واشنگٹن (ہمگام نیوز ) مانیٹرنگ نیوز ڈیسک رپورٹس کے مطابق ایرانی میڈیا نے خبر جاری کیا ہے کہ تہران حکومت کے وزیر معیشت اور ان کے وفد کا امریکا کا اہم دورہ ویزا نہ ملنے کے باعث منسوخ کر دیا گیا ہے۔
ایرانی وزیر اور ان کا وفد عالمی بینک اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے امریکا جا رہا تھا۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی IRNA کے مطابق ایرانی وزیر فرہاد دژپسند نے جمعرات کے روز عالمی بینک کے سربراہ کو ایک خط ارسال کیا جس میں امریکی حکومت کی جانب سے ایرانی وفد کو ویزا جاری نہ کرنے پر سخت الفاظ میں احتجاج کیا۔
دژپسند نے خط میں واضح کیا کہ “امریکی حکومت کی جانب سے ایرانی ذمے داران پر عائد کی جانے والی قیود غیر قانونی ہیں”۔
ایران کی وزارت معیشت و مالیاتی امور نے اس سلسلے میں اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ “عالمی بینک کا منشور اس امر کو باور کراتا ہے کہ رکن ممالک کے اقتصادی وفود کے کام کو سیاست میں ملوث نہ کرنا لازم ہے. اور یہ (امریکی) پابندیاں اس منشورکی خلاف ورزی ہے”۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ ماہ ایک فیصلے کے ذریعے ایرانی ذمے داران اور ان کی اولاد کے امریکا میں داخلے پر پابندی عائد کر دی تھی۔
اس فیصلے کی وجہ تہران حکومت کا رویہ بتایا گیا تھا “جو دہشت گردی کی سرپرستی کر رہی ہے، انسانی بحرانات کے بڑھاوے میں کردار ادا کر رہی ہے اور اپنے پڑوسیوں کے لیے خطرات میں اضافے کا باعث بن رہی ہے۔
اس کے علاوہ ایرانی حکومت سمندری نقل و حمل کے لیےبڑا خطرہ بن چکی ہے۔ وہ سائبر حملوں کے ساتھ ساتھ امریکا کے شہریوں کو ظالمانہ طور سے حراست میں لے لیتی ہے”۔
دوسری جانب ایران کے امور کے لیے امریکا کے خصوصی نمائندے برائن ہوک یہ باور کرا چکے ہیں کہ “محمد جواد ظریف (ایرانی وزیر خارجہ) جیسے لوگوں نے اپنی اولاد کی تعلیم کے لیے امریکا کی سرزمین کو استعمال کیا اور اب وہ اپنے دیگر مفادات کے لیے امریکا پر سبّ و شتم کر رہے ہیں ۔یہ ایرانی ذمے داران کی منافقت کی واضح مثال ہے”۔


