ہمگام کالم : آپ انتہائی تیزی اور چابک دستی سے دوڑ رہے ہیں، آپ اس وقت تک منزل تک نہیں پہنچ سکتے جب تک کہ آپ کا سمت درست نہ ہو۔ آپ جتنا زیادہ کھائیں بیماریوں سے تب محفوظ رہوگے جب آپ صحت مند غذا کھائیں گے۔ آپ قوم کا اعتماد تب جیتیں گے جب آپ قوم کی امنگوں کا صحیع ترجمانی کرینگے۔ عوام آپ کا فقید المثال استقبال اور آپ کی پالیسیوں کی حمایت اس وقت کریگی جب آپ تحریک کو دہشت گردی کی فہرست میں شامل ہونے کا مرتکب ہونے کی بجائے تحریک کے لئے ملکی اور بین الااقوامی سطح پر آسانیاں ، ہمدردیاں اور حمایت کا سامان پیدا کریں گے۔ ایک ایسے وقت میں جب خطے میں جنگ کے بادل منڈلا رہے ہو ، دنیا کو بلوچستان کی ضرورت درپیش آئے گی اس سے پہلے کہ عالمی طاقتیں بلوچستان کو خطے میں ایران و پاکستان کے نعم البدل کے طور پر تسلیم کرنے کےلئے اقدامات اٹھاتے، ایران، چین اور پاکستان نے اپنی شاطرانہ چال سے بی ایل اے پر پابندی لگوائی۔ لیکن ایران اور پاکستان کی بلوچ تحریک آزادی سے دنیا کو بدظن کرنے کا خواب کبھی بھی پورا نہیں ہوگا۔ ایران، پاکستان کی سیاہ کرتوتوں سے سفارتی بلیک میلنگ کے شکار عالمی برادری بہت جلد اس حقیقیت کا ادراک کرےگی کہ بلوچ جہد آزادی ایران اور پاکستان کا کوئی بناوٹی پروجیکٹ نہیں جس پر دہشت گردی کا لیبل لگا کر اسے ختم کیا جاسکے۔ کمزور ذہنیت اور پیسے کی ریل پیل سے جلد متاثر ہونے والے چند ایک کمانڈر حضرات کو اپنی جال میں پھنسا کر بلوچ تحریک کو ہائی جیک کیا جائے گا۔ یہ تحریک بلوچ تحریک قوم کے دل و دماغ اور صدیوں پر محیط ان قومی امنگوں کا جیتی جاگتی تعبیرہے ۔ آزادی کی چاہت ہر بلوچ کے دل میں پیوست ہے۔ آجوئی کی تحریک میں شریک بلوچ اب ایک گمنام اور خاموش سمندر کی شکل اختیار کرگئے ہیں، اس سمندر کو نہ گنا جاسکتا ہے نہ اسے قید رکھا جاسکتا ہے، کیونکہ سوچ اور روح کو نہ قید کیا جاسکتا ہے نہ اسے مارکر ہرایا جاسکتا ہے۔ دشمن کاہان، ڈیرہ بگٹی سے لیکر، کوئٹہ اور گوادر تک پھیلی ہوئی ان زیر زمین بلوچ جہد کاروں سے انتہائی حد تک بوکھلاہٹ کا شکار ہے جن کی شناخت اور پہچان، افرادی تعداد، اور فوجی طاقت کا اندازہ کرنا ناممکن ہے کیونکہ وہ گوریلا جنگی اصولوں کی سختی سے پابند ہیں یہ سیلاب جو نواب مہراب خان اول، میر دوست محمد بلوچ (ایران کے زیر قبضہ بلوچستان کی جہد آزادی کا رہبر)، نواب نوروز خان، نواب اکبر خان، بالاچ مری، غلام محمد بمعہ ساتھی، اور دیگر ہزاروں ماوں بہنوں، نوجوانوں ، بزرگوں کی شکل میں وجود رکھتی ہے اسے روکنا کسی کے بس کی بات نہیں۔ رواں بلوچ تحریک بابت امریکی انتظامیہ کا حالیہ فیصلہ بلوچ عوام اور تحریک کے خیرخواہوں کے لئے اخلاقی دھچکا ضرور ہے تو دوسری طرف اس فیصلے نے بلوچ نوجوانوں کو بھی یہ سوچنے پر مجبورکردیا کہ جن کاروائیوں کی وجہ سے امریکہ اس نتیجے پر پہنچی ہے بی ایل اے کو اس نہج تک پہنچانے والے ان کرداروں سے باز پرس کی جائے، ان سے بلوچ عوام یہ بھی دریافت کرنے کا مجاز ہے کہ کیونکر وہ اپنی مرکزی قیادت کے فیصلوں سے سرف نظر کرتے ہوئے ذاتی حیثیت سے کاروائیاں کرتے رہے جن کے منفی نتائج آج ساری بلوچ عوام کے سامنے عیاں ہوگئی ہیں، اور جس کی وجہ سے بلوچ تحریک آزادی کے ایک اہم ترین بلوچ تنظیم پر آنچ آئی ہے۔ گالم گلوچ، غیر شائستہ جملے کسنے کی بجائے ہم میں سے ہر ایک کو سوچنا اور غیرجانبداری سے تجزیہ کرکے بلوچ تحریک کوغلط سمت میں جانے سے روکنے میں کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ ہزاروں بلوچ شہدا کی قربانیوں کو اپنی ذاتی شہرت کی بھینٹ چھڑانے سے بچایا جاسکے۔ بلوچ تحریک آزادی بابت حمایت کے متقاضی بلوچ قوم اور سنجیدہ لیڈرشپ محدود وسائل سے دن رات کوششوں میں مصروف ہو اس اثنا میں امریکہ کا بلوچ لبریشن آرمی کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کا عمل بلوچ نوجوانوں اور خاص کر بلوچ مسلح جہد کار ساتھیوں کو یہ سوچنے پر مجبور کررہا ہے کہ انہوں نے تنظیم کو چھوڑ کر ناقص پالسیاں مرتب کرنے والوں کا ساتھ کیوں دیا ؟ آج ایک کسان ، بزگر اور چرواہا بھی یہ سوال اٹھانے کا حق رکھتا ہے کہ امریکہ تیس سال بعد باقی بلوچ مسلح تنظیموں کو دہشت گرد قرار دینے کی بجائے صرف چند ایک واقعات کا حوالہ دے کر بی ایل اے جیسی ذمہ دار تنظیم کو کیونکر دہشت گرد کہے گا؟ بلوچ جہد کار اور شہدا کے وارث اور ہر بلوچ مرد و زن کے ذہن میں یہ سوال تواتر اور شدت سے ابھر رہا ہے کہ بی ایل اے پر لگی امریکی پابندی کےاصل محرکات معطل شدہ چند ایک کمانڈر ہیں ناں کہ پوری بلوچ لبریشن آرمی ,جنہوں نے اپنی شوق لیڈری کے مرض میں مبتلا ہوکر گوریلا جنگی اصولوں کی دھجیاں اڑاتے ہوئے اپنی شناخت ظاہر کی جس سے تنظیمی ساتھیوں کو نشانہ بنانے میں دشمن کو آسانی ہوئی۔ یہ سوال ہر بلوچ مخلص جہد کار کے ذہن میں گردش کررہی ہے کہ غیر دانشمندانہ حکمت عملی کی وجہ سے قلیل ترین وقت میں تنظیمی ساتھیوں کو جو نقصانات ہوئے ہیں اس سے بچا جاسکتا تھا۔ آزادی کی تحریکیں میراتھن کا دوڑ نہیں ہوتے، یہاں رفتار نہیں سمت زیادہ اہمیت رکھتا ہے، آزادی کی جہد میں بندوق نہیں بلکہ بندوق کی نلی سے نکلنے والی گولی کا تعین اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ ہمیں امید ہے بلوچ غیور فرزند، اپنی حب الوطنی، دور اندیشی، مخلصی، گوریلا جنگی اصولوں کی سختی سے پیروی کرتے ہوئے جہد کو آگے بڑھانے میں یوں اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔ بلوچ قومی جہد آزادی قومی ریاست کے وجود تک جاری رہے گی۔اور یہی ہماری قومی شناخت وخودمختاری کی ضمانت ہوگی۔