تحریر: ممتاز بلوچ ہمگام کالم: زندگی میں انسان کے لئے سب سے قیمتی چیز اس کی جان ہوتی ہے، بیماری کی صورت میں پوری زندگی کی جمع پونجی تک زندگی بچانے کی خاطر لُٹا دیتا ہے۔ مضبوط سے مضبوط انسان بھی زندگی اور جان کے معاملے تک پہنچ کے تھوڑا سا کمزور پڑ جاتا ہے لیکن جب ہم دیکھتے ہیں کہ کچھ سرفروش ایسے بھی ہیں جو اس کو بھی مسکراتے ہوئے ایک مقصد کے لئے قربان کردیتے ہیں۔ ایسے سرفروش دنیا میں ہمیشہ کے لئے امر ہوجاتے ہیں جو ایک عظیم مقصد اور قومی شناخت کی خاطر اپنی جان سے بھی گزر جاتے ہیں مگر جاتے جاتے وہ ہمیں جھنجھوڑ کر جاتے ہیں کہ “کر چلے ہم فدا جان و تن ساتھیو، اب تمہارے حوالے وطن ساتھیو”۔   بلوچ سرزمین کی تاریخ ہمیں ایسے ہزاروں سرفروشوں سے شناسا کرتی ہے۔ جب جب بلوچ مادر وطن پر اغیار نے حملہ کیا ہے بلوچ وطن کے سرفروش فرزندان وطن نے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا ہے اور وطن کی حرمت، قوم کی غیرت و ننگ کی خاطر اپنے قیمتی سر پیش کردئے ہیں۔ اس فلسفے اور مقصد میں وہ قوم کو اپنے خون کی آبیاری کی صورت ایام غلامی سے نجات دلانے کی خاطر قربان ہوتے ہیں۔ بلوچ وطن کی تاریخ بہت خون آلود ہے، یہ خطہ قیمتی قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے اور محل وقوع کے سبب ہمیشہ سے بیرونی قبضہ گیروں کی للچائی ہوئی نظروں میں رہا ہے لیکن بلوچ قوم کے بہادر بیٹوں نے ثابت کردیا ہے کہ اس زمین کے غیرت مند بیٹے اپنی سرزمین کی حفاظت میں ہمیشہ اپنے سر دیتے رہیں گے۔   نومبر کا مہینہ ہے اور یوم شہدا بلوچستان کی آمد آمد ہے، اگر ہم یوم شہدا بلوچستان کی تاریخی پس منظر کو دیکھیں تو اغیار یا بیرونی حملہ آور قوتوں کے سامنے جو بلوچ وطن پر قبضہ کرنے کی غرض سے آئے ہوں کے مقابلے میں بے سروسامانی کے عالم میں دھرتی ماں کی حفاظت کرنے کے لئے نکلنے والوں کی شروعات یہیں سے ہوتی ہے جب بلوچستان پر قبضہ کرنے کی نیت سے انگریز بلوچ وطن پر حملہ آور ہوتے ہیں تو میر محراب خان اپنے ساتھیوں کے ساتھ ان کے مقابلے کے لئے میدان میں نکلتے ہیں باوجود اس کے کہ اپنی محدود طاقت و وسائل سے ان کو اچھی طرح سے یہ علم تھا کہ آگے شہادت ہے مگر وطن کی حفاظت ان کو اپنی جان سے زیادہ عزیز و اہم لگی۔ ان کو اس بات کا اچھی طرح سے ادراک تھا کہ مقبوضہ سرزمین کے باسی اپنی زبان، رسم و رواج سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں کیونکہ وطن پر قبضہ آپ کے تمام اختیارات آپ سے لے لیتا ہے اور اس بیرونی طاقت کی قدموں پر رکھ دیتا ہے جو آپ کے وطن پر قابض ہو۔ ان کو ایک بلوچ ہونے کی حیثیت سے اپنا دستار انگریزوں کی قدموں کے نیچے رکھنا منظور نہ تھا، انہوں نے فیصلہ کرلیا تھا کہ میں بلوچ ماؤں بہنوں کی “سریگ” (چادر) کے تقدس کی حفاظت اپنی جان دیکر کروں گا، یوں وہ بلوچ تاریخ میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے امر ہوگئے، آج جو بلوچ فرزند وطن کی آبیاری میں بے دریغ اپنے انمول سر کٹا کر بلوچ تاریخ میں امر ہوکر قومی وحدت کی حفاظت کررہے ہیں یہ وہی تسلسل ہے جو بلوچ وطن کی اغیار کے قبضے سے مکمل آزادی تک جاری و ساری رہے گا۔   مختلف آزادی پسند سیاسی پارٹیوں نے اس دن کو عقیدت و احترام سے منانے کا اعلان بھی کر رکھا ہے۔ سیاسی قائدین کے بیانات بھی اس دن کی اہمیت و افادیت کے حوالے سے آرہے ہیں۔ آزادی پسند کارکنان سوشل میڈیا پر بھی سرگرم ہیں اور اس دن کو پوری دنیا میں متعارف کرانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ لکھاری دوست اس حوالے سے مضامین لکھ رہے ہیں مگر میری نظر میں صرف یہ سب کچھ کرنا ہماری ذمہ داریوں کی ادائیگی نہیں ہے بلکہ انہوں نے تو جاتے جاتے کہہ دیا تھا کہ “کر چلے ہم فدا جان و تن ساتھیو اب تمہارے حوالے وطن ساتھیو” تو کیا ہم ان کی توقعات پر پورا اتر رہے ہیں؟ یہ سوال میں نہیں بلکہ وہ عظیم قومی شہدا اٹھا رہے ہیں جنہوں نے بلوچ و طن اور قومی شناخت کی خاطر اپنی جانیں نچھاور کیں۔ اگر ہم اس دن کو ایک یکجہتی اور یگانگت کی نظر سے دیکھیں تو یہ یکجہتی کی بھی علامت ہے، کیونکہ قومی یکجہتی ایسے ہی عوامل میں پنہاں ہے۔ جس طرح سے ایک زبان، ایک کلچر اور ایک وطن ہماری پہچان اور ہمیں قومی بندھن میں بندھنے کی علامات ہیں ٹھیک اُسی طرح قومی شہدا کے لئے مختص دن بھی ہمیں یکجہتی اور یگانگت کے بندھن میں باندھتا ہے۔   اگر باریک بینی سے قربان ہونے کے فلسفے اور اس کے پیچھے کی سائنس دیکھیں تو میری رائے میں صرف ایک دن ان کی قربانی کو یاد کرنا اور ایک دن ان سے مختص کرنا شائد ان کی عظیم قربانی کے ساتھ مکمل انصاف نہ ہوپائے۔ ان کی قربانی کی قدر اور اس کے ساتھ مکمل انصاف تب ہی کہا جاسکتا ہے جب ہم اپنی زندگیوں کے مقصد کو بھی ان کے مقصد کے ساتھ جوڈ دیں۔ ان کے مشن کو اپنی زندگی کا نمبر ایک بنائیں اور ان کے دیکھے ہوئے خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لئے میدان میں جدوجہد کریں تاکہ ان کی روحوں کے سامنے شرمسار ہونے سے بچ سکیں۔   میری نظر میں 13  نومبر اپنی تاریخ میں ایک تاریخ ہے جو شروعات ہے بلوچ وطن اور قومی ننگ کی حفاظت میں  جان سے جانے کی اور پھر ایک تسلسل ہے اسی روش پر چلنے کی جو بلوچ قومی بقا کا واحد ذریعہ و راستہ ہے۔ ایک قوم کی تشکیل اگر اتنا آسان ہوتا تو آج ہم سب کا دشمن پاکستان ایک قومی وحدت کی شکل اختیار کر چکا ہوتا مگر جس ارتقا کی قوم کو ضرورت ہوتی ہے اس میں سے قومی مقصد سے ہم آہنگی اور جڑے رہنا پہلی شرط ہے۔ بلوچ شہدا نے قوم کو ارتقا کی پٹڑی پر بہت ہی احسن طریقے سے ڈال دیا ہے اور اب اس کو آگے بڑھانا تاکہ قومی تشکیل ممکن ہوسکے بلوچ قوم کے ہر ایک فرد کا فرض اور اس کی اولین ذمہ داری ہے۔ اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا ہم اپنی قومی ذمہ داریوں اور اپنے اولین فرض سے شناسا ہیں یا پھر بس چار خوبصورت کلمات لکھنے اور شہدا کی تصاویر سجانے کو ہی قومی تشکیل میں اپنا کردار سمجھ چکے ہیں؟ یہ سوال ہم سب کو اپنے آپ سے، اپنے اندر کے انسان سے پوچھنا چاہئے۔   اگر بلوچ شہدا کے قربان ہونے کے فلسفے کو دیکھا جائے تو وہ نہ کسی جماعت و تنظیم اور نہ ہی کسی لیڈر و استاد کی خاطر ہیں بلکہ یہ عظیم قربانی کا جذبہ صرف قومی آزادی اور بلوچ وطن و قومی غیرت کی خاطر ہیں۔ بات اگر قومی ہو تو اس کو مشرق و مغرب، شمال جنوب، سردار مڈل کلاس اور میجر و کرنل میں تقسیم کرنا اس فلسفے سے بے وفائی اور دغا بازی ہے بلکہ اگر یوں کہا جائے کہ اس فلسفے کی بنیاد سے ایک بھونڈا اور بد صورت مذاق ہے تو غلط نہ ہوگا۔ قوم اگر بلوچستان کی تقسیم اور ڈیورنڈ و گولڈ سمتھ کی مصنوعی لکیروں کے وقت وطن کے کسی بھی حصے میں تھے یا اب ہیں وہ ہمارا حصہ ہیں اور اگر آج ہم اپنی چھوٹی چھوٹی دنیا اور وقتی مفادات کی خاطر قوم اور وطن کو تقسیم کرو اور حکومت کرو کی سازش کا شکار ہونے دیں گے تو میں حلفیہ کہتا ہوں کہ ہم قومی تشکیل میں کبھی بھی کامیاب نہیں ہوسکیں گے بلکہ یوں ہی تاریک راہوں میں مارے جاتے رہیں گے۔   اگر تقسیم کی بنیاد دیکھی جائے تو اس قومی تقسیم کی وجہ ہی ہماری قومی طاقت کو منتشر رکھنا تھا تاکہ دشمن کو ایک منظم مزاحمت کا سامنا نہ کرنا پڑے، اس تناظر میں ہماری سب سے پہلی ذمہ داری یہ ہونی چاہئے تھی کہ منتشر اور تقسیم شدہ قومی طاقت کو یکجا کرتے اور اس کو مزاحمت کی راہ پر گامزن کرتے مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہم نے اس تقسیم کو نہ صرف قبول کیا بلکہ اس سے رو گردانی کرتے وقت بے سر و پا دلائل بھی جھاڑتے ہیں تاکہ اس کو عین وقت اور قوم کی ضرورت کے طور پر دکھایا یا پیش کیا جاسکے، یقین کریں یہ کوئی قومی خدمت نہیں بلکہ یہ قومی تشکیل اور جدوجہد میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ بیگانگی اور لاتعلقی میں قومی تشکیل کبھی بھی ممکن نہیں ہوسکتی اور بد قسمتی سے اس وقت ہم بیگانگی اور لاتعلقی کی انتہا کو پہنچے ہوئے ہیں۔ یہ رویہ ہمیں بلوچ شہدا کا مجرم بنا رہا ہے۔   چلیں اس دفعہ 13  نومبر کو یاد گار بنائیں اور اس کو چار خوبصورت کلمات لکھنے یا بولنے اور شہدا کی تصاویر سجانے سے زیادہ وسعت دیں اور یہ عہد کریں کہ اس فلسفے کی بنیاد قومی آزادی و تشکیل کی ضروریات کو سمجھتے ہوئے ان کے مشن کو آگے بڑھائیں تاکہ ان کی عظیم قربانیوں کی لاج رکھی جاسکے مگر یہ صرف اس وقت ممکن ہوسکتا ہے جب ہمارا ایپروچ قومی ہو۔ گروہی ایپروچ اور وقتی مفادات کی چھتری تلے قومی مقصد کو حاصل کرنا اور اس کے پورا ہونے کے خواب دیکھنا میری نظر میں دیوانے کا خواب ہوگا، اور یہ امید لگانا کہ ان رویوں کے ساتھ شہدا کا خواب حقیقت کا روپ دھار لے گی میری نظر میں خیانت اور اپنے آپ کو دھوکا دینے کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔