ہمگام کالم : اس وقت دنیا کے نقشے پر امریکہ ایران تنازعہ روز بروز شدت پکڑتی جارہی یے ،جس میں ایک طرف سیاسی،عسکری و معاشی حوالے سے مضبوط طاقت امریکہ ، برطانیہ ،اسرائیل ، سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات ،بحرین اور ایران ہیں۔ جبکہ دوسری طرف سیاسی، معاشی و عسکری حوالے سے تنہائی کے شکار ایران و اس کے چھوٹے ، چھوٹے ملیشیاء اور امریکہ کی طرف سے ڈکلیئر کردہ دہشتگرد پاسداران انقلاب کے پروکسی مزہبی شدت پسند پالتو تنظیمیں ہیں۔
ماضی قریب میں ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے امریکہ کے سابقہ صدر اوبامہ انتظامیہ کی طرف سے دی گئی رعایت اور پھر ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اس ڈیل کو منقطع کرنے اور پھر ایران پر سخت ترین معاشی،سیاسی و عسکری پابندیاں لگانے کے بعد حالات واضح طور پر مشرق وسطیٰ میں بڑی طاقتوں کی نئے امکانی تبدیلیوں کی عکاسی کرتے ہیں۔ جس کے بعد یہ نتیجہ اخز کرنے میں کوئی مشکل نظر نہیں آرہی کہ دنیا کی طاقتیں مشرق وسطیٰ میں کس طرح منظم اور طویل منصوبہ بندی کے تحت مسلسل آگے بڑھ رہی ہیں۔
امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے بڑی چابکدستی سے صف بندی کرتے ہوئے اپنا جنگی رسہ ایران کے گرد پھیلا دیا ، جس کے بعد ایران کی جانب سے سعودی عرب کے تیل کی تنصیبات پر حملہ، تیل بردار بحری ٹینکروں پر دہشتگردانہ حملہ کرکے ان کو نقصان پہنچانا اور پھر امریکی ڈرون طیارہ مار گرانا، ایرانی پراکسیوں کے ٹھکانوں پر امریکی حملے کے بعد عراق میں امریکی سفارت خانے پر حملہ ایران کی جانب سے جنگ کے لئے کھلی دعوت کے طور پر لیا جانے لگا، جس کے جواب میں امریکہ کی جانب سے ایران کی پراکسیوں پر حملے، سپاہ پاسداران انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے بعد اس پر پابندی عائد کرنے اور اب براہ راست ایران کے دوسرے سب سے اعلی جنرل قاسم سلیمانی پر ڈرون سے حملہ کرکے اس کو 8 ساتھیوں سمیت ہلاک کرنے کے بعد امریکہ نے بظاہر ایران کو یہ واضع پیغام دیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف مکمل طور پر فیصلہ کن مرحلے کی جانب بڑھ رہی ہے۔ اپنے جنرل اور سپاہ پاسداران کے سربراہ جو مبینہ طور پر دنیا میں ایران کی پراکسیوں کا مرکزی ہینڈلر بتایا جاتا ہے ،سلیمانی کی امریکی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد ایران نے دھمکی دی ہے کہ وہ اس کا بدلہ اور انتقام لے گا۔ ایرانی قیادت کی جانب سے بیان شائع ہوتے ہی عراق میں امریکی سفارت خانے اور بیس پر 17 کے قریب بیلیسٹک میزائل داغے گئے،جس کے نتیجے میں کوئی امریکی جانی نقصان نہیں ہوا ۔
امریکی صدر نے بھی بیان جاری کیا ہے کہ کسی بھی جارحیت کی صورت میں وہ ایران کو تباہ کُن انداز میں نشانہ بنائیگی۔
یہ صورتحال مشرق وسطیٰ میں جنگی کیفیت کی صاف انداز میں نشاندہی کرتا ہے ۔
مشرق وسطی کے خطے میں طاقت کی توازن ایک حد تک واضح نظر آرہی ہے جس میں ایران اور اس کے حمایتی چھوٹے ملیشیاء و پروکسی ایک طرف ہیں اور دوسری طرف سعودی عرب سمیت دیگر عرب ریاستیں، اسرائیل، برطانیہ، یورپ اور امریکہ صف بندی کئے ہوئے ہیں۔ ایسی صورت میں طاقت کا توازن امریکہ و اس کے اتحادیوں کی جانب واضع نظر آرہا ہے اور اس تمام صورت حال میں پاکستان ایک دفعہ پھر کھوٹے پر بیٹھے طوائف کی طرح گاہکوں کی طرف سے مختلف قیمتوں اور پیشکش کو للچائی نظروں سے دیکھ رہا ہے کہ جس کی طرف سے مال زیادہ ہوگا جھکاؤ اسی طرف ہوگا اور ایک دفعہ پھر ریاست اور اس کی کرایے کی فوج بکاؤ مال کی طرح عالمی مارکیٹ میں برائے فروخت کی تختی لگائے انتظار کررہا ہے۔
اس تمام منظر نامے میں بلوچ قیادت پر سب سے زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ کیا قومی پالیسی اختیار کرتے ہیں جس سے جیو انٹر نیشنل اور ریجنل سیاسی منظر نامے میں وسیع تر بلوچ قومی مفاد اور سرزمین کا دفاع ممکن ہو سکے !
ایک خیال یہ بھی ہے کہ امریکہ دنیا میں ریاستی و غیر ریاستی عناصر کیلئے قابل اعتبار اتحادی نہیں رہی ۔ کیونکہ صدام حسین سے لیکر کرد عوام تک امریکہ نے کس طرح سے کب کس کے ساتھ کیا سلوک کیا وہ تاریخ کے پنوں پر ہمیشہ محفوظ رہے گا مگر پاکستان کے ساتھ امریکی تعلقات ساس بہو کی مصداق اچھے برے رہتے رہے ہیں اور امریکہ اپنے مفادات کے تحت پاکستان کو جس طرح چاہے استعمال کرتا رہے گا۔ مگر ایک بات صاف اور واضح ہے کہ پاکستان سے امریکی قرابت اس وقت تک جاری رہیگا جب تک امریکہ اپنے اسٹریٹیجک اہداف حاصل نہیں کرلیتا، اس تناظر میں یہ بات نہایت ہی اہمیت کا حامل ہے کہ پاکستان کی حالیہ صورتحال امریکہ کے لئے بلکل بھی پریشان کُن نہیں کہ جس سے امریکہ کسی طور پر بھی پریشانی کا شکار ہو، جسے بنیاد بنا کر بلوچ اپنی پالیسی بنانے اور اس پر عمل کرنے میں کسی سطح پر پریشانی کا شکار رہے۔ میرے نظر میں ایران پاکستان سے زیادہ مستحکم مقام کے ساتھ دنیا میں موجود تھا اور جس تھکا دینے والے تناؤ کے ساتھ مغرب ایران سے پنجہ آزمائی کرتا رہا ہے اس کا معمولی سا دباو بھی پاکستان برداشت نہیں کرسکے گا لہٰذا پاکستان کو غیر مستحکم کرنے میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو زیادہ محنت کرنے کی ضرورت بھی نہیں پڑے گی۔ اب اگر بلوچ قیادت میں ایک خاص گروہ ایران سے قربت اختیار کرلیتا ہے تو اس کے نتائج داخلی و خارجی سطح پر بلوچ قومی تحریک آزادی پر بہت ہی منفی اثرات چھوڑے گا کیونکہ ایک طرف تو امریکہ اور اس کے اتحادی ہیں جو دنیا میں طاقت کے مرکز کے طور پر جانے جاتے ہیں تو دوسری طرف چین کی موجودگی بھی کسی صورت نظر انداز نہیں کی جاسکتی جو بوجہ امریکی مخالفت ایران کی طرف جھکاؤ رکھے گا، اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے جو بلوچ تنظیمیں قومی تحریک آزادی میں برسرپیکار ہیں کیا ایران سے ان کی قربت لاشعوری انداز میں چین کی طرف داری تو نہیں؟
بلوچ سرزمین پر قابض پاکستان و ایران ایک ہی زاویے سے دیکھے جانے چاہئے تھے مگر بد قسمتی سے کچھ بلوچ تنظیمیں ایران سے ساز باز کر کے اپنے وقتی مفادات کی تکمیل کے لئے وسیع تر بلوچ قومی مفادات کے خلاف جاکر ان کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور اس فیصلہ کن مرحلے میں اگر اب بھی وہ اسی پالیسی پر گامزن رہتے ہیں تو یہ عمل تاریخ میں ایک طویل مدت کیلئے قومی نقصان پر منتج ہو گا۔اس سچ سے انکار ممکن نہیں کہ امریکہ کی جانب سے بلوچ کو یکسر نظر انداز کیا گیا ہے مگر یہ بھی ایک سچ ہی ہے کہ جب تک ہمارے بڑے ایران کے ہاں گروی نہ تھے اس وقت تک امریکہ نے بلوچ قومی تحریک کے خلاف بھی کوئی قدم نہیں اٹھایا۔
اس تناظر میں اگر دیکھا جائے تو اس سے بلکل انکار ممکن نہیں کہ سفارت خانوں اور پبلک پلیسز پر حملے شائد کسی زاویے میں اس بنیاد پر کروائے گئے کہ امریکہ سمیت عالمی رائے عامہ کو بلوچ قومی تحریک آزادی کے خلاف استعمال کیا جاسکے، اور قوی امکان ہے کہ اس تمام تر عمل میں چین بذات خود سہولت کار تھا تاکہ دنیا کو مجبور کیا جاسکے کہ وہ بلوچ قومی تحریک کے حوالے سے ایک نقطے پر اتفاق کرلیں۔
اگر چیچنوں کے ساتھ ہونے والے ایسی نوعیت کے واقعات دیکھے جائیں تو ہمیں انتہائی آسانی سے چیزیں واضح نظر آئیں گی کہ چیچن بلوچ سے زیادہ طاقت ور تھے، تعداد میں بھی زیادہ تھے، ہتھیار بھی زیادہ اور جدید رکھتے تھے اور عالمی توجہ بھی بلوچ سے زیادہ حاصل کئے ہوئے تھے یہی حال تامل باغیوں کا بھی تھا مگر دونوں دنیا کی پالیسی ساز ممالک کی نوٹس بورڈ سے لاپتہ ہوگئے، اگر سوال اٹھے کہ کیوں تو جواب بہت ہی آسان اور سمجھ آنے والا ہے کہ عالمی سیاست کی داو پیچ کو نہ سمجھ کر اپنے جنگی جرائم سے قربت رکھنے والی کاروائیوں سے۔ چیچن جنگجوؤں کے بارے میں مصدقہ انداز میں یہ اطلاعات تھیں کہ جب روس کسی طرح بھی چیچن کے خلاف فیصلہ کن انداز میں کامیابیاں حاصل کرنے میں ناکام ہوا تو روسی خفیہ ایجنسیوں نے باقاعدہ طور اپنے جنگجو چیچنوں میں شامل کئے، اس لئے نہیں کہ وہ چیچنوں کی مخبری کریں بلکہ اس لئے کہ وہ ایسے پالیسی ترتیب دے جس سے ایسی کاروائیاں انجام دے ، جس سے عالمی رائے عامہ ان کے خلاف بنائی جاسکے تاکہ ان کے خلاف تشدد اور طاقت کے بے دریغ استعمال کی جواز پیدا کی جاسکے۔ اگر چیچن جنگجوؤں کی طرف سے کی جانے والی بڑی کاروائیوں پر ایک نظر دوڑائی جائے جو جنگی جرائم میں شُمار ہوتے ہیں تو ان میں ایک بڑی کاروائی ماسکو تھئیٹر (سینما) پر حملہ اور عام لوگوں کو بندی بنانا ایک بڑی کاروائی تھی جو 23 اکتوبر 2002 کو پیش آئی جب چالیس کے قریب مسلح افراد نے سینما پر حملہ کرکے 700 لوگوں کو یرغمال بناکر یہ مطالبہ کردیا گیا کہ روس چیچنیا سے نکل جائے۔ چونکہ یہ حملہ ایک پبلک پلیس پر کیا گیا تھا اور اس کا نشانہ بننے والے عام لوگ (سویلین) تھے اس لئے اس کو جنگی جرم تصور کیا گیا۔ اس کے علاوہ گروزنی میں بسلان اسکول پر چیچنوں کا مسلح حملہ بھی اسی نوعیت کا حملہ تھا جہاں پر 1 ستمبر 2004 کو 32 مسلح نقاب پوشوں نے بیسلان اسکول پر حملہ کرکے ایک ہزار کے قریب افراد کو یرغمال بنالیا گیا جس میں زیادہ تر تعداد بچوں کی تھی جنکی عمر 6 سے 16 سال کے درمیان تھی۔ روسی آرمی کی کاروائی کے نتیجے میں دونوں اطراف لڑائی سے 331 عام لوگ مارے گئے۔ ان دو بڑی کاروائیوں کے علاوہ بھی کئی دیگر کاروائیاں کی گئیں جس میں عام لوگ نشانہ بنے اور انہی کاروائیوں کو بنیاد بنا کر چیچن جنگجوؤں کے خلاف رائے عامہ تخلیق کی گئی اور ان کے خلاف بے رحم و بے دریغ طاقت کا استعمال کیا گیا، دنیا نے اپنی آنکھیں بند کرلیں اور چیچنیا سے منہ پھیر لیا۔ بہت سے تجزیہ کار یہ کہتے ہیں کہ چیچنوں کی تحریک کو روس نے یرغمال بنا کر اس میں اپنے لوگ شامل کئے تھے جہاں انہوں نے ان کی تحریک کا رخ پوری طرح سے موڈ دیا تھا تاکہ روس کو بے دریغ طاقت کے استعمال کا موقع مل سکے اور دنیا اس پر کوئی رد عمل بھی نہ دے سکے ۔ بلا آخر روس اپنے مقصد میں کامیاب ہوگیا اور چیچنوں کے خلاف فیصلہ کن کاروائی کرتے ہوئے ان کی تحریک آزادی کو ختم کردیا۔
اگر ان واقعات اور جیہند گروپ کے نام سے سرانجام دئیے گئے واقعات کا جائزہ لیا جائے تو یہ شکوک و شبہات زیادہ جنم لیتے ہیں کہ اس میں کافی امکانات ہیں کہ ایران کے ذریعے بلوچ جدوجہد قومی آزادی کے اندر بھی اس طرح کی دخل اندازی کی گئی ہو تاکہ بلوچ قومی آزادی کی جنگ کے خلاف رائے عامہ ہموار کرنے میں مدد مل سکے۔ بلوچ کی جنگ تو ابھی تک طفلی مرحلے میں ہے جبکہ چیچنیا کی جنگ عالمی توجہ حاصل کرنے میں بلوچ کے مقابلے میں بہت زیادہ عالمی توجہ حاصل کرچکی تھی جہاں یورپ، امریکہ سمیت دنیا کے دیگر ممالک سے لوگ باقاعدہ اس جنگ میں شرکت کرنے کے مسلح ہوکر شریک تھے جبکہ بلوچ کو اب تک دنیا میں بہت ہی کم اہمیت مل سکی ہے، ایسے میں اگر بلوچ اپنی طفلی مرحلے میں اس طرح کے واقعات میں ملوث ہوتے ہیں تو وقت سے پہلے ہی دنیا اپنی آنکھیں بند کرلے گی جس کا آغاز امریکہ نے بلوچ لبریشن آرمی پر پابندی لگا کر کردیا ہے۔ میرے نظر میں اگر اس کو ایران سے قربت کا نتیجہ کہا جائے تو بالکل غلط نہ ہوگا۔
میرا موضوع تو امریکہ ایران تنازعے پر بلوچ تنظیموں کی حکمت عملی تھا مگر بات تھوڑی سی آگے نکل گئی کیونکہ یہ ذکر کرنا بھی نہایت ہی ضروری تھا۔ اس وقت ایران کی طرف داری کرنا دراصل چین کی طرفداری کے مترادف ہوگا۔ بلوچ قیادت کو چاہئیے کہ وہ ایران کو لیکر ایک واضح موقف کے ساتھ اپنی ڈائریکشن کا انتخاب کرے کیونکہ اس فیصلہ کن مرحلے میں شائد ایران پر امریکی حملے کی صورت میں بلوچ اپنی محل وقوع کی اہمیت کے بوجوع ایک اہم اسٹیک ہولڈر کی حیثیت سے سامنے آئے تاکہ اگر کل دنیا اس خطے کا فیصلہ کرنے لگے تو بلوچ کو نظر انداز نہ کیا جاسکے۔















