لندن(ہمگام نیوز) ایرانی حکومت کے خلاف صدر ٹرمپ کی پالیسی پر بلوچ، عرب، کرد ، ترک اور دیگر غیر فارسی اقوام کے نمائندوں نے جمعہ کو لندن میں ایک اجتماع منعقد کیا۔اس اجتماع میں ان نماہندوں نے ایران کے خلاف ٹرمپ کے پالیسی کی حمایت کی۔
اس پریس ڪانفرنس کا اہتمام عرب تحریک تحریک آزادی (ASMLA) کی طرف سے منعقد کیا گیا تھا اور فری بلوچستان موومنٹ کے نمائندے، آذربائیجان لبریشن برائے نیشنل آرگنائزیشن، آذربائیجان کے سیاسی تنظیموں کے تعاون کے پلیٹ فارم، آذربائیجان قومی مزاحمت تنظیم، جنوبی آذربائیجان،اسٹوڈنٹس تحریک ، کردستان کی آزادی تحریک، کیسپین ڈیموکریٹک پارٹی اور جنوبی آذربایجان ڈیموکریٹک پارٹی نے حصہ لیا اور انھوں نے سیاسی اعلان کیا کہ غیر فارسی اقوام کو اپنے مستقبل کا انتخاب کرنے کا حق حاصل ہوناچائیے، اور یورپی یونین کے ممالک کو علاقائی امن اور سلامتی کیلئے امریکہ کے اقدامات کی حمایت کرنی چاہئے.
پریس کانفرنس میں موجود نماہندوں نے کہا کہ ایران اسلامی حکومت بلوچوں، اور احواز کے عرب لوگوں، آذربائیجان کے ترک، کردستان اور ترکمن عوام کے خلاف ظلم پر ظلم کر رہی ہے.
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران اقوام متحده کے رکن کی حیثیت سے اقوام متحدہ کے چارٹر کے ساتویں حصے کی خلاف ورزی کر رہی ہے، لیکن اقوام متحدہ مقبوضہ اقوام بشمول بلوچ قوم کے خلاف ایرانی ریاست کے ‘خوفناک جرائم’ کا خاتمہ کرنے میں ناکام رہا ہے .
فری بلوچستان موومنٹ کے نمائندے شہزوار کریمزادہ نے کہا کہ ایران کے مظلوم اقوام کو موجودہ اسلامی رجیم کے خاتمے بعد ایک جمہوری معاشرہ تشکیل دینے کا واضع منصوبہ ہونا چائیے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اقتصادیات اور سیاست کے لئے ایک متبادل منصوبہ کی ضرورت ہے جہاں قوموں کو اپنے مستقبل کا تعین قائم کرنے کا حق حاصل ہو، اور اس طرح کے متبادل عمل کو تعاون، جمہوری حکومت، باہمی احترام اور انسانی حقوق کے اصولوں پر مبنی ہونا چائیے . انہوں نے کہا کہ مشرق وسطی اور اس خطے میں مسئلہ نوآبادیاتی جیوپولیٹکس اور جعلی قوموں کی تخلیق ہے جہاں مختلف تاریخی اقوام کے قومی حقوق کو نظر انداز کر دیا گیا ہے. انہوں نے 21st صدی کو مشرق وسطی میں قوموں کی صدی کہا.
پریس کانفرنس کے دوران رسمی بیان میں ان نماہندوں نے ایرانی رجیم کے خلاف ٹرمپ انتظامیہ کے دباؤ مہم کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ یورپی ریاست بھی ایران کے دہشت گرد رجیم کو روکنے کے لئے ریاستہائے متحدہ امریکہ کی مدد کرناچائیے ۔ تاکہ خلیج فارس کے علاقے کو محفوظ بنایا جاسکے ۔


