنایا تاکہ بلوچ قومی تحریک کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نقصان سے دوچار کرسکیں ۔
پاکستان کی روس ،سری لنکا اور فلپائن کی طرح شروع سے کوشش تھی کہ کسی نہ کسی طرح سے بلوچ قومی تحریک کو ریاستی تشکیل کی تحریک سے نکال کر مذہبی طریقہ کی تحریک میں منتقل کرکے دنیا سے اسکا سیاسی و اخلاقی حمایت واپس لیکر چیچن ،تامل،مورو کی طرح انکا صفایا کریں اور آخرکارپاکستان نے روس ،فلپائن اور سری لنکا کے ماڈل کو اپناتے ہوئے معطل شدہ ٹولہ کے زریعئے اپنے منصوبوں کو کامیاب کروایا ۔
روس کے شمالی خطے میں رہنے والے چیچن جو دوسو بیس سال سے روس کے غلامی میں زندگی بسر کررے ہیں اور وہ روس کے خلاف دوسوسال تک مزاحمت کرتے رہے اور اسٹالن نے ان پر نازیوں کی حمایت کرنے کا الزام لگا کر ان کو سائبیریا میں بڑی تعداد میں منتقل کیا جہاں انکے ہزاروں لوگ مارے گئے، لیکن روس انکی تحریک کو ختم نہیں کرسکا اور جب روس تقسیم ہوا تو چیچن قوم نے مذاحمت شروع کیا اور ان کے مذاحمت کو ختم کرنے کے لیے روس کے صدربورس یلسن نے 1994سے 1996تک طاقت استعمال کیا لیکن وہاں روس کو دنیا کی سخت دباوُ نے طاقت کے استعمال سے روک لیا اور روس پہلے چیچن وار میں ناکام ہوئے اور 1996میں روس سیزفائر پر راضی ہوا ،اسی دوران چیچن تحریک کو پوری مغرب اور دنیا سے اخلاقی و انسانی بنیادوں اور روس کے مخالفت کی وجہ سے بھی سپورٹ مل گیا اور ریڈیو یورپ سمیت مغربی میڈیا کے بہت سے چینلوں نے انکی بھرپور مدد کی، اور وہ اپنے علاقے چیچنیا میں طاقت اور قوت کے حوالے سے نیم آزاد ریاست کی طرح ابھرے اور قومی تحریکوں میں منظم اور مضبوط ترین شمار ہونے لگے۔،
روس کے خفیہ اداروں نے دیکھا کہ جب تک دنیا خاص کر یورپ اور امریکہ چیچن کے حمایت میں ہیں وہ انکو مکمل شکست نہیں دے سکے گے، پھر ان کے انٹیلی جنس اداروں خاص کر (ایف ایس بی) یعنی فیڈرل سیکورٹی سروس نے دور رس اور جامع حکمت عملی کا منصوبہ ترتیب دیا۔ انکی تحریک کو کس طرح دنیا کی حمایت سے محروم کرکے انکو دنیا ،مغرب اور امریکہ سے الگ تھلگ کرکے انکا خاتمہ کریں تو وہاں انکے اداروں نے کہا کہ انکا آسان طریقہ یہ ہے کہ انکی تحریک کو نیشنلزم اور ریاست کی بحالی کی تحریک کے ساتھ ساتھ مذہبی رنگ میں رنگا کردہشت گردی کی طرف راغب کریں ,
اور اسی مقصد کی خاطر ان لوگوں نے اپنے تربیت یافتہ لوگ چیچن تحریک کے اندر سرایت کروائے اور ان لوگوں نے نیشنلزم کی جدوجہد کو منصوبہ بندی سے دہشت گردی کا رخ دیا اور روس نے انھیں دانستہ طور ایسے مواقع فراہم کیا کہ وہ عام روسی علاقوں میں حملہ کریں تاکہ عام سویلین مریں اور انکے زیادہ سے زیادہ لوگ ماریں کیونکہ قومی مفادات کے لیے ریاستیں اپنے لوگوں کو مروانے کی پروا نہیں کرتے ہیں اور روس نے اپنے سرایت کردہ لوگوں کو استعمال کرتے ہوئے چیچن تحریک کے زریعے اپنے ایجنڈے کی تکمیل کی اور 1999میں چیچن مذاحمت کاروں نے پانچ بمب دھماکہ کیے جہاں تین سوعام روسی شہری مارے گئے اور چیچن موومنٹ میں سرایت کردہ ایجنٹوں نے باقی ماندہ لوگوں کو مطمئن کرنے کے لیے کہاکہ تین سو لوگوں کے مارنے سے پوری دنیا کا میڈیا انکی رپورٹنگ کررہا ہے اور دنیا چیچن تحریک کی طرف راغب ہے مزید اس کو وسعت دیا جائے ،
چیچن تحریک میں بہتر لیڈرشپ کے کوالٹی سے عاری لوگ اپنے دُشمن روس کے ہاتھوں استعمال ہوکر اپنی تحریک کے خاتمہ کا سبب بن گئے ،بین القوامی قانون کے برخلاف اور مذہبی دہشت گردی کے طریقہ سے جنگ کرنے کی صورت میں روس کے سب سے بڑے مخالف یورپ اور امریکہ کے لیے مورال گراونڈ اور بین القوامی آڈر کے تحت انکے لیے ممکن نہ رہا کہ وہ چیچن موومنٹ کی مزید حمایت کرسکیں تو یورپ سمیت امریکہ نے انکی کاروائیوں کی مخالفت کی اور پھر روس کو بین القوامی سطح پر جواز مل گیا اور اس نے فروری 2000میں چیچن جمہوریہ کی دارالحکومت گروزنی پر حملہ کرکے اسکو قبضہ کیا اور دس ہزار سے زیادہ چیچن لوگوں کو مار کر اور لاکھوں کی تعداد میں لوگوں کو نقل مقانی پر مجبور کر کے انکی تحریک کابیک بون ختم کیا اور پھر کچھ سالوں بعد انکے تمام لیڈرشپ کو ایک ایک کرکے ختم کیا، لیکن روس کے اندر کے ایجنٹ انکو اپنی پالیسیاں صحیع کرنے کے بجائے مزید دنیا سے تنہا کرنے کے لیے دہشتگردانہ کاروائیاں کروانے کے لیے اکساتے رہے اور انکا رخ درست سمت کی بجائے غلط سمت کی طرف موڑتے گئے .
، جس میں ستمبر 2004میں ‘بسلان’ جو روس کے شمالی علاقہ کا جگہ ہے جہاں انھوں نے ایک سکول پر حملہ کرکے اسکو محاصرہ کرکے تین سو بچوں کو مارکر اور اسی طرح باقی ایک اور واقع میں ان لوگوں نے ستر کے قریب لوگ مارے جس کے بعد انکی تمام لیڈرشپ سمیت تحریک کو ختم کرنے کے لیے انھی واقعات کو روس نے جواز کے طورپر بین الاقوامی بہت سے فورمز پراستعمال کرتے ہوئے دنیا کی دباوُ سے خود کو بچاکرانکی تحریک کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم کیا اور وہ کامیاب تحریک اندرونی لوگوں کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے چیچن عوام کو انکے بین القوامی ہمدردوں سے بھی محروم کرگیا اور پھر وہی واقعات انکی تحریک کے خاتمہ کاسبب بھی بن گئے ۔
انکے ایک گوریلا لیڈر شامل باسائیف بھی ‘ایف ایس بی’ کے چالوں کوسمجھنے سے قاصر تھے حالانکہ وہ دنیا میں سب سے زیادہ طاقتور اورمضبوط گوریلا کمانڈر کے طور پر جانے جاتے تھے ،بسلان مین اسکول دھماکہ ،ماسکو میں تیھٹر کو معاصرے کا ماسٹر مائنڈ کہا جانے لگا اور اسکو بھی اور بہت سے گوریلا لیڈروں سمیت روس نے مار کر انکی تحریک کا خاتمہ کیا ،اور انکی دہشت گردانہ کاروائیوں کی وجہ سے جب روس نے ان پر طاقت کا استعمال کیا تو دنیا نے اپنے کان اور آنکھیں بند کیے اور اسی طریقہ سے روس نے منظم منصوبہ بندی کے تحت ان سے چند سو روسی مروا کرہمیشہ ہمیشہ کے لیے چیچن تحریک کا خاتمہ کروایا ۔
بلوچ قومی تحریک بھی ایک ریاست کی بحالی کی تحریک ہے جسکی بنیاد بلوچ رہشون حیربیار مری نے 1996میں رکھ کر 2000میں اسکو عملی شکل دیا اور تحریک نے بھی 2008تک مثالی کام سرانجام دیکر اپنا لوہا منوایا لیکن بعد میں مختلف مسلح پارٹیوں اور تنظیموں میں قابض نے پہلی قسط میں اپنے بندے داخل کروا کر انکو ٹاسک دیا کہ وہ تحریک کی بندوق کو اپنے لوگوں کے خلاف استعمال کرکے لوگوں کو قومی کاز اور پروگرام سے مایوس اور بدظن کریں پھر قوم نے دیکھ لیا کہ قابض کے سرایت کردہ مقبول شمبے زئی ،راشد پھٹان ،باسط اور قمبرخان سمیت بہت سے لوگوں نے تنظیموں کی کمزور گرفت اور کرپشن کی وجہ سے ریاست کے سرایت کردہ لوگوں نے قوم کو مایوس اور ناامید کرنے کے لیے کیا سے کیا کارنامہ سرانجام نہیں دیا، اور پھر بعد میں ایک ایک کرکے ریاست کے سرایت کردہ لوگ اپنے اصل ٹھکانے پر پہنچ گئے ۔
پھر قابض کا دوسرا ایجنڈا قوم اور لوگوں کو تحریک سے ناامید کرنے کے لیے تعمیری اور اصلاحی بحث کی رخ کو پوتاری بحث کی طرف موڑ دینا ۔حالانکہ تعمیری اور اصلاحی بحث سے کوئی پاگل ہی انکار کرسکتا ہے دنیا میں جتنے بھی ترقی ،اصلاحات ،ایجادات اور خوشحالی آئی سب کے پیچھے تعمیری اور اصلاحی بحث کا کلیدی کردار رہا ہے.
یورپ جو دوہزار سالوں سے جہالت ،ظلمت تاریکی ، کا شکار تھا اس یورپ کی دو ہزار کی تاریکی اور اندھیرے کو دوسو سال کی تعمیری ،اصلاہی بحث نے چمک دمک ،آب وتاب اور ترقی میں تبدیل کیا بلوچ قومی تحریک میں کمزوریوں کوتائیوں اور خرابیوں پر تعمیری اور اصلاحی بحث ہورہا تھا کہ اس بحث کو پوتاری ٹولہ نے مہلک اورتباہ کن بحث میں تبدیل کرکے چین کی کلچر بحث کا بھی ریکارڈ توڈ دیا ، اور اپنی پوتاری بحث اور گالی گلوچ شگان پر شرم کرنے کے بجائے اس کے حق میں دلیلیں دینے لگے .
استاد قمبر سمیت سارے جہدکاروں کی زاتی زندگی اور عورتوں تک کو گالی دینے لگے .
۔سنگت حیربیار مری ،نواب خیربخش مری اور باقی لیڈران سمیت سب جہدکاروں کو پاکستانی فطرت کے حامل پوتاری ٹولہ نے کیا سے کیا نہیں کہا اور انکی تحریریں اور پوسٹ آج کے جدید دور میں بھی سوشل میڈیا میں موجود ہیں، جس کا بھی خاص مقصد یہی تھا کہ قومی تحریک کو ناامیدی اور مایوسی کے دلدل میں ڈال کر اصل سمت اور رخ سے روکنا تھا یہ سب کیا کم تھے کہ پوتاری بحث کرنے والوں سے جب انکی پوتاری بحث اور غلط طریقہ سے اختلافات سے اختلافات کیے اور انکو ڈسپلن کے پابند کرنے کی کوشش کی تو ان لوگوں نے پاکستانی فطرت کا عملی نمونہ دیکر پھر ستر کا یوٹرن لیکر اپنی گالیوں اور لکھے ہوئے الفاظ کو ماننے کے لیے بھی تیار نہیں ہوئے اور تو اور نائلہ قادری سے ملکر قومی پارٹیوں کو توڑنے کا عمل بھی شروع کیا اگر کسی کو پتہ ہے یا نہیں تو انکی معلومات کے لیے عرض ہے کہ نائلہ قادری جب افغانستان میں تھی تو اس نے افغانستان میں بلوچوں کانام استعمال کرکے بروہی اور بلوچ کو الگ کیا اور کہا کہ بروہی بلوچ سے الگ ہے اور اسی طریقہ سے اس نے بڑے شاطرانہ انداز میں کام کرکے پاکستان کے ایجنڈے کو افغانستان میں سرانجام دیا.
پھر بی ایل اے کے معطل ٹولہ سے ملکر تنظیموں کو توڑنے کا نیا پلان بنایا پہلے بی ایل اے پھر بی ار اے کو تقسیم درتقسیم کے مراحل میں گزار کر وہی پوتاری بحث اور ناامیدی اور مایوسی کے ساتھ ساتھ پاکستان نے بھی روس ،سری لنکا اور فلپائن کی طرح ایسے کچھ کام کروائے کہ جو بین القوامی قانون اور دنیا کی نظروں میں دہشت گردی کے زمرے میں آتے ہیں,صحافیوں کو مارنے چینی سفارتخانہ پر حملہ اورگوادر پی سی ہوٹل پر حملہ سارے تحریک کو بین القوامی سطح پر مذہبی دہشت گردی کی طرح ثابت کرنے کے لیے کافی تھے کہ انکو جواز بناکر پاکستان نے ساری دنیا اور بلوچ ہمدردوں کو بھی کسی نہ کسی طریقہ سے دفاعی پوزیشن لینے پر مجبور کیا.
سب سے پہلے ہندوستان جو بلوچوں کے کسی بھی واقع اور مسلح کاروائیوں کی کھل کر کھبی بھی مخالفت نہیں کیا تھا، اسکو بھی ان کاروائیوں کی مخالفت کرنا پڑا بلکہ ہندوستان کے اخبارات میں پہلے بھی آیا کہ پاکستان نے بلوچ تحریک کو بدنام کرنے کے لیے اور چین سے زیادہ پیسہ لینے کے لیے یہ کام کروائے ہیں پھر امریکہ سمیت پوری دنیا نے ان واقعات کی مخالفت کی.
روس جو اپنے ایک آدمی کی خاطر دوسرے ممالک سے جنگ کرسکتا ہے اسکے اداروں نے چیچن تحریک کو مکمل ختم کرنے کے لیے اپنے سرایت کردہ لوگوں کے زریعے اپنے تین سو لوگ ایک واقع میں مروائے باقی جگہ بھی اس نے اپنے لوگ مروائے.
اسی طرح آئرش تحریک کو مکمل ختم کرنے کے لیے بھی برطانیہ نے اپنے سرایت کردہ لوگوں سے اپنے بہت سے لوگ مروا کے انکی تحریک کانقصان کروایا تو پاکستان کے لیے اپنے تین آدمیوں کو مروانا کیا مشکل کام ہے؟ جو ڈالر کے بدلے ہزاروں کی تعداد میں اپنے لوگ مروا چکا ہو کیونکہ معطل شدہ ٹولہ نے جو کاروائیاں کی ان میں تین بلوچ نوجوان شہید ہوئے لیکن ایک چینی کو بھی نقصان نہیں پہنچا۔ اور پھر اسکے سفارتخانہ میں حملہ کروانا کیا یہ ایک جہدکار کا ائیڈیا ہوسکتا ہے? حالانکہ جب دو ریاستیں ایک دوسرے کے ساتھ جنگ کرتے ہیں تو وہ بین القوامی قانون کے تحت ایک دوسرے کی سفارتخانہ کاتحفظ کرتے ہیں صرف مذہبی شدت پسند اس طرح کے کام کرتے ہیں کوئی بھی عقل مند اور تحریک دوست انسان اس طرح کا عمل نہیں کرسکتا ہے ،باقی جس نادان نے یہ خیال سوچ اور آئیڈیا دیا اور اگر نیک نیتی سے ان تینوں کاروائیوں کے پیچھے آدمی کے بارے میں اگر تجزیہ کیا جائے یا تو وہ انتہائی احمق ہوگا یا کہ اسکی ڈوریاں کسی اور جگہ سے ہلائی گئی ہیں کہ جس نے دہشت گرد پاکستان اور بلوچ قومی وسائل کو لوٹنے والے چین کو بلوچستان میں مذید لوٹ مار اور تحریک کو ختم کرنے کے لیے پاکستان کو ایک طرح کا بین القوامی طور اجازت نامہ اور موقع فراہم کردیا، کہ وہ چیچن ،تامل تحریک کی طرح بلوچ تحریک میں ہر جہدکار کوبی ایل اے کا ممبر اور سرمچار کانام دیکر سارے جہدکاروں کو کرش کریں اور اسکے لیے پاکستان امریکہ کے بعد کوشش کرے گا کہ ان کاروائیوں کوبین القوامی قانون کے خلاف قرار دیکر اقوام متحدہ میں بھی لے جائے اور وہاں کوئی بھی ملک ان کاروائیوں کو دیکھتے ہوئے بلوچ کی حمایت نہیں کرسکے گا اگر خدانخواستہ دشمن اقوام متحدہ میں کامیاب ہوا تو لوگ بھی دیکھیں گے کہ پاکستان اس دورانیہ میں کس طرح طاقت کا استعمال کرکے افغانستان میں بے گناہ پناہ گزین اور بلوچستان میں بھی لوگوں کوتامل اور چیچن طرز پر مارنے کی کوشش کرے گا کیونکہ کوئی بھی ریاست بین القوامی آڈر کے تحت دوسری آزاد ریاست کی تشکیل کی قومی جدوجہد کو بغیر مضبوط جواز اور دنیا کی حمایت کے بغیر کرش نہیں کرسکتا , اگر ریاستیں زیادہ طاقت استعمال کرکے نسل کشی کریں تو باقی دنیا کسی نہ کسی طریقہ سے اسے ایسا نہیں کرنے دیگا ، یا کہ اس ظلم جبر اور نسل کشی پر مداخلت کرے گا ،جبکہ مذہبی شدت پسندوں کو ختم کرنے کے لیے ریاستوں کو کسی جواز کی ضرورت نہیں کیونکہ دنیا انکے طرز جدوجہد اور کاروائیوں سے بیزار ہے اور انکے خاتمہ پر قابض ریاستوں کی مدد وکمک بھی کریں گے جس طرح شمالی وزیرستان اور سوات میں پاکستان نے نسل کشی کے لاکھوں کی تعداد میں انکے لوگ گھروں سے بے گھر کیے کسی نے بھی ایک بات نہیں کی لیکن ptmکی تحریک کو ختم کرنے کے لیے تھوڑا سا ریاست نے طاقت استعمال کی پوری دنیا اور انسانی حقوق کی تنظیمیں حرکت میں آگئی اور پاکستانی فوج چاہتے ہوئے بھی بغیر مضبوط جواز کے انکے خلاف اسی طریقہ سے طاقت استعمال بھی نہیں کرسکے گا ,
اور تو اور جیش العدل اورجندالللہ جو امریکہ کے سب سے بڑے مخالف ایران کے خلاف جنگ کررہے ہیں ایران کے خلاف جنگ میں انکی حمایت کی اسکو ضرورت بھی ہوگی مگر امریکہ دنیا کے آڈر اور مسلمہ بین الاقوامی قوانین کے تحت ان پر بھی پابندی لگا چکا ہے کیونکہ انکے طریقہ کار بین القوامی قانون اور دائرے کے خلاف ہیں اور دنیا اس طرح کی کسی بھی عمل کی حمایت نہیں کرسکتا ہے کہ جو دہشت گردی کے زمرے میں اتے ہو۔
بلوچ قومی تحریک جو دنیا کی قوانین کے مطابق چل رہا تھا اسکو معطل ٹولہ نے اس مقام تک پہنچایا کہ بلوچ قومی تحریک بین القوامی سطح پر اپنی اخلاقی جواز کھو گیا اورامکانات ہیں کہ پاکستان اسکو یواین میں لے جائے گا۔ اگر وہاں پاکستان کو کامیابی ہوا تو کل کو خدانہ کرے چیچن اور تاملوں کی طرح بلوچ قومی تحریک کسی نازک لمحہ اور تشویش ناک مرحلہ میں چلاجائے.
پہلے سے تمام حقیقی آزادی کے جہدکار تدابیری حکمت عملی ترتیب دیں یہ معطل ٹولہ کل کے اپنی گندی گالیوں اور پوتاری سے انکاری ہے اگر جدوجہد کو نقصان ہوا تویہ کہاں ذمہ داری لیں گے؟
اس جدوجہد سے جہاں بلوچوں نے ہزاروں کی تعداد میں لوگ شہید ہوئے اور بیس ہزار سے زیادہ لوگ ٹارچر سیلوں میں قید ہیں اس امید سے کہ کل کو مجیب الرحمان اور نیلسن منڈیلا کی طرح قید کی غلامی کے ساتھ ساتھ پاکستان کی غلامی سے آزاد ہوکر آزاد وطن میں ازادی کے ساتھ سانس لیں گے اسی لیے کل کے نازک اور مشکل مراحل اور دُشمن کی سازشوں کو جاننے کے لیے تمام مسلح اور سیاسی پارٹیوں میں موجود حقیقی لوگ مشترکہ لائحہ عمل اور حکمت عملی پر راضی ہوکر کام کریں تاکہ کل کو چیچن اور تامل کی طرح حقیقی لوگوں کو پشیمانی اور ندامت کا سامنہ نہ کرنا پڑے کیونکہ یہ تحریک انقلابی مذہبی اور ایک طبقہ و گروہ یا پارٹی کی نہیں بلکہ ایک قومی تحریک ہے ، اور قوم بن کر اس جدوجہد کو بحران ،مشکلات ،سخت حالات اور قابض دشمنان کی چالاکیوں سازشوں سے بچاکر جدوجہد کو حقیقی آزادی کے منزل تک پہنچایا جاسکتا ہے جس کے لیے سب کو ایک پیچ پر ہوکراپنی توانائی ،طاقت ،علم ،ہنر ،صلاحیت ،مال سب کچھ دُشمن کے خلاف لگا کر بہتریں مواقع میں اپنی قومی آزادی کو حاصل کرنا ہوگا۔
دُشمن کی چالوں کو کاوئنٹر کرنے کے لیے سب کا ایک پیچ پر ہونا لازمی ہے ورنہ دُشمن فائدہ اٹھاتے ہوئے تحریک کو اندرونی و بیرونی دونوں سطح پر نقصان سے دوچار کرنے کی منظم منصوبہ بندی کرچکا ہے اسکا توڑ ایک صفحہ پر ہوکر کیا جاسکتا ہے باقی تمام پارٹیوں میں موجود ایماندار اور جدوجہد کو کامیاب کرنے والے لوگ سنجیدگی سے سوچ لیں اور ایک پیج کے لیے حقیقی لوگوں کو یکجا کرنے کی کوشش کریں تب جاکر دُشمن کی تمام سازشوں اور منصوبوں کو ناکام بنایا جاسکتا ہے ورنہ اگر کل کو تامل اور چیچن کی طرح قو می تحریک کو نقصان ہو ا توپھر کل کو اس نقصان کے ذمہ دار بھی حقیقی ایماندار اور زانتکار لوگ ہی ہونگے کہ جن لوگوں نے سمجھتے ہوئے بھی قابض کے حربہ اور منصوبوں کو کیونکر کامیاب ہونے دیا اور بلوچ قومی تحریک کا نقصان کیا.
حالانکہ اب بھی تامل اور چیچن افسوس کررہے ہیں کہ وہ اس وقت صحیع فیصلہ لیکر غلطیوں اور کوتائیوں پر مسلحت پسندی سے کام نہ لیتے تو وہ اپنی قومی کاز اور تحریک کو بچا سکتے تھے حالانکہ تامل لیڈر پرباکرن کی ایمانداری پر کسی کو کوئی شک نہیں اس نے خود کو قربان کیا لیکن آج بھی بہت سے تامل اس کو ملامت کرتے ہیں اور اسکو اپنی تحریک کی ناکامی کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں کیونکہ اسکو عقل شعور اور قومی تحریک کو کامیاب کرنے کی صلاحیت نہیں تھا .
اس لیے بلوچ قومی تحریک کو مشکل اور سخت حالات اور ریاستی سازشوں سے بچانے کے لیے سارے حقیقی لوگ تدابیر کریں ورنہ پھر تامل اور چیچن کی طرح نقصان ہی نقصان ہوگا۔















