یکشنبه, مارچ 8, 2026
Homeخبریںایران کے زیر قبضہ بلوچستان کی گزشتہ ایک ماہ کی صورتحال

ایران کے زیر قبضہ بلوچستان کی گزشتہ ایک ماہ کی صورتحال

 

ہمگام رپورٹ: ایران کے زیر قبضہ بلوچستان میں گزشتہ ماہ فروری کے آخری دنوں اور رواں ماہ مارچ کے تمام حالات کی رپورٹ جس میں قابض ایرانی پولیس، سپاہ پاسداران انقلاب اور ریاستی حمایت یافتہ ڈیتھ اسکواڈ و خفیہ انٹیلی جنس کی فائرنگ سے قتل ہونے والے بلوچ
شامل ہیں۔

اس کے علاوہ ایرانی خفیہ انٹلیجنس اینجنسی کے ہاتھوں جبری طور اغوا کیئے گئے غیر مسلح بلوچ فرزندوں کی رپورٹ بھی شامل ہے ۔ مقبوضہ مغربی بلوچستان کے مختلف علاقوں کے احوال درج ذیل ہیں۔
بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں مواصلات کے نظام میں مشکلات و سیکیورٹی رسک کی وجہ سے مختلف علاقہ جات کی تفصیلات اس رپورٹ میں شامل نہیں ہیں۔
ـ
فروری کی 27 تاریخ کے دن ایرانی خفیہ ایجنسی نے ایک بلوچ عالم دین مولوی محمد قلندرزھی کو دزاپ/ زاھدان میں اس کے گھر میں چادر و چار دیواری کو پامال کرتے ہوئے چھاپہ مار کر گرفتار کرنے کے بعد فوجی ٹارچر سیلوں میں منتقل کر دیا۔ـ

29 فروری کو ایک بلوچ اسیر بنام عبدالباسط بہادین کو جیل میں ہی شدید تشدد کے بعد بے ہوشی کی حالت میں دزاپ/ زاھدان کے بوعلی ہسپتال میں علاج کے لیئے قابض ایرانی درندہ صفت پولیس لے جا رہی تھی کہ راستے میں ہی دم تھوڑ کر شہید ہوگئے۔ـ

یکم مارچ کو کلاھی بندن بندرعباس/گمبرون کے رہائشی حسین ملاحی ولد اسحاق بلوچ ساحل سمندر پر ایرانی نیوی کی فائرنگ سے شہید ہوگئے۔ـ

2 مارچ کو ایرانی فورس “مرصاد ” نے ایک بلوچ سوتخبر( تیل کش) کو فائرنگ کرکے زخمی کر دیا ۔

2 مارچ ہی کو بلوچ طالبعلم عبدالغفار شہدادزھی کو ایرانی انٹلیجنس ادارے کے اہلکاروں نے اغوا کرلیا اور اسے تحویل میں رکھ کر تشدد کے چند دن بعد رہا کر دیا۔ ـ

4 مارچ کو پاکستانی مقبوضہ بلوچستان سے دو سیاسی کارکن رحمدل بلوچ اور علی بلوچ کو چابھار و شستون/ سراوان میں ایرانی انٹیلیجنس کی حمایت یافتہ ڈیتھ اسکواڈ نے فائرنگ کرکے شہید کر دیا۔

8 مارچ کو دزاپ/ زاھدان میں ایرانی فورس کے ساتھ جھڑپ میں مسلح تنظیم کا ایک رکن الیاس ناروھی شہید ہوگیا۔

11 مارچ کو قابض ایرانی پولیس نے دو بلوچوں کو دزاپ/ زاھدان میں فائرنگ کرکے زخمی کر دیا تھا۔ واقعے کے بعد عوام مشتعل ہوکر پولیس کے خلاف احتجاج کرنے لگے۔ عوامی مظاہرے کے دوران درندہ صفت پولیس نے مظاہرین پر فائرنگ شروع کردی جس کے نتیجے میں چار مظاہرین شدید زخمی ہوگئے۔ـ

12 مارچ کو دزاپ/زاھدان سے ہاتھ باندھے ہوئے تشدد زدہ ایک نامعلوم شخص کی لاش ویرانے میں ملی تھی جسے ہسپتال منتقل کر دیا گیا تھا تاحال اس شخص کے لواحقین کے بارے میں کسی کو معلوم نہ ہو سکا۔ـ

14 مارچ کو ھُنگ کے رہائشی آصف الللہ زھی کو قابض ایرانی پولیس نے فائرنگ کرکے شہید کر دیا۔ آصف پیٹرول کے کاروبار سے منسلک تھا۔ـ

17 مارچ کو دزاپ/زاھدان میں پولیس نے ایک بلوچ عالم دین حافظ اصغر کوھی کو گرفتار کرکے جیل منتقل کر دیا۔ـ حافظ اصغر کوھی کا جرم یہ تھا کہ وہ مشہور و معروف بلوچ قوم دوست عالم دین مولانا کوھی کے قابض ایرانی پولیس کے ہاتھوں گرفتاری کے خلاف ایرانی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے تھے۔
ـ
17 مارچ کو پہرہ/ایرانشہر کے علاقے چاہ جمال میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے ایک بلوچ نوجوان شہید جبکہ ایک شخص زخمی ہوگیا تھا زخمی شخص کا نام علی بامری تھا اور مرنے والے کے بارے میں ابھی تک مزید معلومات دستیاب نہیں ہوسکیں۔ ـ

17 مارچ کو پہرہ/ ایرانشہر میں مسلح افراد نے مھمدان کے علاقے میں ایک گھر میں گھس کر ایک بلوچ فرزند کو قتل کر دیا۔ـ

18 مارچ کو شستون/سراوان سے تعلق رکھنے والے ایک بلوچ نوجوان امین رؤفی کو قابض ایرانی سپاہ پاسداران انقلاب ( IRGC) کے پروردہ ڈیتھ اسکواڈ نے فائرنگ کرکے قتل کر دیا ـ

22 مارچ کو قابض ایرانی پولیس کی فائرنگ سے ابتر کے رہائشی پرامرز سپیدکار ولد محمد رضا جانبحق ہوگئے ـ

22 مارچ کو قابض ایران کی انٹلیجنس ایجنسی کے اہلکاروں نے چار بلوچ حبیب علی، عبدالرحیم جمالی، عبدالکریم ھملی اور عبدالواحد بلوچی کو گرفتار کرکے تفتیش کے لیئے فوجی اذیت خانوں میں منتقل کر دیا۔ـ

23 مارچ ہی کو سرباز کے ایک رہائشی اشرف حسین زھی ایک ندی میں ڈوب کر جانبحق ہوگئے۔

24 مارچ کو مہ گس/ مہرستان میں قابض ایرانی خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں نے حافظ عبدالرشید کو گرفتار کرکے فوجی اذیت خانوں میں منتقل کر دیا۔ ـ

28 مارچ کو واش/خاش میں قابض ایرانی پولیس اور نامعلوم مسلح افراد کے درمیان جھڑپ میں 8افراد زخمی ہوگئے۔ پولیس کے بھی کئی اہلکاروں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ـ

یہ بھی پڑھیں

فیچرز