قطر (ہمگام نیوز) مانیٹرنگ نیوز ڈیسک رپورٹس کے مطابق قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہونے والے اس معاہدے میں طالبان کی جانب سے افغانستان کی سرزمین کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے کی ضمانت دی جائے گی جبکہ امریکی افواج بتدریج افغانستان سے نکل جائیں گی۔
معاہدے پر دستخط کی تقریب میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی پاکستان کی نمائندگی کریں گے اور اس موقع پر 50 ممالک کے نمائندوں کی شرکت بھی متوقع ہے جبکہ معاہدے پر دستخط کے پیِشِ نظر طالبان کا 31 رکنی وفد قطر کے دارالحکومت پہنچا ۔
فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق اس موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغان عوام پر نئے مستقبل سے فائدہ اٹھانے کے لیے زور دیتے ہوئے کہا کہ اس معاہدے سے 18 سالہ تنازع ختم ہونے کا امکان ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر طالبان اور افغانستان کی حکومت ان وعدوں پر قائم رہتے ہیں تو ہمارے پاس افغانستان میں جنگ ختم کرنے اور اپنے فوجیوں کو گھر واپس لانے کا بہترین راستہ ہوگا‘۔
امریکی صد نے کہا کہ وہ امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مائیک پومپیو کو معاہدے پر دستخط کا مشاہدہ کرنے کے لیے بھیج رہے ہیں اور سیکریٹری دفاع مارک ایسپر کابل حکومت کے ساتھ علیحدہ سے مشترکہ اعلامیہ جاری کریں گے۔
مذکورہ معاہدے کے نتیجے میں کابل حکومت اور طالبان میں بات چیت ہونے کی توقع ہے جو اگر کامیاب ہوئے تو افغان جنگ بالآخر اختتام پذیر ہوجائے گی۔
تاہم اس حوالے سے افغان حکومت کی پوزیشن اب تک غیر واضح ہے جسے امریکا اور طالبان کے درمیان ہونے والے براہِ راست مذاکرات سے الگ رکھا گیا تھا۔ افغان حکومت کے ذرائع نے بتایا کہ دوحہ میں طالبان سے معاہدہ ہوجانے کے بعد امریکا کابل میں افغان حکومت کے ساتھ ایک علیحدہ تقریب منعقد کرے گا۔
یہ بات مدِ نظر رہے کہ معاہدے پر دستخط سے قبل ایک ہفتے تک دونوں فریقین نے باہمی اعتماد سازی کے لیئے تشدد میں کمی کے سمجھوتے پر عمل کیا تھا۔
خیال رہے کہ امریکا کے 12 سے 13 ہزار فوجی اس وقت افغانستان میں موجود ہیں جس میں معاہدے کے چند ماہ کے عرصے میں کمی کر کے 8 ہزار 600 کردی جائے گی جبکہ مزید کمی طالبان کی افغان حکومت سے روابط پر منحصر ہے جنہیں وہ کٹھ پتلی حکومت کہتے آرہے ہیں۔
واضح رہے کہ امریکا اور طالبان کے درمیان افغانستان میں جنگ کے خاتمے اور امریکی افواج کے انخلا کے لیے بات چیت کا سلسلہ تقریباً ڈیڑھ برس سے جاری تھا جس میں طالبان کے حملے میں امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے باعث گزشتہ برس ستمبر میں تعطل آیا تھا تاہم مذاکرات دسمبر میں بحال ہوگئے تھے۔برطانوی نشریاتی ادارے انڈیپینڈنٹ اردو سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے طالبان رہنما اور پاکستان میں طالبان حکومت کے سابق سفارتکار ملا عبدالسلام ضعیف نے کہا کہ طالبان کے لیے معاہدے کی شرائط سخت نہیں ہے سوائے اس کے کہ افغان تنازع سیاسی بات چیت کے ذریعے حل ہو۔انہوں نے کہا کہ طالبان نے اس پر مشورہ بھی کیا ہے کیوں کہ طالبان نہیں چاہتے کہ سوویت یونین کے نکلنے کے بعد افغانستان میں مجاہدین والا تجربہ دوبارہ دہرایا جائے بلکہ ان کی خواہش ہے کہ جنگ کے بعد افغانستان میں سیاسی عمل شروع ہو جو صلح اور اتفاق سے ہی ممکن ہے جو افغانوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا۔2008 میں امریکہ اور دنیا کی سوچ میں تبدیلی پیدا ہوئی کہ افغانستان کو طاقت کے استعمال سے نہیں چلایا جا سکتا، بلکہ ایک سیاسی عمل کی ضرورت ہے لیکن طالبان نے وہ سب کچھ اس طرح نہیں مانا جس طرح امریکا چاہتا تھا تو طالبان کی سوچ میں نہیں بلکہ دراصل امریکا کی سوچ میں تبدیلی پیدا ہوئی ہے۔


