واشنگٹن(ہمگام نیوزڈیسک) مانیٹرنگ نیوزڈیسک کے موصولہ رپورٹس کے مطابق امریکہ کے چوٹی کے فوجی عہدے کے لیے نامزد اہلکار، جنرل مارک مائلی نے کہا ہے کہ افغانستان سے قبل از وقت فوجی انخلا ’’حکمت عملی کی غلطی ہوگی‘‘، ایسے میں جب تقریباً دو عشروں سے افغانستان کی جاری لڑائی کے خاتمے کی غرض سے امن اور ممکنہ تصفیے کے لیے امریکہ اور طالبان کے مابین مذاکرات جاری ہیں۔
جنرل مائیک مائلی فوج کے چیف آف اسٹاف ہیں، جنھیں جوائنٹ چیف آف اسٹاف کے سربراہ کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔ انھوں نے جمعرات کے روز سینیٹ کی مصلح افواج کی قائمہ کمیٹی کی سماعت کے دوران کہا کہ ’’میرے خیال میں یہ کام سست، تکلیف دہ اور مشکل امر ہے۔ میں نے اپنی زندگی کا کافی وقت افغانستان میں گزارا ہے۔ لیکن، میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ یہ ضروری ہے‘‘۔
مائلی نے کہا کہ انھوں نے امن مذاکرات میں ’’پیش رفت‘‘ دیکھی ہے، جس کا مقصد لڑائی ختم کرنا ہے۔
متوقع طور پر امریکہ اور طالبان کے مابین معاہدے کا انحصار اس بات پر ہے کہ طالبان کی جانب سے یہ عہد کیے جانے پر کہ افغانستان کو دہشت گردی کے اڈے کے طور پر استعمال نہیں کیا جائے گا، امریکہ اس کے عیوض غیر ملکی فوجوں کے انخلا کا وعدہ کرے گا۔مائلی نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ ایران ’’ہمیشہ سے ڈنڈھورا پیٹنے والا کردار کرتا رہے گا‘‘، اور یہ کہ ایرانی پشت پناہی والی دہشت گرد تنظیموں نے عراق میں موجود امریکی فوجیوں کو ہلاک کیا ہے۔
ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جمعرات کو تین ایرانی کشتیوں نے آبنائے ہرمز میں برطانوی تجارتی کشتی کا راستہ روکنے کی ناکام کوشش کی تھی ۔ بحری کشتی کے پاس موجود برطانوی بحری جہاز کے ’’زبانی انتباہ‘‘ کے بعد ایرانی کشتیاں وہاں سے فورا بھاگ نکلیں۔جب ان سے ایران سے متعلق سوال کیا گیا تو مائلی نے کہا کہ جب سے امریکہ ایران کے جوہری معاہدے سے الگ ہوا ہے، ایران کی جانب سے ’’بد نیتی پر مبنی سرگرمی شدت اختیار کر گئی ہے‘‘۔ اس مربوط مشترکہ پلان آف ایکشن پر 2015ء میں دستخط کیے گئے تھے۔جس کے بعد سے امریکہ ، اور یورپی یونین کے ساتھ ایران کے تعلقات میں روز بروز کشیدگی شدت اختیار کرتی جارہی ہیں۔


