کراچی (ہمگام نیوز ) مانیٹرنگ نیوز ڈیسک رپورٹس کے مطابق امریکی ڈالر کی قدر پاکستانی کرنسی کے مقابلے میں 165 روپے کا ہوگیا ۔ جس کے نتیجے میں پاکستان کے بیرونی قرضوں میں اربوں روپے کا مزید اضافہ ہوگیا۔
روپے کی قدر میں مسلسل کمی اور ڈالر کی تیزی سے اڑان جاری ہے۔ آج انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر مزید ساڑھے 3 روپے مہنگا ہوکر پاکستانی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔
فاریکس ڈیلرز کے مطابق انٹربینک میں ڈالر 3 روپے 40 پیسے مہنگا ہوکر 165 روپے پر پہنچ گیا۔ ڈالر آج 9 ماہ بعد اتنی مہنگی سطح پر ٹریڈ ہوا جبکہ انٹر بینک میں امریکی کرنسی کی قدر میں 3 روز کے دوران 6 روپے 33 پیسے کا اضافہ ہوچکا ہے۔
ڈالر کی قدر میں ہوشربا اضافے کے باعث پاکستان پر قرضوں کے بوجھ میں اربوں روپے کا اضافہ ہو گیا ہے۔ غیر ملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے گھریلو قرضوں اور اسٹاک مارکیٹوں سے قلیل مدتی سرمایہ کاری نکالنے سے روپے کی قدر میں گراوٹ آئی۔ اقتصادی ماہرین کے مطابق موجودہ حکومت کی جانب سے شرح سود میں ڈیڑھ فیصد کمی کے باعث سرمایہ کار پاکستان سے اپنا پیسہ تیزی نکال رہے ہیں۔
جو ڈالر مہنگا ہونے کا سبب بن رہا ہے۔اسٹیٹ بینک کے گورنر رضا باقر نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کے باعث غیرملکی سرمایہ کار نقد رقم کو ہاتھ میں رکھنے کے لئے پاکستان سمیت دنیا بھر سے اپنی سرمایہ کاری واپس نکال رہے ہیں۔
عارف حبیب لمیٹڈ کے ہیڈ آف ریسرچ سمیع اللہ طارق نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسٹیٹ بینک کے اعدادوشمار کے مطابق ، پچھلے تین ہفتوں میں غیر ملکی سرمایہ کاروں نے حکومتی قرضوں کی سیکیورٹیز سے 1.56 بلین ڈالر کی قلیل مدتی سرمایہ کاری واپس لے لی ہے، جس کے نتیجے میں روپیہ پر دباؤ اس وقت بڑھ گیا۔


